بَلَىٰۚ مَن كَسَبَ سَيِّئَةٗ وَأَحَٰطَتۡ بِهِۦ خَطِيٓـَٔتُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
Certainly whoever commits misdeeds and is besieged by his iniquity—such shall be the inmates of the Fire, and they will remain in it [forever].
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:72-82
1. When the Prophet was informed they omitted in disclosing Ali’s succession, as declared by him at the Valley of Khum at the Ka‘ba, along with other declarations, he repeated the verse. 2. Major sins of nature of denying the “Unity of God” with “His Justice,” “Prophetship,” and “Imammate” and Reckoning Day are of nature, which will cause Eternal destination in Hell and without which no action is considered valid, which means Eternal hell.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:80-82
(۱) غلط کمائی
کسب اور اکتساب کا معنی ہے جان بوجھ کر ، اپنے اختیار سے کوئی چیز حاصل کرنا ۔ اس لحاظ سے” بلی من کسب سیئة “ ایسے اشخاص کی طرف اشارہ ہے جو علم ، ارادہ اور اختیار سے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور ” کسب “ شاید اس لئے ہے کہ سر سری نظر میں گنہ گار گناہ کو اپنے نفع میں اور اس کے ترک کرنے کو اپنے نقصان میں سمجھتا ہے ۔ ایسے لوگوں ہی کے بارے میں چند آیات کے بعد اشارہ ہوگا جہاں فرمایا گیا ہے : انہوں نے آخرت کو اس دینا کی زندگی کے لئے بیچ ڈالا اور ان کی سزا میں کسی قسم کی تخفیف نہیں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:80-82
نسل پرستی کی ممانعت
زیر بحث آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسل پرستی کی روح جو آج کی دنیا میں بھی بہت سی بد بختیوں کا سر چشمہ ہے اس زمانے میں یہودیوں میں موجود تھی اور وہ اپنے لئے بہت سے خیالی امتیازات کے قائل تھے ۔ کتنے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کئی سال گذرنے کے باوجود ابھی تک یہ نفسیاتی بیماری ان میں موجود ہے اور در حقیقت غاصب اسرائیلی حکومت کی پیدائش کا سبب بھی یہی نسل پرستی ہے ۔ یہودی نہ صرف دنیا میں اپنی برتری کے قائل ہیں بلکہ ان کا اعتقاد ہے کہ یہ نسل امتیاز آخرت میں بھی ان کی مددکرے گا اور ان کے گنہگار لوگ دوسری قوموں کے گنہ گاروں کے بر عکس صرف تھوڑی سی مدت کے لئے خفیف سی سزا پائیں گے ۔ انہی غلط خیالات نے انہی طرح طرح کے جرائم ، بد بختیوں اور سیہ کاریوں میں مبتلا کیے رکھا ہے ۔ ۱ ۸۳۔ و اذ اخذنا میثا ق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اللہ قف و بالوالدین احسانا وذی القربیٰ والیتٰمیٰ و المسٰکین قوالوا للناس حسنا َ و اقیموا الصلوٰة و اٰتو االزکوٰة ط ثم تولیتم الا قلیلا منکم و انتم معرضون ۸۴۔ و اذ اخذنا میثا قکم لا تسفکون دمائکم ولا تخرجون انفسکم من دیارکم ثم اقررتم و انتم تشھدون ۸۵۔ ثم انتم ھٰؤلاء تقتلون انفسکم و تخرجون فریقا منکم من دیارھم تظٰھرون علیھم با لاثم والعدوان ط و ان یا تو کم اسٰریٰ تفٰدوھم وھو محرم علیکم اخراجھم ط افتئو منون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض فما جزاء من یفعل ذٰلک منکم فی الحٰیوة الدنیا ویوم القیامة یردون الی اشد العذاب ط وما اللہ بغافل عما تعملون ۸۶ ۔ اٰولئک الذین اشترو الحیٰوة الدنیا با لاٰخرة فلا یخفف عنھم العذاب ولا ھم ینصرون ۸۳ ۔ اور (یاد کرو اس وقت کو ) جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان لیا کہ تم خدائے یگانہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرو گے اور ماں باپ ، ذوی القربیٰ ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیکی کرو گے اور لوگوں سے اچھے پیرائے میں بات کرو گے ، نیز نماز قائم کرو گے اور زکوٰة اداکرو گے ۔ لیکن عہد وپیمان کے باوجود چند افراد کے سوا تم سب نے رو گردانی کی اور (ایفاء عہد سے )پھر گئے ۔ ۸۴ ۔ اور ( وہ وقت کہ ) جب ہم نے تم سے پیمان لیا کہ ایک دوسرے کا خون نہیں بہاؤ گے اور ایک دوسرے کو اپنی سر زمین سے باہر نہیں نکالو گے ، تم نے اقرار کیا اور تم خود ( اس پیمان پر ) گواہ تھے ۔ ۸۵۔پھر تم ہو کہ ایک دوسرے کو قتل کرتے ہو اور اپنے میں سے ایک گروہ کو سر زمین سے باہر نکال دیتے ہو اور گناہ و ظلم کا ارتکاب کرتے ہو ان پر تسلط حاصل کرتے ہو ( اور یہ سب اس عہد کی خلاف ورزی ہے جو تم نے خدا سے باندھا ہے ) لیکن اگر ان میں سے بعض قیدیوں کی شکل میں تمہارے پاس آئیں اور فدیہ دے دیں تو انہیں آزاد کردیتے ہیں حالانکہ انہیں باہر نکالنا ہی تم پر حرام ہے ۔ کیا تم آسمانی کتاب کے کچھ حصے پر ایمان لے آتے ہو اور کچھ سے کفر اختیار کرتے ہو ۔ جو شخص احکام و قوانین خدا میں تبعیض کا ) یہ عمل انجام دیتا ہے اس کے لئے اس جہان کی رسوائی اور قیامت میں سخت ترین عذاب کی طرف باز گشت کے سوا کچھ نہیں اور خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے ۔ ۸۶۔یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کے لئے آخرت کو بیج دیا ہے لہذا ان کی سزا میں تخفیف نہیں ہوسکتی اور کوئی ان کی مدد نہیں کرے گا ۔ ۱ سورہ نساء آیہ ۱۳۲ کے ذیل میں بھی چھوٹے امتیا زات کی بحث تفسیر نمونہ جلد ۲ میں آئے گی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:80-82
آثار گناہ نے احاطہ کرلیا ہے ” سے کیا مراد ہے
لفظ خطیئہ بہت سے مواقع پر ان گناہوں کو کہا جاتا ہے جو جان بوجھ کر سرزد نہ ہوئے ہوں لیکن محل بحث آیت میں گناہ کبیرہ کے معنی میں آیا ۱ ہے یا اس سے مراد ہے اثار گناہ ۲ جو انسان کے دل و جان پر مسلط ہوجاتے ہیں ۔ بہر حال احاطہ گناہ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اس قدر گناہوں میں ڈوب جائے کہ اپنے لئے ایک ایسا قید خانہ بنالے جس کے سوراخ بند ہوں ۔ اس کی توضیح یوں ہے کہ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا ابتدا ء میں ایک عمل ہوتا ہے ۔ پھر وہ ایک حالت و کیفیت میں بدل جاتا ہے اس کا دوام و تسلسل ملکہ و عادت کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور جب وہ شدید ترین ہوجاتا ہے تو انسان کا وجود گناہ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے ۔ یہ وہ حالت ہے جب کسی قسم کا پند و نصیحت ، موعظہ اور رہنماؤں کی رہنمائی اس کے وجود پر اثر انداز نہیں ہوتی اور حقیقت میں اپنے ہاتھوں اپنی یہ حالت بناتا ہے ۔ ایسے اشخاص ان کیڑوں کی مانند ہیں جو اپنے گرد جال تن لیتے ہیں جو انہیں قیدی بنا کر بالآخر ان کا گلا گھونٹ دیتا ہے ۔ واضح ہے کہ ایسے لوگوں کا انجام ہمیشہ جہنم میں رہنے کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا ۔ کچھ آیات ہیں جن کے مطابق خدا صرف مشرکین کو نہیں بخشے گا لیکن غیر مشرک قابل بخشش ہیں مثلاََ : ان اللہ لا یغفران یشرک بہ و یغفر مادون ذٰلک لمن یشاٰء نساء ۔ ۴۸ ایسی آیا ت اور زیر بحث آیات جن میں ہمیشہ جہنم میں رہنے کا تذکرہ ہے اگر ان دونوں طرح کی آیات کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اسطرح کے گنہگار آخر کار گوہر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور وہ مشرک و بے ایمان ہو کر دنیا سے جاتے ہیں ۔ 1۔ تفسیر کبیر از فخر الدین رازی ، آیہ کے ذیل میں ۔ ۲۔ تفسیر المیزان ، آیہ مذکورہ کے زیل میں ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:81
