وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَكُمۡ لَا تَسۡفِكُونَ دِمَآءَكُمۡ وَلَا تُخۡرِجُونَ أَنفُسَكُم مِّن دِيَٰرِكُمۡ ثُمَّ أَقۡرَرۡتُمۡ وَأَنتُمۡ تَشۡهَدُونَ
And when We took a pledge from you, [saying]: ‘You shall not shed your [own people’s] blood, and you shall not expel your folks from your homes,’ you pledged, and you testify [to this pledge of your ancestors].
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:83-86
1. The prophet predicted Hussain’s slaughter with three days’ hunger, thirst by so called Muslims, who will be condemned to Hell.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:83-86
عہد و پیمان کا ذکر
گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے عہد و پیمان کا ذکر تو کہیں آیاہے لیکن اس بارے میں تفصیل بیان نہیں ہوئی لیکن محل بحث آیت میں اس عہد و پیمان کی شقوں کا ذکر کیا گیاہے۔ ان میں سے زیادہ تر یا تمام کی تمام ان امور میں سے ہیں جنہیں ادیان الہی کے ثابت شدہ احکام کا نام دینا چاہئے کیونکہ تمام آسمانی ادیان میں یہ پیمان اورا حکام موجود ہیں۔ ان آیات میں قرآن یہودیوں کو شدید سرزنش کررہاہے کہ تم نے اس پیمان کو کیوں توڑدیا۔ قرآن انہیں یہ پیمان توڑنے کی پاداش میں اس جہان کی رسوائی اور اس جہان کے شدید عذاب سے ڈرا رہاہے۔ یہ پیمان جس کے بنی اسرائیل خود شاہد تھے اور اس کا اقرار کرتے تھے ان امور پر مشتمل ہے۔ ۱۔ اس وقت کو یاد کر و جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدائے یکتا کے سوا کسی کی عبادت نہیں کروگے اور کسی بت کے سامنے سر تعظیم نہیں جھکاؤگے ( و اذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اللہ)۔ ۲۔ ماں باپ سے نیکی کروگے (وبالوالدین احسانا)۔ ۳۔ اپنے رشتہ داروں یتیموں اور مدد طلب کرنے والے محتاجوں سے بھی نیکی کروگے ( و ذی القربی و الیتمی و المساکین)۔ ۴۔ اجتماعی طور پر لوگوں کے ساتھ تمہارا سلوک اچھا ہوگا اور لوگوں سے اچھے پیرائے میں بات کروگے (و قولوا للناس حسنا)۔ ۵۔ نماز قائم کروگے اور ہر حالت میں خدا کی طرف متوجہ رہوگے (و اقیموا الصلاة)۔ ۶۔ زکوة ادا کرنے اور محروم لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کروگے( واتوالزکوة)۔ لیکن تم میں سے مختصر سے گروہ کے علاوہ سب نے اپنے عہد سے منہ ہوڑلیا اور اپنے پیمان کو ایفا کرنے سے روگردانی کی (ثم تولیقم الا قلیلا منکم و انتم معرضون)۔ ۷۔ یاد کرو اس وقت کو جب تم سے ہم نے عہد لیا کہ ایک دوسرے کاخون نہیںبہاؤگے (و اخذنا میثاقکم اد تسفکون دماء کم)۔ ۸۔ ایک دوسرے کو اپنی بستیوں سے باہر نہیں نکا لوگے ( و لا تخرجون انفسکم من دیارکم)۔ ۹۔ اگر کوئی شخص تم میں سے جنگ کے دوران قید ہوجائے تو سب اس کی آزادی کے لئے مدد کروگے فدیہ دو گے اور اسے آزاد کراؤگے (پیمان کا یہ مفہوم) (افتومنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض) سے حاصل کیا گیاہے جو بعد میں آئے گا)۔ پھر تم نے ان سب شرائط کا اقرار کیا اور اس پیمان پر خود گواہ ہوئے (ثم اقررتم و انتم تشہدون)۔ لیکن تم نے ان میں سے بہت ہی شرائط کو پاؤں تلے روند ڈالا۔ تم وہی تھے جو ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے اور اپنے میں سے کچھ لوگوں کو ان کی زمین سے نکال دیتے تھے (ثم انتم ھولاء تقتلون انفسکم و تخرجون ) اور تعجب کی بات یہ کہ فدیہ دینے اور قیدیوں کو آزاد کرانے میں تم تورات کے حکم اور پیمان الہی سے سند حاصل کرتے تھے۔ کیا کتاب الہی کے بعض احکامات پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر اختیار کرتے ہو ( َفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ)یہ جو تم احکام الہی میں تبعیض و تفریق ر وا سمجھے ہو اس کی جزا اس جہا ن کی رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں ( فَمَا جَزَاءُ (۱)مَنْ یَفْعَلُ ذَلِکَ مِنْکُمْ إِلاَّ خِزْیٌ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا)اور قیامت کے دن ایسے لوگ سخت ترین عذاب کی طرف پلٹیں گے (یوم القیامة یردون الی اشد العذاب ) اور خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے ( وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ) ۔ بلکہ اس نے تمہارے اعمال کی کلیات و جزئیات کو بڑی باریکی سے شمار کیا ہے اور اس کے مطابق تمہیں بدلادے گا۔ محل بحث آیت کے آخر میں ان کے ان اعمال کا اصلی سبب بیان کیاہے جو خلاف حقیقت ہیں۔ فرمایا ہے: یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی ہے (اولئک الذین اشتروا الحیوہ الدنیا بالاخرہ) اسی بنا ء پر ان کے عذاب میں تخفیف نہیں ہوگی اور کوئی ان کی مدد کے لئے کھڑا نہیں ہوگا(فَلاَیُخَفَّفُ عَنْہُمْ الْعَذَابُ وَلاَہُمْ یُنصَرُونَ(
