وَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰۖ وَأَقِمۡنَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتِينَ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِعۡنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُذۡهِبَ عَنكُمُ ٱلرِّجۡسَ أَهۡلَ ٱلۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيرٗا
Stay in your houses and do not flaunt your finery like the former [days of pagan] ignorance. Maintain the prayer and pay the zakat, and obey Allah and His Apostle. Indeed Allah desires to repel all impurity from you, O People of the Household, and purify you with a thorough purification.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 33:28-34
Later part of Couplet 33 refers exclusively to Divine Lights of the Prophet’s family and is misplaced here. Most renowned Sunni Commentators also agree to this claim.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:32-34
3- خدا کا ارادہ تشریعی ہے یاتکوینی
3- خدا کا ارادہ تشریعی ہے یاتکوینی : ہم نے آیت کی تفسیر کے دوران میں اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے کہ "انما یرید الله ليذهب عنكم الرجس" میں ارادہ سے مراد اراده تشریعی نہیں بلکہ اردۂ تکوینی ہے۔ مزید وضاحت کے لیے ضروری ہے کہ ہم ذہین نشیں کریں کہ اراده تشریعی سے مرادخدا کے اوا مرونواہی ہیں۔ مثلًا خدا ہم سے نماز ، روزه ، حج و جہاد وغیرہ چاہتاہے اور یہی ارادہ تشریعی ہے ۔ معلوم ہوا کہ اردۂ تشریعی کا ہمارے اعمال کے ساتھ تعلق ہوتا ہے نہ کہ خدا کے افعال کے ساتھ۔ حالانکہ زیر بحث آیت میں ارادے کا تعلق خدا کے فعل کے ساتھ ہے ، قرآن کہتاہے: خدانے ارادہ کیا ہے تم اہل بیت سے ہر قسم کی نجاست اور پلیدی کو دور رکھے اس بناء پراس قسم کاارادہ تکوینی ہونا چاہیے جو عالم تکوین میں خدا کی مشیت سے مربوط ہے۔ مزید براں پاکیزگی اور تقوٰے کے سلسلہ میں ارادہ تشریعي کامسئلہ اہل بیت کے ساتھ مخصوص نہیں رہتا، کیونکہ خدا نے توسب لوگوں کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ پاک ہوں اور تقوٰے اختیار کریں اور اہل بیت کے لیے کوئی اعزاز نہیں ہوگا کیونکہ تمام مکلف اسی حکم میں شامل ہیں۔ بہرحال یہ موضوع یعنی ارادہ تشریعی نہ صرف یہ کہ ظاہرآیت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں بلکہ گذشتہ آیات کے ساتھ بھی کسی طرح مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ وہ سب احادیث ایک اعلی خصوصیت اور زبردست قدرو قیمت کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں جو اہلبیت کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہ بھی مسلم ہے کہ "رجس" یہاں پر ظاہری نجاست کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ پانی ناپاکیوں کی طرف اشارہ ہے اور اسے شرک وکفراور منافی عفت اعمال وغیرہ میں محدود نہیں کیا جاسکتا اور ہرقسم کے اعتقادی ، اخلاقی اور عملی گناہ اور آلودگیاں اس میں شامل ہیں۔ دوسرانکتہ جس کی طرف غور سے توجہ کرنا چاہئے یہ ہے کہ اراده تکوینی جو خلقت آفرنیش کے معنی میں ہے یہاں مقتضی کے مفہوم میں ہے کہ علت نامہ کے معنی میں ، جوموجب جبرواکراہ اور باعث سلب اختیار ہوتا ہے ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ مقام عصمت تقوائے الہی کی ایک حالت ہے جو پروردگار کی مدد سے انبیاء اور ائمہ میں پیدا ہوتی ہے ، لیکن اس حالت کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ وہ گناہ نہ کرسکیں بلکہ وہ اس کام کی قدرت رکھتے ہیں لیکن اپنے ارادہ واختيار ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 صحیح بخاری اور صحیح مسلم ،المراجعات ص 229 خط 72 کے مطابق - ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ کے ساتھ گناہ کے نزدیک نہیں جاتے۔ بالکل اس ماہر طبیب کی مانندہ کسی زہریلی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتا کیونکہ وہ اس کے یقینی خطرات سے آگاہ ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ اس پر قدرت رکھتا ہے لیکن اس کی بصریت اور فکری دروحانی تقاضے اس امرکا سبب بنتے ہیں کہ وہ اپنے ارادہ و اختیار سے دست بردار ہو جائے۔ یہاں اس نکتے کو یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ یہ خدائی تقوٰی اس کی خاص دین ، عطیہ اورنعمت ہے تو اس نے انبیاء مرسلین اورآئمہ اطہار علیہم السلام کو عطا فرمایا ہے نہ کہ دوسرے لوگوں کو ۔ لیکن توجہ رہے کہ خدا نے یہ اعزاز انھیں رہبری اور قیادت کی بھاری ذمہ داری نبھانے کی بناء پر عطا فرمایا ہے اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس کا فائدہ سب کو پہنچتا ہے اور یہ عین عدالت ہے ، بعینہ اس خاص امتیاز کے مانند جو خدا نے آنکھ کے نازک اور بہت ہی حساس پرودوں کودیا ہے جن سے سارا بدن فائده اٹھاتا ہے۔ علاوہ ازیں انبیاء اور آئمہ جس قدر اعزازات کے حامل ہیں اور عنایات الٰہیہ ان کے شامل حال ہیں اسی قدر ان کی ذمہ داری بھی سخت ہوتی ہے اور ان کا ایک ترک اولٰی ؑام افراد کے ایک عظیم گناہ کے برابر شمار ہوتا ہے۔ یہی امر عدالت الٰہی کو واضح کرتاہے۔ مختصریہ کہ یہ ارادہ مقتضی کی صورت میں ارادہ تکوینی ہے (نہ کہ علت تامہ) اوراس کے باوجود تو موجب جبر ہے اور نہ ہی اعزاز کو سلب کرتا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:32-34
1- آیت تطہیر عصمت کی واضح دلیل
1- آیت تطہیر عصمت کی واضح دلیل: بعض مفسرین " رجس" کو آیت میں صرف شرک یا زنا جیسے گناہان کبیرہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جبکہ اس محدودیت کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ " الزجس" کا "اطلاق" (اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اس کا الف اور لام ، جنس کے لیے ہے) ہرقسم کی ناپاکی اورگناہ کا مفہوم لیے ہوئے ہے کیونکہ برگناہ "رجس" ہے اسی لیے یہ لفظ قرآن میں "شرک" "الکحل والے مشروبات" "جوا" "نفاق" "حرام وناپاک گوشت" اور اس قسم کی دوسری چیزوں کے معنی میں آیا ہے۔ (حج -30 ، مائد - 90 ، توبہ - 125 ، انعام - 145)۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ خدائی ارادہ تخلف ناپذیر ہے اور "انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس" کاجملہ اس کے حتمی ارا دہ پر دلیل ہے خصوصًا "انما" کے لفظ کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جوحصر اور تاکید کے لیے ہے واضح ہوجاتا ہے کہ خدا کا یہ قطعی ارادہ ہے کہ اہل بیت ہر قسم کے رجس نجاست اور گناہ سے پاک ہوں اور اسی چیز کا نام عصمت ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں اراده الہی سے مراد حلال و حرام کے بارے میں اس کے احکام اور فرامین نہیں ہیں ، کیونکہ یہ احکام تو سب کے لیے ہیں اور اہل بیت سے اخصاص نہیں رکھتے۔ اس بناء پر وہ لفظ "انما" کے مفہوم کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں۔ پس یہ مسلسل اور متواتر ارادہ ایک قسم کی خدائی امداد کی طرف اشارہ ہے جو اہل بیت کی عصمت اور اس کے دوام و تسلسل کے لیے ہے اور اس سے ساتھ ساتھ اراده و اختیار کی آزادی کے بھی منافی نہیں ہے جیساکہ ہم تشریح کر چکےہیں۔ حقیقت میں آیت کا مفہوم وہی ہے جو "زیارت جامعہ" میں آیا ہے۔ "عصمكم الله من الذلل وا منكم من الفتن، وطهركم من الدنس، وأذهب عنكم الرجس ، وطهركم تطهيرًا" " خدانے لغزشوں سے تمھاری حفاظت کی اور انحراف و کج روی کے فتنے سے امان میں رکھا اور آلودگیوں سے پاک رکھا تم سے ہرقسم کی ناپاکیوں اور نجاستوں کو دور کیا اور جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے تمہیں پاک رکھا"۔ اس وضاحت کے بعد اوپر والی آیت کے عصمت اہل بیت پر دلالت کرنے میں شک و ترد نہیں کرنا چاہیے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:32-34
