وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ ٱلنَّاسَ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخۡتَلِفِينَ
Had your Lord wished, He would have made mankind one community; but they continue to differ,
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 11:110-123
God has decided to settle the differences in faith on the Day of Judgment having given time to rectify and unify by following prophet and Divine Lights and resisting passionate leaders, which form a test in this world for which hell and heaven are created. God has advised the Prophet and true faithful to stick to text as revealed to the Prophet and be steady at prayer and penance, avoiding society of the passionate as an ultimate source of salvation. Compare St. John 17:6 – 8, Jesus says, “I have manifested Thy name unto which Thou giveth me out of the world Thine they were, and Thou have received them, and have known. Surely, I came out from Thee and they have believed Thou didst me. I pray for them, and I pray not for the world, but for them, whom Thou has given me for they are Thine. Just as a magnet can influence iron and like metals, and not dielectrics, which resist magnetic effect, and are not affected by fire and are worthy of being thrown therein and those which will be destroyed by fire will not be thrown therein. Though, both are created to serve different definite purposes and are useful in their own way.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:118
[Pooya/Ali Commentary 11:118] See commentary of Araf: 18 and Yunus: 19. Aqa Mahdi Puya says: These verses indicate that Allah has given man free choice to develop his native endowments. There is no compulsion. Only those who submit their will to the will of Allah do not differ. On them the Lord bestows His mercy, and for that He has created them. Those who differ are deprived of the mercy of Allah. So the oft-quoted tradition of the Holy Prophet that "differences among my followers are a blessing" must be discarded as spurious or interpreted in a way that does not go against this verse.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:118-119
چندنکات
۱۔ ارادے کی آزادی ۔ اساس دعوت: انسانی خلقت میں ارادے کی آزادی تمام انبیاء کی دعوت کی اساس ہے ۔ اصولی طور پر اس کے بغیر انسان ترقی اور کمال کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتا (یہاں انسانی اور روحانی کمال مراد ہے) اس بناء پر قرآن کی متعدد آیات میں یہ بات دہرائی گئی ہے کہ اگر خدا چاہتا تو تمام لوگوں کو جبری طور پر ہدایت کرتا لیکن اس نے ایسا نہیں چاہا ۔ خدا تو یہ کرتا ہے کہ راہ حق کی دعوت دیتا ہے، راستے کی نشاندہی کرتا ہے، نشانیاں اور علامتیں بتاتا ہے، بے راہ روی کے نتیجے سے خبردار کرتا ہے، رہبر مقرر کرتا ہے اور راستے پر چلنے اور اسے طے کرنے کا پروگرام دیتا ہے ۔ قرآن کہتا ہے: <اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدیٰ راستے کی نشاندہی ہمارے ذمہ ہے ۔ (لیل/۱۲) یہ بھی فرماتا ہے: <اِنَّمَا اٴَنْتَ مُذَکِّرٌ، لَسْتَ عَلَیھِمْ بِمُصَیْطِرٍ تو صرف یاد دہانی کروانے والا نہ کہ زبردستی کرنے والا ۔ (غاشیہ/۲۱۔۲۲) نیز سورہٴ شمس آیہ ۸ میں ہے: <فَاٴَلْھَمَھَا فُجُورَھَا وَتَقْوَاھَا خدا نے انسان کو پیدا کیا اور اسے فجور و تقویٰ کا راستہ بتادیا ۔ سورہٴ دہر کی آیہ ۳ میں ہے: <اِنَّا ھَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِراً وَاِمَّا کَفُوراً ہم نے انسان کو راستے کی نشاندہی کردی ہے ۔ اب وہ چاہے شکر گزاری کرے یا کفران کرے ۔ اس بناء پر محلِ بحث آیات انسانی ارادے کی آزادی اور مکتبِ جبر کی نفی پر زور دینے والی واضح ترین آیات میں سے ہیں اور اس امر کی دلیل ہیں کہ حتمی فیصلہ کرنا خود انسان ہی کا کام ہے ۔ ۲۔ قرآنی آیات اور مقصد خلقت: مقصد خلقت کے بارے میں قرآنی آیات میں مختلف بیانات موجود ہیں، ان میں سے ہرایک اس مقصد کے کسی زاویے کی طرف اشارہ ہے، ان میں سے ایک آیت یہ ہے: <وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُونِ مَیں نے جنّوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔ (ذاریات/۵۶) یعنی مکتبِ بندگی میں تکامل اور ارتقاء کو پہنچ جائیں اور اس مکتب میں انسانیت کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچ جائیں ۔ ایک اور مقام پر ہے: <اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اٴَحْسَنُ عَمَلاً وہ خدا کہ جس نے موت وحیات کوپیدا کیا تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے بہتر عمل کون کرتا ہے ۔ (یعنی ایسا آزمائش کو جس میں تربیت کی آمیزش اور جس کا نتیجہ ترقی وکمال ہو)(مُلک/۲) زیرِ بحث آیت میں فرمایا گیا ہے : ”وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ“یعنی لوگوں کو قبولِ رحمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے، ایسی رحمت کہ جس میں ہدایت اور حتمی فیصلے کی طاقت کی آمیزش ہے ۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں،یہ تمام خطوط ایک ہی نکتے پر پہنچ کر ختم ہوتے ہیں اور وہ ہے انسانوں کی پرورش، ہدایت، پیشرفت اور تکامل وارتقاء کہ جو حتمی واصلی مقصدِ خلقت شمار ہوتا ہے، ایسا مقصد کہ جس کی بازگشت خود انسان کے ساتھ ہے نہ کہ خدا کے ساتھ کیونکہ وہ ایک ایساوجود ہے کہ جس کی تمام پہلووٴں سے کوئی انتہا نہیں اور وہ ایسا معبود ہے کہ جس میں کوئی نقصان نہیں کہ وہ مخلوق کو پیدا کرکے کمی اور ضرورت کو پورا کرے ۔ ۳۔ ایک نکتے کی وضاحت: آخری آیت میں جن وانس سے جہنم کو بھرنے کے بارے میں خدا کی تاکیدی فرمان موجود ہے لیکن واضح ہے کہ اس حتمی فرمان کی صرف ایک شرط ہے اور وہ رحمت الٰہی کے دائرے سے باہر نکلنا اور اس کے بھیجے ہوئے بزرگوں کی ہدایت ورہنمائی کو ٹھکرانا، لہٰذا اس طرح سے آیت نہ صرف مکتبِ جبر کے لئے دلیل نہیں بنتی بلکہ اختیار وآزادی کے لئے تاکید مزید ہے ۔ ۱۲۰ وَکُلًّا نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہِ فُؤَادَکَ وَجَائَکَ فِی ھٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِکْریٰ لِلْمُؤْمِنِینَ ۱۲۱ وَقُلْ لِلَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ إِنَّا عَامِلُونَ ۱۲۲ وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ ۱۲۳ وَلِلّٰہِ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَإِلَیْہِ یُرْجَعُ الْاٴَمْرُ کُلُّہُ فَاعْبُدْہُ وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِ وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ترجمہ ۱۲۰۔ ہم نے پیغمبروں میں سے ہر ایک کی سرگزشت تم سے بیان کی ہے تاکہ تمھارا دل آرام وسکون پائے (اور تمھارا ارادہ قوی ہو) اور ان (واقعات) میں مومنین کے لئے حق، نصیحت اور یاددہانی آئی ہے ۔ ۱۲۱۔ اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تمھارے بس میں ہے اسے انجام دو ہم بھی انجام دیتے ہیں ۔ ۱۲۲۔ اور انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں ۔ ۱۲۳۔ اور آسمانوں اور زمین کے غیب (اور مخفی اسرار) خدا کے لئے اور تمام امور کی بازگشت اس کی طرف ہے، اس کی پرستش کرو اور اس پرتوکل کرو اور جو کچھ تم کرتے ہو تمھارا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے ۔