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:83-86
آیات کا تاریخی پر منظر
جیسا کہ مفسرین نے نقل کیاہے بنی قریظہ اور بنی نضیر جو یہود یوں کے دو گروہ تھے۔ ان کی آپس میں قریبی رشتہ داری تھی تا ہم دنیاوی منافع کی خاطر ایک دوسرے کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجاتے تھے۔ بنی نضیر، قبیلہ خزرج سے مل گئے تھے۔ جو مدینہ کے مشرکین کا قبیلہ تھا اور بنو قریظہ اوس کے ساتھ مل گئے تھے۔ ان دو قبیلوں کے در میان جو جنگی ہوتی تھیں ہر گروہ اپنے ہم پیمان قبیلے کی مدد کرتاتھا اور اس طرح دوسرے گروہ کے خلاف لڑتا اور جب جنگ کی آگ سرد پڑجاتی تو تمام یہودی جمع ہوجاتے اور ایک دوسرے سے اتحاد کرتے تا کہ فدیہ ادا کرے اپنے قیدیوں کو آزاد کرا لیں۔ اس عمل میں وہ تورات کے حکم اور قانون کو سند مانتے حالانکہ اوس و خزرج دونوں مشرک تھے اولا ان کی مدد کرناہی جائز نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ وہی قانون جو فتنہ کا حکم دیتاہے قتل کرنے سے بھی رد کتاہے ۔ یہودی دیگر ہٹ دھرم اور نادان قوموں کی طرح ایسے بہت سے اعمال انجام دیتے تھے جو ایک دوسرے کے ضد تھے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:83-86
قوموں کی زندگی کے لئے بنیادی احکام
دوسری طرف قوموں کی بقاء اور ہمیشگی کے لئے افراد ملت کے ما بین خصوصی وابستگی ضروری ہے ، ایسا یوں ممکن ہے کہ ہر شخص اپنے ماں باپ سے جن زیادہ قریب کی وابستگی ہے، عزیز و اقارب سے جو وابستگی کے اعتبار سے ایک فاصلے پرہیں اور پھر معاشرے کے تمام افراد سے نیکی اور اچھائی کے ساتھ پیش آئے تا کہ سب ایک دوسرے کے دست و بازوبنیں ( وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا وَذِی الْقُرْبَی وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا ( قوم کے کمزور و ناتواں افراد کی تقویت روحانی اور مادی طور پر اس ہمیشگی میں کافی حصہ رکھتی ہے اور اس طرح دشمن کے لئے کوئی کمزور جگہ باقی نہیں رہتی اور قوم میں کوئی فرد مشکلات اور سختی میں نہیں رہتا کہ وہ ان مشکلات کے نتیجے میں اپنے آپ کو دشمن کے دامن میں جا گرائے ( وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِین( ہر قوم کے زندہ رہنے کے لئے مالی و اقتصادی بنیاد کا استحکام بھی بڑا حصہ ادا کرتاہے جو زکوة کی ادائیگی سے انجام پذیر ہوتاہے )َ وَآتُوا الزَّکَاة) ایک طرف کامیابی کے لئے یہ امور ہیں اور دوسری طرف قوموں کی شکست اور بربادی کا راز اس وابستگی کے ٹوٹ جانے اور کشمکشوں اور اندرونی جنگ شروع ہونے میں ہے۔ وہ قوم جس میں داخلی جنگ شروع ہوجائے اور تفرقہ بازی کا پتھر اس میں پھینک دیاجائے، اس کے افراد ایک دوسرے کی مدد کے بجائے ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جائیں، ایک دوسرے کے مال اور زمین پر قبضہ جمانے پر تل جائیں ،۔ ۱۔ جملہ (ما جزا) میں لفظ (ما) ممکن ہے نافیہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ استفہامیہ ہو لیکن نتیجے کے طور پر ہر دو طرح سے کوئی فرق نہیں۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:84
[Pooya/Ali Commentary 2:84] Ibna Hisham in "Siratun Nabi", and Amir Ali in the "Spirit of Islam" say that this reminder is directed to the Bani Israil, who entered into a treaty with the Holy Prophet at Madina. A few clauses are quoted below: "Whosoever is rebellious, or seeks to spread enmity and sedition, the hand of every man shall be against him, even if he be a son. Whosoever of the Jews follows us shall have aid and succour; they shall not be injured, nor shall any enemy be aided against them. The Jewish clans in alliance with the several tribes of Madina are one people with the believers. The Jews will profess their religion, the Muslims theirs. As with the Jews, so with their adherents. No one shall go forth to war excepting with the