[Pooya/Ali Commentary 2:81] Aqa Mahdi Puya says: Earning (obtaining a return) is quite different from falling into evil. Those who earn the wages of sin are enclosed in sin. One sin leads to another sin. It is a vicious and unending cycle. Willing yielding to evil for self advancement, erects a fortress of wickedness brick by brick; and access to good becomes impossible. They are enclosed in error. Sinning becomes their nature, as the conscience is paralysed. Total abandonment to evil obtains eternal punishment. They are the people of hell. Man finds himself in such a hopeless situation only when he breaks the covenant made with the Lord and disconnects all links of attachment with the divinely commissioned guides (Baqarah: 38). Even a little liking for the goodness of the holy Imams may change the lifestyle of a habitual sinner.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:81-83
بلند پردازی اور کھوکھلے دعوے
اس مقام پر قرآن یہودیوں کے بے بنیاد دعووں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے مغرور کر رکھا تھا اور جو ان کی کجرویوں کا سر چشمہ تھا ۔ قرآن نے یہاں اس کا جواب دیا ہے ۔ پہلے فرماتا ہے : وہ کہتے ہیں جہنم کی آگ چند روز کے سوا ہمیں ہرگز نہیں چھوئے گی ( وقالو ا لن تمسناالنار الا ایاما معدودة ) ۔ کہیئے : کیا خدا نے تم سے کوئی عہد و پیمان کر رکھا ہے کہ خدا جس کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گا یا پھر بغیر جانے کسی چیز کی خدا کی طرف نسبت دیتے ہو ( قل اتخذتم عند اللہ عھدا فلن یخلف اللہ عھدہ ام تقولون علی اللہ مالا تعلمون ) ۔ملت یہود کو اپنے بارے میں نسلی برتری کا زعم تھا اور یہ قوم سمجھتی تھی کہ جو وہ ہے وہی ہے ۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ ان میں سے جو گنہگار ہیں انہیں فقط چند دن عذاب ہوگا اس کے بعد انہیں ہمیشہ کی جنت ملے گی ۔ یہ ان کی خود خواہی و خود پرستی کی واضح دلیل ہے ۔ یہ امتیاز طلبی کسی بھی منطق کی رو سے روا نہیں اور بارگاہ الہٰی میں اعمال پر جزا و سزا کے سلسلے میں تما م انسانوں میں کوئی فرق نہیں ۔ یہودیوں نے کون سا کارنامہ انجام دیا تھا جس کی بنا ء پر ان کے لئے جزا وسزا کے کلی قانون میں استثناء ہوجائے ۔بہرحال مندرجہ بالا آیت ایک منطقی بیان کے ذریعہ اس غلط خیال کو باطل کردیتی ہے ۔ فرمایا گیا ہے : تمہاری یہ گفتگو دو صورتوں میں سے ایک کی مظہر ہے یا تو اس سلسلے میں خدا کی طرف سے کوئی خاص عہد وپیمان ہوا ہے جب کہ ایسا پیمان تم سے ہوا نہیں یا پھر تم جھوٹ بولتے ہو اور خدا پر تہمت لگاتے ہو ۔ بعد کی اایت ایک کلی و عمومی قانون بیان کرتی ہے جو ہر لحاظ سے عقلی و منطقی بھی ہے ۔ فرمایا گیا ہے : ہاں وہ لوگ جو کسب گناہ کریں اور آثار گناہ ان کے سارے وجود کو ڈھانپ لیں وہ اہل دوزخ ہیں اور وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے ( بلی من کسب سیئة و احاطت بہ خطیئتہ فا ٰوٰلئک اصحٰب النار ھم فیھا خٰلدون ) ۔ یہ ایک کلی قانون ہے کسی قوم وملت اور کسی گروہ و جمعیت کے گنہگار وں میں اور دیگر انسانوں میں موجود گنہ گاروں میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ۔رہے پرہیز گار مومنین تو ان کے بارے میں بھی ایک کلی قانون ہے جو سب کے لئے یکساں ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے عمل صالح انجام دیا ہے ۔ وہ اہل بہشت ہیں اور اہل بہشت ہمیشہ وہیں رہیں گے (و الذین اٰمنو ا وعملواالصالحات اوٰ لئک اصحٰب الجنة ھم فیھا خٰلدون )۔