ازواج نبی کو کیسا ہونا چاہیئے
تفسیر ازواج نبی کو کیسا ہونا چاہیئے گذشتہ آیات میں ازواج پیغمبر کی حیثیت اور عظیم ذمہ داری کے بارے میں گفتگوتھی۔ زیرنظرآیات میں بھی یہ موضوع اسی طرح جاری وساری ہے۔ان چند آیات میں ازواج نبی کو سات اہم احکام دیئے گئے ہیں۔ پہلے ایک مختصرسی تمہید میں فرمایا گیا ہے۔ "اے ازواج پیغمبر!اگر تقوٰی اپناؤ تو تم کسی عام عورت کی طرح نہیں ہو": (يانساء النبي لستن كأحد من النساء ان اتقتيتن) - ایک طرف رسول اللہ سے تمھاری نسبت ہے. دوسری طرف تم مرکزوحی میں موجود ہو ، آیات قرآنی سنتی ہو اور تعلیمات اسلامی کو جانتی ہو ۔ اس خاص حیثیت کا حامل ہونے کے باعث تم تقوٰے اور گناہ دونوں میں تمام عورتوں کے لیے نمونہ اور مثال بن سکتی ہو۔ اس بناء پر تم اپنی حیثیت کو پہچانو اور اپنی بھاری ذمہ داری کو طاق نسیاں کے سپرد نہ کرو اور جان لواگرتم نے تقوٰی اختیار کیا توبارگاہ خداوندی میں تمھارا بہت ہی مقام و مرتبہ ہوگا۔ اس مقدمے میں قرآن مخاطب کو اپنی ذمہ داریاں قبول کرنے کے لیے آمادہ کرتا ہے اور انھیں ان کے مقام یاد دلاتا ہے۔ اس کے بعد پہلا حکم عفت و پاکدامنی کے سلسلے میں صادر کرتا ہے اور خصوصیت کے ساتھ ایک باریک نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے تاکہ اس بارے میں دوسرے مسائل خود بخود واضح اور روشن ہوجائیں ۔ چنانچہ قرآن فرماتاہے :" اس بناء پر ہوس انگیز انداز سے بات نہ کیا کرو کہ جس سے دل کے بیمارتمھارے بارے میں للچانے لگیں": (افلا تخضعن بالقول فيطمع الذي في قلبه مرض )۔ بلکہ بات کرتے وقت دوٹوک، سپاٹ اور معمول کے مطابق گفتگو کرو۔ پست عورتوں کی سی گفتگو نہ کرو جوکوشش کرتی ہیں کہ ہیجان انگیز اور تحریک آمیز جس کے باعث شہوت پرست افراد گناہ کی سوچ میں پڑجاتے ہیں۔ " الذي في قلبه مرض" (وہ شخض کہ جس کے دل میں بیماری ہے ) کی تعبیر یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ جنسی جذبات کا اعتدال اور مشروع حد میں ہونا عین سلامتی ہے اور جب اس حد سے گزر جائے ، تو پھرایک قسم کی بیماری ہے ۔ یہاں تک کہ وہ کبھی کبھار جنون کی حد کو پہنچ جاتی ہے جسے "جنسی جنون" سے تعبیر کرتے ہیں ۔ دور حاضر میں ماہرین نے ان نفسیاتی بیماریوں کی اقسام کوتفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ، جواس طاقت کے حد اعتدال سے تجاوز اورمختلف جنسی آلودگیوں اور گندے ماحول میں پڑجانے کی و جہ سے وجود میں آتی ہیں۔ آیت کے آخر میں دوسرے حکم کی یوں تشریح کی گئی ہے ، تمھیں ایسی شائستہ گفتار کرنا چاہیئے جو خدا اور بنی کریمؐ دونوں کی رضا کے مطابق اور حق و عدالت سے مزين ہو"۔ (وقلن قولا س مرفًا) ۔ حقیقت میں " لا تخضعن بالقول" کا جملہ گفتگو کے انداز اور "قلن قولا معروفًا" گفتگو کے مطالب کی طرف اشارہ ہے۔ البتہ "قول معروف" (اچھی اور شائستہ گفتگو) کا وسیع مفہوم ہے جو مذکوره معنی کے علاوہ ہرقسم کی باطل ، بے ہودہ ، گناہ سے آلودہ اورحق کی مخالفت گفتار کی نفی ہے۔ یاد رہے کہ آخری جملہ ہوسکتا ہے کہ پہلے سے قبلہ کی وضاحت ہو ۔ مبادہ کوئی یہ خیال کرے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا طرزتکلم غیر مردوں سے سخت یا خلاف ادب ہونا چاہیے ، نہیں بلکہ ان کی گفتگو شائستہ ، مودبانہ لیکن کسی تحریک آمیز پہلو کے بغیر ہونا چاہیئے۔ تیسرا حکم عفت و پاکدامنی کے سلسلہ میں ہے، ارشاد ہوتا ہے "تم اپنے گھروں میں رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح لوگوں کے سامنے نہ آؤ "اور اپنے بدن اور اس کی زینت کو دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کرو ": (وقرن فی بیوتكن ولا تبرجن تبرج الجاهلية الاولٰى)۔ "قرن " "وقار" کے مادہ سے بوجھ کے معنی میں ہے اور گھروں میں ٹھہرے رہنے کے لیے کنایہ ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ لفظ" قرار" کے مادہ سے ہے، جو نتیجے کے مادہ سے ہے جو نتیجے کے لحاظ سے پہلے معنی ہے چنداں مختلف نہیں۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 الیت اگر اس صورت میں جب کہ قرار کے مادہ سے ہو، اس کافعل صررًا قررنًاہوگا جس کی پہلی "راء" تخفیف کے عنوان سے حذف ہونی ہے مقل اور اس کا فتح قاف کی طرف منتقل ہوا ہے جس کی وجہ سے حمزہ وصل ضرورت نہیں رہی ۔ یہ " قرن" ہوگیا ہے۔ (غور کیجئے گا) ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ "تبرج " کا معنی ہے لوگوں کے سامنے ظاہر ہونا اور "برج" کے مادہ سے لیا گیا ہے اور "برج" اس چیز کو کہتے ہیں جو سب کی نگاہوں کے سامنے ہو۔ باقی رہا یہ کہ جاہلیت اولٰی سے کیا مرادہے ؟ تو ظاہرًا اس سے مراد جاہلیت ہے ، جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے سے پہلے تھی اور جیسا کہ تاریخ میں آیا ہے کہ اس زمانے میں عورتیں ٹھیک طرح پردہ نہیں کرتی تھیں بلکہ اپنے دوپٹے کا ایک حصہ اپنی پشت پراس طرح ڈال لیتی تھیں جس سے ان کا گلا ، سینہ اور گردن کا ایک حصہ اور گوشوارے دکھائی دیتے تھے۔ قرآن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی ازواج کو اس قسم کے اعمال سے روکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ایک حکم ہے اور آیات کا ازواج پیغمبرکو مخاطب کرنا زیادہ تاکید کے لیے ہے ۔بالکل اس طرح جیسے کہ کسی دانشور سے کہیں کہ آپ تو ایک عالم میں جھوٹ نہ بولا کریں ، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسروں کےلیے جھوٹ بولنے کی اجازت ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ ایک عالم کو زیادہ سختی کے ساتھ اس سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ بہرحال یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ کوئی دوسری جاہلبیت عربوں کی جاہلیت کی طرح درپیش ہے کہ جس کے آثار ہم قرآن کی پیشین گوئی کے مطابق اپنی متمدن مادی دنیا میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ لیکن گذشتہ مفسرین کے سامنے چونکہ ایسی چیزنہ تھى لہذا وہ اس لفظ کی تفسیر میں میں مشقت میں پڑے رہے اور وہ آدمؑ اور نوحؑ کے درمیانی فاصلے کو "جاہلیت اولٰی" سے تعبیر کرتے تھے۔ یا پھر داؤدؑ اور سلیمانؑ کے عصر کے درمیانی فاصلے کو جاہلیت کہتے تھے جس میں عورتیں ایسا نفیسں لباس پہن کر باہر نکلتی تھیں ، جس سے بدن جھلکتا تھا ، اس طرح سے وہ اسلام سے پہلے والی جاہلیت کو "جاہلیت ثانیہ" سمجھتے ھے۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ان تمام باتوں کی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ ظاہر یہ ہے کہ "جاہلیت اولٰی "وہی اسلام سے پہلے والی جاہلیت ہے کہ جس کی طرف قرآن میں کئی جگہوں پرارشاد بھی ہوا ہے ۔ (آل عمران 143 ، مائده 50 اور فتح 126 ) اور "جاہلیت ثانیہ" وہ جاہلیت ہے جو بعد میں پیدا ہوگی (جیسا کہ ہمارا زمانہ ہے )۔ اس موضوع کی مزید تفصیل نکات کی بحث میں پیش کریں گے۔ آخر میں چوتھے ، پانچویں اور چھٹے حکم کو بیان فرمایا گیا ہے۔ "تم ( پیغمبر کی بیویو !) نماز قائم کرو ، زکواة ادا کرو ، خدا اوراس کے رسول کی اطاعت کرو"۔ (واقمن الصلوة وأتين الزكاة واطعن الله ورسوله )۔ اگر عبادات میں سے نماز اور زکوٰۃ پر زیادہ زور دیا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز خالق کے ساتھ اہم ترین رابطہ ہے اور زکوة بھی باوجود اس کے کہ ایک عظیم عبادت ہے ، مخلوق خدا کے ساتھ ایک اور اٹوٹ رابطہ بھی ہے ۔ باقی رہا "اطعن الله ورسوله تو یہ ایک کلی حکم ہے اور خدا کی طرف سے مقرر کردہ تمام امورپرجاری ہے۔ تین احکام بھی واضح کرتے ہیں کہ زیربحث احکام ازواج نبیؐ کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہیں بلکہ سب کے لیے ہیں۔ اگر چہ ازواج بنیؐ کے بارے میں زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ الله تعالی آیت کے آخرمیں فرماتا ہے۔ "اے اہل بیت! خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ نجاست اور گناہ کوتم سے دور رکھے اورتمھیں ہرطرح سے پاک و پاکیزہ رکھے"۔ (انما یرید الله ليذهب عنکم الرحبس اهل البيت ويطهركم تطهيرًا) ۔ "انما" کی تعبیر جو عام طور پر"حصر" کے لیے ہے اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نعمت خاندان پیغمبراکرم علیہم السلام سے مخصوص ہے۔ لفظ "يريد" پروردگار کے اراده تکوینی کی طرف اشارہ ہے ورنہ ارادۂ تشریعی اہل بیت پیغمبر کے ساتھ مخصوص نہیں ہوگا ، بلکہ سب لوگ بغیر کسی استثناء کے حکم شریعت کے تحت اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ ہر قسم کے گناہوں اور نجاستوں سے پاک رہیں۔ ہوسکتا ہے ، کہا جائے کہ اردۂ تکوینی تو ایک قسم کے جبر کاموجب ہے ، لیکن جب ان بحثوں کی طرف توجہ کی جائے جو انبیاء اورائمہ علیہم السلام کے معصوم ہونے کے بارے میں کی جاتی ہیں تو اس بات کا جواب واضح ہوجاتا ہے اور یہاں پر بطور خلاصہ یہی کہا جاسکتاہے کہ معصومین ایک طرف کو اپنے اعمال کی وجہ سے ایک قسم کی اکتسابی لیاقت کے حامل ہیں اور دوسری طرف اپنے پروردگار کی طرف سے ذاتی اور وہبی لیاقت رکھتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کے لیے نمونہ و اسوہ بن سکیں۔ دوسرےلفظوں میں معصومین کی ہمت تائیدات الٰہی اور اپنے پاک اعمال کی وجہ سے ایسی ارفع واعلٰی ہے کہ گناہ پر قدرت واختیار رکھنے کے باوجود گناہ کی طرف نہیں جاتے، یوں سمجھیئے کہ کوئی عقلمند قطعًا تیار نہیں ہوگا کہ آگ کا انگارہ اٹھا کر اپنے منہ میں رکھ لے ، باوجود یکہ اس میں نہ کوئی جبر ہے نہ اکراہ ، بلکہ یہ ایسی حالت ہے جو کسی قسم کے جبر و اکراہ کے بغیر خود انسان کے وجود کے اندر سے اس کے علم وآگاہی اور فطری و طبعی مبادیات کی وجہ ابھرتی ہے ۔ لفظ "رحبس" ناپاک شی کے معنی میں ہے خواہ وہ انسان کے مزاج اور طبیعت کے لحاظ سے ناپاک ہو یا عقلی علم کی وجہ سے یا شریعت کی روسے یا ان سب وجوہ کے اعتبار ہے۔ ؎1 یہ جو بعض نے "رجس" سے گناہ ، شرک ، بخل وحسد یا باطل اعتقاد وغیرہ مراد لیا ہے تو درحقیقت یہ اس کے مصادیق کا بیان ہے ورنہ اس لفظ کا مفہوم عام اور وسیع ہے اور ہر قسم کی نجاست اس کے معنی میں شامل ہے ، کیونکہ الف لام یہاں جنس پر دلالت کرتاہے۔ "تطهير" کا معنی ہے پاک کرنا اور حقیقت میں نجاستوں اور ناپاکیوں کو دور کرنے کے بارے میں تاکید ہے ۔ نیز اس کا مفعول مطلق کی شکل میں ہونا یہاں اس معنی کی ایک اور تاکید شمار ہوتا ہے۔ باقی رہی "اہل بیت" کی تعبیر تو تمام علماء اسلام اور مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ جناب پیغمبر کے اہل بیت کی طرف اشاره ہے یہی بات خود آیت سے ظاہر سے بھی سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ "بیت" اگرچہ یہاں مطلق صورت میں ذکر ہوا ہے لیکن قبل وبعد کی آیات کے قرینے سے اس سے مراد پیغمبراکرمؐ کا بیت اور گھر ہے۔ ؎2 ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 راغب نے کتاب مفردات میں رجس کے مادہ میں مذکورہ بالا معنی اور اس کے چارقسم کے مصداق کو بیان کیا ہے۔ ؎2 بعض نے "بیت" کویہاں "بیت اللہ الحرام" اورکعبہ کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور اس کے اہل متقی افراد کو شمار کیا ہے۔ یہ بات آیات کے سیاق سے بہت ہی غیر مناسب ہے کیونکہ یہاں گفتگو پیغمبر اکرامؐ اور ان کے گھر کے بارے میں ہے نہ کہ وہ بیت اللہ الحرام کے متعلق اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس کے لیے کوئی بھی قرینہ موجود نہیں ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ باقی رہا یہ کہ "اہل بیت پیغمبرؐ" سے مراد کون لوگ ہیں تو اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اسے ازواجِ پیغمبرؐ کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں اور قبل وبعد کی آیات کو جو ازواج کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں اس کا قر ینہ سمجھتے ہیں۔ لیکن ایک مطلب کی طرف توجہ کرنے سے اس نظریہ کی نفی ہوجاتی ہے اور وہ ہے کہ و ضمیریں جو قبل و بعد کی آیات میں آئی ہیں سب کی سب جمع مونث کی شکل میں ہیں جب کہ آیت کے اس حصے" انما یرید الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت و يطهركم تطهيرًا" کی ضمیریں سب جمع مذکر کی شکل میں ہیں اور یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں کوئی دوسرا معنی مراد ہے۔ اس لیے بعض دوسرے مفسرین نے اس سے وسیع تر نظریہ اختیار کرتے ہوئے آیت میں پیغمبراکرمؐ کے سارے خاندان کو شامل سمجھاہے چاہے وہ مرد ہوں یا آپ کی بیویاں۔ دوسری طرف بہت زیادہ روایات جو اہل سنت اورشیعہ منابع و مصادر میں وارد ہوئی ہیں ایک اور معنی دیتی ہیں اور پیغمبراکرام کے سارے خاندان کے شمول کی بھی نفی کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس آیت میں مخاطب صرف پانچ افراد ہیں ، یعنی حضرت پیغمبراکرمؐ حضرت علیؑ و حضرت فاطمیہؑ امام حسنؑ اور امام حسین علیہ الصلوة والسلام ۔ تو اس قدر وافر مقدرمیں نصوص کے ہوتے ہوئے ہر آیت کے مفہوم کی تفسیر کے لیے روشن قرینہ ہیں اس آیت کے لیے قابل قبول تفسیر وہی تیسرا معنی ہے یعنی آیت "خمسہ طیبہ"سے مختص ہے۔ یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت پیغمبر کی ازواج کی ذمہ داریوں کے ذکر کے بیچ میں یہ بات کیونکرآگئی ہے کہ جس میں پیغمبراکرمؐ کی بیویاں شامل نہیں ہیں؟ تو اس کا جواب بزرگ مفسرم مرحوم طبرسی مجمع البیان میں اس طرح دیتے ہیں: یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ آیات قرآن میں ہم ایسی آیات کا سامنا کر رہے ہیں کہ جوایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہونے کے باوجود مختلف موضوعات کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ۔ قرآن ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ اسی طرح فصحاعرب کے کلام و اشعارمیں بھی اس کے وافرنمونے ملتے ہیں۔ تفسیرالمیزان کے عظیم مولف نے اس پر ایک اور جواب کا اضافہ کیا ہے کہ جس کاخلاصہ کچھ اس طرح ہے : ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ "انمایرید الله ليذهب عنكم الرجس...." کانک جملہ ان آیات کے ساتھ نازل ہوا ہے بلکہ روایات سے اچھی طرح معلوم ہوتاہے کہ یہ حصہ علیحده نازل ہوا ہے ،لیکن پیغمبر اکرمؐ کے دور میں آیات قرآن کی جمع آوری کے موقع پر یا اس کے بعد ان آیات کے ساتھ قرار دیا گیا ہے۔ اس سوال کا جو تیسرا جواب دیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ قران چاہتاہے کہ پیغمبراکرم کی بیویوں سے کہے کہ تمھاری نسبت ایک ایسے گھرانے سے ہوگئی ہے کہ جس کے افراد معصوم ہیں تو جو کوئی شجر عصمت کے سائےمیں اور معصومین کے مرکز میں اور وہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ دوسروں کی نسبت اپنے بارے میں زیادہ خبردار ہو اور اس بات کونہ بھول جائے کہ جس کی نسبت ایسے خاندان سے ہو کہ جس میں پانچ پاک و معصوم ہستیاں موجود ہیں ،اس کی ذمہ داریاں بہت بھاری ہیں ۔ خدا اور خلق خدا اس سے بہت سی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے۔ انشاءاللہ ہم نکات کی بحث میں ان سنی و شیعہ روایات کے بارے میں تفصیل سے بحث کریں گے جو اس آیت کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں۔ آخری زیر بحث آیت میں ازواج پیغمبر کا ساتواں اور آخری حصہ بیان ہوا ہے اوران سب خبردار اور متنبہ کیا گیا ہے کہ بہترین موقع انھیں میسرہے اس سے استفادہ کریں اور حقائق اسلام سے آگاہی حاصل کریں ، چناچہ فرمایا گیا ہے ۔ "تمھارے گھروں میں خدائی آیات اور حکمت و علم کی تلاوت ہوتی ہے اسے یاد کرو " اوراس کے سائے میں اپنی اصلاح کرو ، کیونکہ بہترین موقع تمھارے ہاتھ میں ہے"۔ (واذكرن مايتلى في بيوتكن من آيات الله والحكمة) - تم وحی کے مقام اور نور قرآن کے مرکز ومنبع موجود ہو ، یہاں تک کہ اگر تم گھرمیں بھی بیٹھی ہو تو بھی پیغمبر اسلام کی زبانی تمھارے گھر کی فضا آیات سے گونج رہی ہے۔ لہذا تھمیں چاہئے کہ شایان شان طریقے سے اسلامی تعلیمات اور پیغمبرؐ کے ارشادات سے بہرہ مند ہو جب کہ رسول اللہ کا ہر سانس درس ہے اور ہر بات ایک راہ عمل متعین کرتی ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ "آیات اللہ" اور"حکمت" کے درمیان کیا فرق ہے ؟ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ دونوں الفاظ قران کی طرف اشارہ ہیں۔ البتہ "آیات" کی تعبیر اس کے اعجاز کے پہلو کو بیان کرتی ہے اور حکمت کی اس کے عمیق اور گہرے مفہوم اور علم کو بیان کرتی ہے۔ بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ "آیت الله" آیات قرآن کی طرف اشارہ ہے اور "حکمت" سنت پیمغبر صلی اللہ علیہ وآ لہٖ وسلم اور آپ کے حکیمانہ پندونصائح کی طرف اشارہ ہے۔ اگرچہ دونوں تفاسیر آیت کے مقام والفاظ سے مناسبت رکھتی ہیں، لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے، کیونکہ "تلاوت" کی تعبیر آیات الٰہی سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ علاوہ ازیں قرآن کی متعدد آیات میں آیات اور حکمت دونوں کے بارے میں نزول کی تعبیرآئی ہے ۔ مثلًا سوره البقرہ کی آیت 231 ( وما انزل عليكم من الكتاب والحكمة ) اسی طرح سوره نساء کی آیت 113 میں بھی آیا ہے۔ خلاصہ کلام کے طور پر آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے :" خدالطیف رخبیر ہے"۔ (ان الله كان لطيفً خبيرًا)۔ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ نہایت ہی گہرے اورباریک مسائل سے بھی باخبراور گاہ ہے اور تمھاری نیتوں کو بھی اچھی طرح سے جانتا ہے اور تمھارے سینوں کے اندرونی اسرارسے بھی باخبرہے۔ یہ اس صورت میں ہے جب "لطیف" کی تفسیر ایسی ذات سے کی جائے جو باریک ہیں اور ذره ذره سے باخبر ہو ، اور اگر صاحب لطف مراد ہوتو یہ اس طرف اشارہ ہوگا کہ اللہ تم ازواج رسول کی نسبت لطف و رحمت رکھتا ہے اورتمھارے اعمال سے "خبیر" اور آگاہ ہے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "لطيف" آیات قرآنی کے اعجاز کی بناء پر ہے اور" خبیر" اس کے حکمت آمیز مضمون کی بناء پر ہے ۔ اس کے باوجود ان معانی کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور یہ سب مطالب مفہوم آیت میں جمع ہوسکتے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:32-34
سوره احزاب / آیه 32 -34
(32) يَا نِسَآءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ ۚ اِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّـذِىْ فِىْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا (33) وَقَرْنَ فِىْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجْنَ تَبَـرُّجَ الْجَاهِلِيَّـةِ الْاُوْلٰى ۖ وَاَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكَاةَ وَاَطِعْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ ۚ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّـٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْـرًا (34) وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِىْ بُيُوْتِكُنَّ مِنْ اٰيَاتِ اللّـٰهِ وَالْحِكْمَةِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ لَطِيْفًا خَبِيْـرًا ترجمہ (32) اے نبی کی بیویو! اگر تقوٰے اپناؤ تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو ، لہذا ہوس انگیز قسم کی گفتگو نہ کیا کرو ، کہیں کوئی بیمار دل شخص تمھارے بارے میں لالچ میں نہ پڑجائے اور صاف سیدھی بات کیا کرو۔ (33) اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو ، اور پہلی جاہلیت کی طرح (لوگوں کے) سامنے نہ نکلا کرو ، اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کروخدا تو یہی چاہتا ہے کہ نجاست اور گناہ تم اہل بیت سے دور رکھے اور تمہیں ہر طرح سے پاک و و پاکیزہ رکھے۔ (34) اور جو کچھ تمھارے گھروں میں آیات خدا اور حکمت و دانش کی تلاوت کی جاتی ہے ، اسے یاد رکھو اور خدا لطیف و خبیرہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:32-34
4- بیسوی صدی کی جاہلیت
4- بیسوی صدی کی جاہلیت: جیسا کہ اشارہ ہوچکا ہے کہ مفسرین کی ایک جماعت "الجاهلية الاولٰى" کی تفسیر کے سلسلے میں زیر بحث آیات میں شک و شبہ کا شکار ہوئی ہے۔ گویا وہ یہ باور نہیں کرسکے کہ ظہور اسلام کے بعد جاہلیت کی کوئی اورقسم بھی دنیا میں ظہور پذیرہوگئی جس کے سامنے اسلام سے پہلے عربوں کی جاہلیت بھی شرما جائے گی لیکن آج کے زمانے میں یہ امر ہمارے لیے جو بیسویں صدی کی جاہلیت کے وحشت ناک مظاہر کے شاہد ہیں پورے طور پر حل شدہ ہے اوراسے قرآن مجید کی معجزانہ پیش گوئیوں میں سے ایک شمار کرنا چاہیئے۔ اگر عرب جاہلیت اولٰی کے زمانے میں جنگ اور غارتگری کا بازار گرم رکھتے تھے اور بطور مثال متعدد بار بازار عکاظ احمقانہ خوں ریزی کا مرکز بنا جس میں کچھ افراد قتل ہوگئے تو ہمارے زمانے کی جاہلیت میں اسی عالمی جنگیں رونما ہوتی ہیں کہ بسا اوقات دوکروڑ افراد ان کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اوراس سے زیادہ تعداد میں لوگ مجروح اور معذور ہوجاتے ہیں۔ اگر جاہلیت عرب میں عورتیں "تبرج بزینت" کرتی تھیں اور اپنے دوپٹے کو اس انداز سے استعمال کرتیں کہ سینے ، گلا ، گردن کا ہار اور گوشوارے نمایاں ہوجاتے تو ہمارے زمانے میں ایسے کلب club بھی ہیں جنھیں" برہنوں کے کلب" کا نام دیا جاتاہے (جن کا نمونہ انگلستان میں موجود ہے) ہم نہایت معذرت کے ساتھ عرض کریں گے کہ ایسے کلبوں میں لوگ مادر زاد ننگے بن کر جاتے ہیں ۔ ساحل سمندر کے پلازوں، سوئمنگ پولوں حتٰی کہ شارع عام پر ہونے والی اخلاقی با ختگی ناقابل بیان ہے ۔ اگر عربوں کی جاہلیت کے دور میں "زنان آلودہ ذوات الاعلام" (جھنڈے تلے والی بدمعاش عورتیں) جو گناہ کی دعوت کی غرض سے اپنے مکانوں پر جھنڈے نصب کردی تھیں ، موجود تھیں ، تو ہماری صدی کی جاہلیت میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو اس بارے میں مخصوص روزناموں میں ایسے مطالب شائع کرتے ہیں جن کے ذکر سے قلم شرما جاتا ہے اوراس کے مقابلے میں عربوں کی جاہلیت ، شرافت نظر آتی ہے۔ قصہ کوتاه ہم ان مفاسد کی کیفیت کے بارے میں کیا کہیں جو ایمان سے خالی اس مادی و مشینی تمدن میں پائے جاتے ہیں جن کو بیان نہ کرنا ہی بہتر ہے اور ہم اس مقدس تفسیر کو اس سے آلودہ نہیں کرنا چاہتے۔ جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے ایسے لوگوں کی زندگی کی نشان دہی کرنے کے لیے مشتے نمونہ ازخرے دار تھا جو خدا سے اپنا ناتہ توڑ لیتے ہیں اور ہزارہا دانش گاہوں ، علمی مراکز اور مشہور دانش مندوں کے باوجود اخلاقی فساد کی دلدل میں پھنس چکے ہیں فساد کی منجدھار میں ڈوب چکے ہیں ۔ حتٰی کہ خود انہی مراکز کے دانشور بھی ایسی تباہ کاریوں کا شکارہوچکے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:32-34