permission of Muhammad, but this shall not hinder any from seeking lawful revenge. The Jews shall be responsible for their expenditure, the Muslims for theirs, but if attacked each shall come to the assistance of the other. Madina shall be sacred and inviolable for all that join this treaty; controversies and disputes shall be referred to for the decision of God and His Prophet. None shall join the men of Makka or their allies, for verily the engaging parties are bound together against every one that shall threaten Madina. War and peace shall be made in common." Aqa Mahdi Puya says: Although the Jews acknowledged and witnessed the divine command not to shed blood of their people, nor drive them away out of their habitations, yet they transgressed. This Jewish attitude was conspicuously noticeable in the nature of the Muslim ummah, when they killed, tormented and abused the holy family of the Holy Prophet in Kerbala and after Kerbala. Imam Ali bin Husayn al Zaynul Abidin had said: In view of the clear instructions of the Holy Prophet and the decisive injunctions of the Quran it is obligatory to love, revere and follow the Ahl ul Bayt, but, even if the prophet had commanded the ummah to hate and abuse his children, they could not have been able to do worse than what they did to us. They persecuted the Ahl ul Bayt in whichever town they took shelter, forced them to drift from place to place, and at last surrounded them from all sides in the desert of Kerbala, and then murdered in cold blood, all the male friends, relatives and companions of Imam Husayn, the grandson of the Holy Prophet They spared no one, not even the six month infant son of the Holy Imam. The persecutors, in devilish frenzy, trampled the bodies of the devoted martyrs under the hooves of their horses, plundered, looted and set the tents of the Ahl ul Bayt on fire. It was a premeditated, ruthless and satanic dance of death. The ladies and children of the holy house in chains, along with the severed heads of the martyrs, walked through the streets of Kufa and Damascus (to the court of Yazid). The tragedy of Kerbala casts a gloom upon every refined, compassionate and God-fearing soul. It makes hearts bleed, and tears flow. Cries of lamentation reach the heavens. In the court of Yazid, Bibi Zaynab binta Ali stood up and said in a clear, definite and strong voice: O Yazid! What would the Holy Prophet say if he sees us in this condition today? Think you O Yazid, that by killing our men and capturing us and reducing us to this state, you have won and we have lost? Then verily you are mistaken. Our cause has been established by Allah and no power on earth can ever do it any harm. The temporal power which you assume is to be counted but only for a very few days and then you shall feel sorry for your tyranny but it shall be in vain. The divine kingdom is with us and shall remain with us for ever. All that you possess is nothing but a passing show and there is nothing divine in it. Verily, Satan holds power on the earth more than all the tyrants together but in the eyes of Allah he is the cursed and the derided one. It appears that sins have encompassed your heart and severed all the links of faith and made you bold to utter the proud words against the truth. "Have they not travelled on the earth and seen how the others before them had met their end? They were far more powerful than them, dug up the earth and built far more than what did they build; and their messengers came to them with clear proofs. It was not for Allah to wrong them, they wronged themselves. Then evil was the end of those who did evil, for they belied the signs of Allah and made fun of them."