ٱسۡتِكۡبَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَكۡرَ ٱلسَّيِّيِٕۚ وَلَا يَحِيقُ ٱلۡمَكۡرُ ٱلسَّيِّئُ إِلَّا بِأَهۡلِهِۦۚ فَهَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ ٱلۡأَوَّلِينَۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗاۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَحۡوِيلًا
due to their domineering [conduct] in the land and their devising of evil schemes; and evil schemes beset only their authors. So do they await anything except the precedent of the ancients? Yet you will never find any change in Allah’s precedent, and you will never find any revision in Allah’s precedent.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 35:38-45
Clear.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:42-44
سوره فاطر / آیه 42 - 44
(42) وَاَقْسَمُوْا بِاللّـٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِـهِـمْ لَئِنْ جَآءَهُـمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُـوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُـمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُـمْ اِلَّا نُفُوْرًا (43) اِسْتِكْـبَارًا فِى الْاَرْضِ وَمَكْـرَ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْـرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهْلِـهٖ ۚ فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِيْنَ ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّـٰهِ تَبْدِيْلًا ۖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّـٰهِ تَحْوِيْلًا (44) اَوَلَمْ يَسِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ وَكَانُـوٓا اَشَدَّ مِنْـهُـمْ قُوَّةً ۚ وَمَا كَانَ اللّـٰهُ لِيُعْجِزَهٝ مِنْ شَىْءٍ فِى السَّمَاوَاتِ وَلَا فِى الْاَرْضِ ۚ اِنَّهٝ كَانَ عَلِيْمًا قَدِيْـرًا ترجمہ (42) انہوں نے انتہائی تاکید کے ساتھ قسم کھائی کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا پیغمبر ان کے پاس آئے تو وہ سب سے زیادہ ہدایت یافتہ امت ہوں لیکن جب ان کے پاس اپنی ہرآیاتوسوائے فراراور (حق سے) دوری کے ان میں کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ (43) یہ سب کچھ اس بناء پر تھا کہ انہوں نے زمین میں استکبار کیا اور بری سے بری چالیں چلیں لیکن یہ بری چالبازیاں صرف اپنے چلانے والوں کا دامن ہی پکڑتی وہیں۔ کیا انہیں اپنے سے پہلے لوگوں کے ساتھ برتے جانے والے طرز عمل (اور ان پر ہونے والے سخت عذاب) سے مختلف کی توقع ہے۔ تم ہرگز خدا کے طریقے میں کوئی تبدیلی نہ دیکھو گے۔ اور ہرگز خدا کی سنت میں کوئی تغیرنہ پاؤگے۔ (44) کیا انہوں نے زمین میں چل بھر کر نہیں دیکھا کہ جو ان سے پہلے تھے ان کے ساتھ کیا ہوا ؟ (جبکہ) وہ لوگ ان سے زیادہ قوی (اور زیادہ طاقتور تھے)۔آسمان اور زمین میں سے کوئی چیز اس کے احاطۂ قدرت سے باہر نہیں جائے گی ۔ وہ دانا اور توانا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:42-44
شان نزول
شان نزول تفسیر درالمنشور ، روح المعانی ، مفاتیح الغیب اور دوسری تفسیروں میں ہے کہ مشرکین عرب جس وقت یہ سنتے تھے کہ بعض گزشتہ امتوں مثلًا یہودیوں نے خدائی پیغمبروں کی تکذیب کی تھی اور انہیں شہید کردیا تھا تو کہتے تھے کہ ہم ایسے نہیں ہیں ، اگر خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر ہمارے پاس آئے تو ہم تمام امتوں کی نسبت زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے ، لیکن وہی لوگ تھے کہ جب اسلام کا آفتاب و عالم تاب ان کی سرزمین سے طلوع ہوا اور پیغمبراسلامؐ سب سے عظیم کتاب لے کر ان کے پاس آئے تو نہ صرف یہ کہ انہوں نے ان کی دعوت قبول نہ کی بلکہ جھٹلایا ، طرح طرح کے مکر و فریب بھی کیے اور آپؐ کے خلاف لڑے بھی۔ زیر نظرآیات اسی ضمن میں نازل ہوئیں اور انہیں ان کھوکھلے اور بے بنیاد دعووں پر ملامت و سرزنش کی۔ ؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:42-44
شان نزول
شان نزول تفسیر درالمنشور ، روح المعانی ، مفاتیح الغیب اور دوسری تفسیروں میں ہے کہ مشرکین عرب جس وقت یہ سنتے تھے کہ بعض گزشتہ امتوں مثلًا یہودیوں نے خدائی پیغمبروں کی تکذیب کی تھی اور انہیں شہید کردیا تھا تو کہتے تھے کہ ہم ایسے نہیں ہیں ، اگر خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر ہمارے پاس آئے تو ہم تمام امتوں کی نسبت زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے ، لیکن وہی لوگ تھے کہ جب اسلام کا آفتاب و عالم تاب ان کی سرزمین سے طلوع ہوا اور پیغمبراسلامؐ سب سے عظیم کتاب لے کر ان کے پاس آئے تو نہ صرف یہ کہ انہوں نے ان کی دعوت قبول نہ کی بلکہ جھٹلایا ، طرح طرح کے مکر و فریب بھی کیے اور آپؐ کے خلاف لڑے بھی۔ زیر نظرآیات اسی ضمن میں نازل ہوئیں اور انہیں ان کھوکھلے اور بے بنیاد دعووں پر ملامت و سرزنش کی۔ ؎1
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 35:43
[Pooya/Ali Commentary 35:43] The ancient people who rebelled against the truth and lived beyond the control of faith in Allah, were given respite. First they were shown mercy and given the opportunity to amend their beliefs and ways, then Allah sent His prophets to admonish them and exhort them to good in thought and deed. Finally, after rejecting all the opportunities of Allah's grace and mercy to come on the right path, they were justly requited with the punishment that they themselves had earned. The people are asked indirectly whether they would like to follow in the footsteps of the ancient people, or, would they repent for their past actions, asking Allah's forgiveness, and doing good in the future.