2- آیت تطہیر کن افراد کے بارے میں ہے؟
2- آیت تطہیر کن افراد کے بارے میں ہے؟ ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ آیت اگرچہ ان آیات کے درمیان آئی ہےجو پیغمبراکرمؐ ازواج سے مربوط ہیں لیکن اس کے سیاق کی تبدیلی ("جمع مونث" کی ضمائرکو "جمع مذکر" میں تبدیل کرنا) اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا مضمون ان آیات سے بالکل الگ ہے۔ اسی بنا پر ان لوگوں کا نظربھی درست نہیں جو آیت کو پیمغبراکرمؐ ، حضرت علی ، حضرت فاطمہ ، حضرت حسن و حضرت حسین علیہم اسلام سے مخصوص نہیں سمجھتے۔ اس کے لیے وسیع معنی کے قائل ہیں کہ آیت ان بزرگواروں کے بارے میں بھی ہے اور پیغمبراکرمؐ کی کی بیویوں کے بارے میں بھی۔ ہمارے پاس بہت سی روایات موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ آیت صرف بزرگواروں کے ساتھ مخصوص ہے اور ازواج پیغمبراس میں داخل نہیں ہیں اگرچہ شایان شان احترام کے لائق ہیں۔ ہم ذیل میں ان میں چھ روایات قارئین کی نذر کرتے ہیں۔ (الف ) کچھ روایات وہ ہیں جو خود پیغمبراکرم کی ازواج سے نقل ہوئی ہیں اور بتاتی ہیں کہ جس وقت پیغمبر اکرم اس آیت شریفہ کے بارے میں بات کرتے تو ہم آپ سے سوال کرتیں کہ ہم بھی اس کے مخاطب ہیں تو آپؐ فرماتے کہ تم اچھی تو ہو لیکن اس میں شامل نہیں ہو۔ ان میں سے ایک روایت ثعلبی نے اپنی تفسیر میں جناب "ام سلمہ" سے نقل کی ہے۔ پیغمبراکرم اپنے گھرمیں تھے کہ حضرت فاطمہ ریشمی کپڑا لائیں تو رسول اللہ نے فرمایا اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں حسن و حینن کو بلاؤ۔ فاطمہ انھیں بھی بلالائیں ، پھر ان سب نے مل کرکھاناکھایا۔ اس کے بعد رسول اللہؐ نے ان پر عبا ڈال دی ۔ اور کہا: " اللهم هؤلاء اهل بيتي وعترتی فاذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرًا" خداوندا یہ میرے اہل بیت ہیں اور میری عترت ہیں ، ان سے ہر قسم کی نجاست دور رکھ اور انھیں پاک پاک رکھ جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے۔ اس مو قع آیت"انما یرید اللہ" نازل ہوئی۔ میں نے کہا کیا میں بھی آپ کے ساتھ ہوں اے رسول خدا؟ فرمایا (انک الى خير)"تو خیراورنیکی پرہے"، لیکن ان افراد کے زمرے میں شامل نہیں ہو۔ نیز ثعلبی حضرت عائشہ سے یوں نقل کرتے ہیں۔ "جس وقت بی بی عائشہ سے جنگ جمل کے بارے میں اور اس تباہ کن جنگ میں ان کے عمل دخل کے سلسلہ میں سوال کیا گیا تو(انھوں نے افسوس کے ساتھ) کہا یہ ایک تقدیر خدا وندی تھی اور جب ان سے حضرت علیؑ کے بارے میں سوال ہوا تو کہا: "تسئلى عن احب الناس كان الى رسول اللهؐ وزوج احب الناس، كان الى رسول الله لقد رأيت علي وفاطمة ورحسنًاوحسينًا عليهم السلام وجمع رسول اللہ ( ؐ) بثوب علهم قال اللهم هؤلاء اهل بيتي وحامتی فاذهب عنهم الرجس و طهرهم تطهيرًا قالت فقلت یارسول الله انا من اهلك قال تخي فائك الى خير" کیا مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھتے ہو جو رسول اللہ کے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ محبوب اور آنحضرت کے نزدیک محبوب ترین خاتون کے شوہر تھے ، میں نے اپنی ان آنکھوں سے علیؑ ، فاطمہؑ ، حسنؑ ، حسینؑ کودیکھا کہ پیغمبر اسلام نے انہیں ایک کپڑے کے نیچے جمع کیا اور فرمایا : خداوندا ! یہ میرے اہل بیت اور میرے حامی و مددگار ہیں ان سے ہر قسم کے رجس کو دور رکھ اور انھیں آلودگیوں سے ایسا پاک رکھ جیساپاک رکھنے کا حق ہوناہے۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ! کیا میں بھی آپ کے اہل بیت میں سے ہوں؟ فرمایا : پیچھے ہٹ! تم خیر پرضرور ہو ، لیکن ان میں شامل نہیں ہو۔ ؎1 اس قسم کی روایات صراحت کے ساتھ بتاتی ہیں اس کی آیت میں ازواج رسول ، اہل بیت کا جزو نہیں ہیں۔ (ب) حدیث کے بارے میں بہت سی روایات اجمالی طور پر وارد ہوئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو نبی اکرم نے حضرت علیؑ، فاطمہ حسن اور حین علیہم اسلام کو بلایا ، یا وہ حضرات خود آپ کی خدمت میں آئے اور پیغمبراسلام صلی الش علیہ و آلہ وسلم نے ان کے اوپر عباڈالی اور ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 مجمع البيان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بارگاہ الہی میں عرض کیا: "خداوندا !یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے ہر قسم کی رجس وآلودگی کو دور رکھ"۔ تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ " انما یریدالله ليذهب عنكم الرجس" مشہور عالم ، حاکم حسکانی نیشاپوری نے "شواہد التنزیل" میں ان روایات کومتعدد طریقوں سے نقل کیا ہے اور مختلف را ویوں سے جمع کیا ہے ۔ یہان پر یہ سوال توجہ طلب ہے کہ آخر اہل بیت کو کساء کے نیچے جمع کرنے کا مقصد کیا تھا؟ جوابًا عرض ہے کہ گویا پیغمبر چاہتے تھے کہ اپنے اہل بیت کو مکمل طور پر نمایاں اور ممتاز کردیں اور بتادیں کہ یہ آیت صرف انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، مبادا کوئی شخص رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام گھروں اور ان تمام افراد کو جو آپ کے خاندان میں تھے ،اس آیت کا مصدق سمجھ لے ، حتٰی کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا: " اللهم هؤلاء اهل بیتی و خاصتي فاذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرًا" "خدا وندا میرے اہل بیت میں یہی ہیں ان سے ہر قسم کی نجاسات کو دور رکھ"۔ ؎2 (ج)ٍ بہت سی دوسری روایات میں ہے کہ مندرجہ بالا آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، چھ ماہ تک جب بھی صبح کی نماز کے وقت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کے پاس سے گزرتے تو پکار کہتے: الصلوة يا اهل البیت ! انما یریدالله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت ويطهركم تطيرًا نمازکاوقت ہے اے اہل بیت ! خدا چاہتا ہے ہر قسم کی نجاست اور پلیدی کوتم اہل بیت سے دور رکھے اور تمہیں ایسا ہی پاک رکھے ، جیسے پاک رکھنے کا حق ہے۔ اس حدیث کو حاکم حکانی نے انس بن مالک سے نقل کیا ہے ۔ ؎3 ایک اور روایت میں ابو سید خدری کے واسطے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے سلسلہ آٹھ یا نو ماہ تک جاری رکھا ۔ مذکورہ بالا حدیث کو ابن عباس نے بھی آنحضرت سے نقل کیا ہے۔ ؎5 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 شواہد التنزیل جلد 2 ص 31 ؎2 تفسیر درمنشور آیت آیت زیر بحث کے ذیل میں ۔ ؎1 شواہد التنزیل جلد 2 ص 11 ؎1 شواہد التنزیل جلد 2 ص 28-29 ؎2 درمنشور زیربحث آیت کے ذیل میں ۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- نکته قابل توجہ ہے کہ اس آیت کا تکرار چھ، آٹھ یا نو تک مسلسل فاطمه زهرا علیها السلام کے گھر کے پاس اس بناء پر ہے تاکہ یہ بات مکمل طور پرواضح ہوجائے اور آئندہ کسی شخص کے لیے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے کہ یہ آیت صرف انہی ذوات مقدسہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، جن کے گھر کا صدر دروازہ مسجد نبوی میں اس وقت بھی کھلتا تھا ، جب آنحضرت کے حکم سے دوسروں کے دروازے مسجد کی طرف بند کر دیئے تھے ، فطری بات ہے کہ بہت سے افراد ہمیشہ نماز کے وقت یہ بات وہاں پیغمبر کی زبان مبارک سے سنتے تھے ۔(غور کیجیئے گا) مقام تعجب ہے کہ اس کے باوجود بعض مفسرین کا اصرار ہے کہ آیت کا مفہوم عام ہے اور ازواج رسول بھی اس میں شامل ہیں جبکہ علما اسلام کی اکثریت خواہ وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت اسے پنجتن بی میں محدود سمجھتے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اگر یہ آیت ازواج کے لیے بھی ہوتی تو زوجہ رسولؐ جناب عائشہ نے اپنی گفتگو کے دوران میں کسی نہ کسی مناسب موقع پر اس کا اظہار ضرور کیا ہوتا ، کیونکہ روایات کے مطابق اانھوں نے اپنے فضائل اور آنحضرتؐ سے اپنے رابطے کو بیان کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ، جبکہ اس سلسلہ میں ان سے کسی قسم کی کوئی چیز روایت نہیں ہوئی۔ (د ) رسول النبی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے مشہور صحابی حضرت ابو سعید خدری سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں جو صراحت کے ساتھ گواہی دیتی ہیں کہ : نزلت فی خمسة ورسول الله وعلى وفاطمة والحسن والحسين ۔ -1 یعنی یہ روایت صرف انہی پاک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ روایات اس قدر زیادہ ہیں کی بعض محققین انہیں متواتر جانتے ہیں۔ جو کچھ ہم نے ابھی بیان کیا ہے ، اس کا مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ احادیت کے مآخذ اور راوی جو آیت کو صرف پنج تن پاک میں منحصر سمجھتے ہیں ، اس قدر زیادہ ہیں کہ اس میں شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ، یہاں تک کہ "احقاق الحق" کی شرح میں ستر سے زیادہ احادیث اہل سنت کی مشہورکتابوں سے جمع کی گئی ہیں اور شیعی مآخذ میں تو ایک ہزار سے بھی زیادہ ہیں ۔ ؎2 کتاب "شواہد التنزیل" کے موتف نے جو برادران اہلسنت کے مشہور علماء میں سے ہیں اس سلسلے میں 130 ، احادیث نقل کی ہیں۔ ؎3 ان سب امور سے قطع نظر بعض ازواج پیغمبر نے اپنی زندگی کے دوران میں ایسے کارنامے انجام دیئے ہیں ۔ جو ہرگز مقام عصمت کے لائق نہیں ۔ مثلا جنگ جمل کا واقعہ ، جوامام اس وقت کے خلاف قیام تھا اور زبردست خون ریزی کا سبب بنا ، بعض مورخین کے بقول اس جنگ میں ستره ہزار افراد مارے گئے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ واقعہ کسی بھی طرح قابل توجیہ نہیں ہے یہاں تک کہ ہم دیکھتے ہیں کی خود حضرت عائشہ بھی اس حادثے کے بعد اظہار مذامت کیا کرتی تھیں جس کا ایک نمونہ گذشتہ مباحث میں پیش کیا جاچکا ہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 شواہد التنزیل جلد 4 ص 25 ؎2 احقاق الحق جلد 2 اور اس کے حواشی کی طرف رجوع کریں۔ ؎1 شواہد التنزیل جلد 4 ص 10 سے لے کر ص 92 تک رجوع کریں۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اسلام کی بزرگ ترین ، فداکار ترین اور با فضیلت ترین خاتون جناب خدیجۃ الکبری تاریخ اسلام کے سینے میں اب تک محفوظ ہے، یہ عیب جوئی اسلام کے گرامی قدر رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس قدر ناگوار گزری کہ شدت غضب سے آپ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور فرمایا۔ " خدا کی قسم مجھے اس سے بہتر بیوی نصیب نہیں ہوئی ، وہ ا س وقت ایمان لائیں جب باقی لوگ کافر تھے اور اس وقت سارا مال میرے سپرد کردیا جب سب لوگ مجھ سے کٹے ہوئے تھے۔ ؎1
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:33
[Pooya/Ali Commentary 33:33] Obedience to Allah's law sums up all duties. Regular prayer (seeking nearness to Allah) and regular charity (doing good to fellow-creatures) are mentioned as specially symbolical of the religion of Allah, Islam. The first command in this verse "stay in your houses" was violated by A-isha when she went to Iraq to organise a mischievous campaign against Ali about whom the Holy Prophet said: "O Ali, you are to me as Harun was to Musa. You are my brother in this world and the hereafter. Your flesh is my flesh, your blood is my blood. You and me are from one and the same light." In his sermon at Ghadir Khum (see commentary of Ma-idah: 67) he invoked Allah to be a friend of those who loved Ali and be an enemy of those who opposed Ali. Bukhari has recorded in the chapter "What happened in the houses of the Prophet's wives" in the book "Jihad and Travel" of his Sahih, vol. 2, p. 125, that while delivering an address from the pulpit, the Holy Prophet pointed towards A-isha's house and said: "Here lies the scandal; here lies the scandal; here lies the scandal, where the horn of Shaytan would be rising." In the words of Sahih Muslim: "The Prophet came out of the house of A-isha and remarked: "Here is the head of infidelity where the horn of Shaytan will rise." Refer to Sahih Muslim, vol. 2,0.502. "Verily Allah intends to keep off from you uncleanness, O you Ahl ul Bayt and purify you with a thorough purification" is a separate verse revealed on a particular occasion but placed here. Please refer to Aqa Mahdi Puya's note in the commentary of verses 28 to 32. The time, occasion and people concerned in connection with the revelation of the above noted verse have been discussed and made known in many authentic books of the Muslim scholars. The one and only reference available to the commentators is the event of the blanket (Hadith al Kisa). The "event of the blanket" has been written by the following authors whom the Muslim Ummah acclaim with one voice. (1) Ahmad bin Muhammad bin Hanbal (241 H) "Musnad" (Egypt: 131 H) pages 259, 285, 292. (2) Muslim bin Hajjaj Nayshapuri (261 H) Sahih Muslim" (Egypt: 1349) vol. 4, page 116. (3) Abi Isa Muhammad Tirmidhi (275 or 279 H) "Sahih Tirmidhi" (Sharah ibnul Arabi) (Egypt: 1352 H) vol. 13 pages 200, 248. (4) Ahmed ibn Shu-ayb Nisa-i (303 H) "Khasa-is" (Egypt: 1348 H) page 4. (5) Ibn Jarir Tabari (310 H) "Tafsir Tabari" (Jama ul Bayan fi Tafsir il Quran) (Egypt: 1331 H) vol.22, page 5. (6) Sulayman bin Ahmad Al Tibrani (360 H) "Al Mu-jam Al Saghir" (Dehli: 1311 H), page 34, 75. (7) Hakim Nayshapuri (405 H) "Al Mustadrak" (Hyderabad Deccan: 1334 H), pages 146, 147, 148. (8) Yusuf bin Abdullah ibni Abdul Birr (463 H) "Al Isti-ab" (Hyderabad Deccan: 1346 H), vol. 2, page 460. Ali bin Ahmad Al Wahidi (468 H) "Asbab ul Nuzul" (Egypt: 1315 H) pages 266, 267. Tirmidhi, Ibn Jarir Tabari, Hakim and Tibrani have related from Ummi Salima that when this verse was revealed the Holy Prophet was under a blanket or mantle along with Ali, Fatimah, Hasan and Husayn, and he declared that his family consisted of only these persons. Ummi Salima, his wife, within whose quarters the revelation came, asked permission to be included in the group under the blanket, but she was politely refused permission. The group is known ever since with the epithet "panjtan pak" or "the holy group of five". These are the persons who were compared by the Holy Prophet with the ark of Nuh wherein those who embarked were saved, while those who sought shelter elsewhere were drowned. Refer to Tafsir Azizi by Shah Abdul Aziz and Tafsir Durr al Manthur by Jalal al Din al Suyuti. In Yanabi al Mawaddat, page 87, Shaykh al Islam writes that A-isha said: "Ayah al Tat-hir refers only to the Holy Prophet, Ali, Fatimah, Hasan and Husayn. No wife of his is included." On page 280 of volume two of Sharah Nuwi of Sahih Muslim it is written that when Zayd bin Arqam was asked whether the wives of the Holy Prophet are included in the Ahl ul Bayt, he said: "By Allah the wives of the Holy Prophet cannot be included in the Ahl ul Bayt at all, because after the pronouncement of divorce the wives are reverted to their parent; and, moreover, sadqah (charity) is prohibited to be given to the Ahl ul Bayt." Also please refer to the commentary of Shura: 42 and Ali Imran : 61 for further confirmation and proofs. Some commentators report this tradition through A-isha who says that this event took place in her house. So two wives of the Holy Prophet have confirmed that they both were not given permission by the Holy Prophet to come under the blanket, so they could never be described as Ahl ul Bayt. Thalabi reports that when A-isha was asked as to why she violated the command of Allah "to stay in your houses" by going to the battle of Jamal against Ali, she said: "It was my fate. I saw the Holy Prophet taking Ali, Fatima, Hasan and Husain under his mantle and heard him saying: 'O Allah, these are my Ahl ul Bayt. Keep off impurity from them.' I asked him: 'Am I not of your Ahl ul Bayt?' He said: 'Go away from here. You are not of my Ahlul Bayt.'" Abu Dawud and Malik relate from Anas that for six months after the revelation of this verse every morning, while going for fajr salat, the Holy Prophet used to recite this verse at the door of Fatimah's house. In verse 73 of Hud Sara is addressed as Ahli Bayt, not as the wife of Ibrahim but as the mother of prophet Is-haq, because the state of being a wife of a prophet gives no privilege to a woman as stated above and clearly indicated by the Holy Prophet himself, and decisively proved by the condemnation of the wives of Nuh and Lut. Innama implies the determined decision or will of Allah. Although the decision of a created being may not take effect at all, but the will of Allah takes immediate effect. There cannot be a slightest gap of time or space in the will of Allah taking effect. When He commands: "Be"; it becomes. Refer to Baqarah: 117; Nahl: 40 Maryolm: 35; Ya Sin 83; Mumin: 68 and Qamar 50. It is not only the will of Allah but the declaration of its effect. Since the Ahl ul Bayt have been thoroughly purified, they remain thoroughly purified for ever. The prayer of Ibrahim in Baqarah: 127 to 129 is prayed to continue the excellence in themselves and in their descendants mentioned in Baqarah: 124. When a quality or attribute is described or mentioned in indefinite sense it refers to the perfect possibility. The purity in this verse is absolute purity. Polytheism (shirk) is described in the Quran as impurity and also the greatest iniquity (refer to Luqman : 13). Refer to the commentary of Baqarah: 124 for the condition that imamah is not bestowed on those who have ever (even once in their lives) worshipped any ghayrallah. All the companions of the Holy Prophet and his wives were polytheists before embracing Islam. Only the Holy Prophet, Ali, Fatimah, Hasan and Husayn were at that time free from the dirt of shirk, therefore they alone could be throughly purified. Aqa Mahdi Puya says: (i) Innama (verily or only) signifies exclusive distinction. To emphasise this exclusiveness, the second object of the verb yudh-hiba (keep off)-the phrase ankum (from you)-has been put before the first object rijs (uncleanness); and for further emphasis, the phrase Ahl ul Bayt has been mentioned to explain the pronoun ankum (from you). The grammatical structure of the whole clause indicates that this a unique privilege or distinction granted to the Ahl ul Bayt only, excluding all others. (ii) The verb yuridu implies that the continuous will or intention of Allah is His creative will or intention, not legislative. To interpret the will as the legislative will as in Ma-idah: 6, distorts the whole fabric of the verse and renders meaningless the exclusive particle and the constructional arrangement. Even then it means that only the Ahl ul Bayt exclusively achieved the standard. (iii) This verse is a preface to verses 77 to 79 of al Waqi-ah: "Verily this is an honourable (Karim) Quran, in a hidden (preserved) book, which no one can touch save the purified." (Refer to page 3.) (iv) The excellences of Ahl ul Bayt have been openly demonstrated in the event of mubahilah (refer to the commentary of Ali Imran : 61). (v) The Ahl ul Bayt had only been thoroughly purified by Allah because of their total submission to Allah's will and their state of being always in communion with Allah. The event of revelation of this verse as reported by Jabir bin Abdullah Ansari, one of the most reliable companions of the Holy Prophet has been mentioned in "Awalim al Ulum" by Shaykh Abdullah bin Nurullah Al-Bahrayni and is reproduced here:- In the name of Allah, the beneficent, the merciful. It is reported by Jabir bin Abdullah Ansari that Fatimah Zahra said; One day my father, the messenger of Allah, came into (my house), and said "Fatimah! Peace be on you." "Peace be on you too." I replied. "I am not feeling well." He said. "May Allah keep you safe from weakness, O my father." I prayed. "Fatimah! Please bring the Yamani blanket and cover me with it." He said. So I brought the Yamani blanket and covered him with it. I turned my eyes upon his face. It was shining bright like a full moon in its full glory and splendour. Then, not a moment passed before my son, Hasan, walked in and said: "Peace be on you, mother." "Peace be on you too, my dearest darling" I answered. "I breathe the pure aroma of the messenger of Allah, my grandfather, coming from you!" He observed. "True; your grandfather is under the blanket." I confirmed. Hasan went near his grandfather (covered with the blanket) and said: "Peace be on you, grandfather, the messenger of Allah, may I join you under the blanket?" "Peace be on you, my son, my companion at the spring of Kawthar, come in." He went inside the blanket. Then, not a moment passed, before my son, Husayn, walked in and said: "Peace be on you, mother." "Peace be on you too, my dearest darling" I answered . "I breathe the pure aroma of the messenger of Allah, my grandfather, coming from you!" He observed . "True, your grandfather and your brother are under the blanket." I confirmed. Husayn went near the blanket (under which his grandfather was resting with his brother) and said: "Peace be on you grandfather, the choice of Allah, may I join you both under the blanket ?" "Peace be on you, my son, the saviour of my people, come in." He went inside the blanket. In that instant Abul Hasan. Amir al Muminin, Ali ibn abi Talib, stepped in and said: "Peace be on you, O the daughter of the messenger of Allah!" "Peace be on you too, Abul Hasan, Amir al Muminin." I answered. "Fatimah, I breathe the pure aroma of my brother, the son of my uncle, the messenger of Allah, coming from you!" He observed. "True, he is under the blanket with your sons" I confirmed. Ali went near the blanket and said: "Peace be on you, the messenger of Allah, may I join you (all) under the blanket?" "Peace be on you, my brother, the executor of my will, my successor, my standard bearer, come in." Ali went inside the blanket. Then I went near the blanket and said: "Peace be on you, my father, the messenger of Allah, may I join you (all), under the blanket?" "Peace be on you; my daughter my darling, come in." I went inside the blanket. As soon as all of us united under the blanket, my father, the messenger of Allah, held the two ends of the blanket and raised his right hand toward the heaven and said: "O Allah! These are my Ahl ul Bayt, very special to me, my near and dear ones, my own flesh and blood; whoso annoys them disturbs me; whoso makes them sad makes me unhappy. I make war on those who carry on hostilities against them; I am well disposed towards those who make their peace with them; I oppose those who run counter to them; I favour those who love them. They are from me and I am from them. So send Thy blessings, benefits, mercy, protection and favours on me and on them, and keep off from them uncleanliness, and purify them with a thorough purification." Thereupon The Almighty and the Glorious Allah said: "O My angels and the dwellers of the heavens, verily I have not created the indeclinable sky, the levelled earth, the bright moon, the resplendent sun, the rotating cosmic system, the flowing seas, and the sailing ship, but for the sake of and in the love of the five souls lying underneath the blanket." The trusted Jibrail asked: "O Lord! Who are underneath the blanket?" The Almighty and the Glorious replied: "They are the 'Ahl ul Bayt' of the Prophet, the custodians of the message; they are-Fatimah, her father, her husband and her sons." Jibrail (submissively) asked: "O Lord! May I descend on the earth and be the sixth with them?" "Yes. I give you permission," said Allah. The trusted angel, Jibrail, came down (on the earth), and said: "Peace be on you, O the messenger of Allah. The Highest High says: "Peace be on you. And distinguishes you with greetings and blessings. He tells you: 'In the name of My majesty and glory, verily, I have not created the indeclinable sky, the levelled earth, the bright moon, the resplendent sun, the rotating cosmic system, the flowing seas, and the sailing ship, but for your sake and in your love.' And He has also given me permission to be with you. So may I have your permission O the messenger of Allah." The messenger of Allah replied: "Peace be on you, O the custodian of Allah's revelation, come in and join (us)." Jibrail came in and joined us under the blanket. He told my father: "Verily, Allah has sent a revelation to you. He said: 'Verily Allah's wish is but to keep off from you uncleanness, O Ahl ul Bayt, and to purify you (with) a thorough purification.'" Ali asked my father: "O messenger of Allah, tell us that which makes our assembly under this blanket an event of surpassing excellence before Allah." The Prophet replied: "In the name of He who sent me as a truthful prophet, and chose me as a redeemer to convey His message, I declare that no assembly of our followers and devotees, on the earth, where this event is narrated shall spend a single moment but the mercy of Allah will envelop them, then and there; and countless angels of Allah shall pray for the remission of their sins till the group of the faithful disperse." Ali declared: "Well then, by the Lord of the Ka-bah, we have attained our end, and have been rendered successful, so also our followers!" The Holy Prophet said again: "O Ali! In the name of He who sent me as a truthful Prophet, and chose me as a redeemer to convey His message, I declare that in any of the assemblies of our followers and devotees, on the earth, where this event is narrated, there would not be a grief-stricken among them, but Allah dispels his worries; nor there would be a downcast, among them, but Allah disperses his sorrows; nor would there be a needy, among them, but Allah meets his de