وَٱلَّذَانِ يَأۡتِيَٰنِهَا مِنكُمۡ فَـَٔاذُوهُمَاۖ فَإِن تَابَا وَأَصۡلَحَا فَأَعۡرِضُواْ عَنۡهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ تَوَّابٗا رَّحِيمًا
Should two among you commit it, chastise them both; but if they repent and reform, let them alone. Indeed Allah is all-clement, all-merciful.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:15-16
اسلام کے تعزیری قوانین کا سہل اور ممتنع طریقہ
کبھی کبھی بعض لوگ کئی ایک مناسبتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ سوال کرتے ہیں کہ اسلام نے تعزیری قوانین کی اتنی سخت اور باقابل برداشت سزائیں کیوں مقرر کی ہیں ۔ مثلا ً ایک مرتبہ شادی شدہ عورت سے زنا کرنے کی سزا پہلے عمر قید مقرر ہوئی اس کے بعد قتل ۔ کیا بہتر نہیں ہے کہ اس قسم کے گناہوں کی سزا زیادہ نرم اور ہلکی دی جائے تا کہ جرم اوع سزا میں اعتدال قائم رہے ۔ لیکن ذرا سوچئے اگر چہ اسلام کے تعزیری قوانین اور سزائیں بظاہر سخت اور شدید دکھائی دیدتی ہیں لیکن اس کے مقابلے میں جرم کے ثابت ہونے کا طریقہ اتنا آسان نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ایسی شرطیں لگائی گئی ہیں کہ غالبا ً جب تک ڈنکے کی چوٹ اور بر سر عام نہ کیا جائے وہ شرائط پوری نہ ہوں گی ۔ مثلاً گوہوں کی تعداد چار ہے ۔ جس کی طرف ہم گذشتہ آیت میں اشارہ کر چکے ہیں کہ صرف نڈر اور لا پرواہ افراد ہی مجرم ثابت ہو سکتے ہیں ۔ واضح ہے کہ اس قسم کے اوباش لوگوں کو سخت سزا دینا چاہیے ۔ تا کہ وہ معاشرے کے لئے عبرت بن سکیں اور وہ گناہ کی آلودگی سے پاک ہو جائے ۔ اسی طرح گواہوں کی شہادت کے لئے کچھ شرطیں ہیں مثلا آنکھوں سے دیکھنا اور قنائن پر قناعت نہ کرنا اور شہادت میں یکسانیت وغیرہ جو کہ جرم کو ثابت اور گھناوٴنا کر دیتی ہے ۔ اس طرح اس قسم کی سخت ترین سزا کا امکان گناہ گاروں کے سامنے رکھا ہے اور یہ احتمال چاہے کتنا ہی ضعیف کیوں نہ ہو بہر حال بہت سے لوگوں کی نفسیات پر اثر انداز ہو سکتا ہے لیکن اسلام نے اس کے اثبات کو مشکل کر دیا ہے تا کہ اگر ایسے مواقع آئیں تو عملی طور پر یہ سزا وسیع پیمانے پر نہ دی جاسکے ۔ در حقیقت اسلام چاہتا ہے کہ اس قانون تعزیر کا اثر تہدید بھی قائم رہے اور زیادہ افراد قتل بھی نہ ہوں ۔غرض نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سزا کے تعین اور اثبات جرم کی راہ میں اسلام کا یہ طریقہ ایسی روش ہے جو معاشرے کو گناہ کی آلودگی سے بچانے کے لئے بہت موثر ہے جبکہ جن افراد کو یہ سزا دی جاتی ہے وہ زیادہ تعداد میں بھی نہیں ہیں ۔ اسی بنا پر ہم نے اس روش اور طریقہ کا عنوان سہل اور ممتنع رکھا ہے ۔ ۱۷۔ إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَی اللَّہِ لِلَّذینَ یَعْمَلُونَ السُّوء َ بِجَہالَةٍ ثُمَّ یَتُوبُونَ مِنْ قَریبٍ فَاٴُولئِکَ یَتُوبُ اللَّہُ عَلَیْہِمْ وَ کانَ اللَّہُ عَلیماً حَکیماً ۔ ۱۸ ۔وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذینَ یَعْمَلُونَ السَّیِّئاتِ حَتَّی إِذا حَضَرَ اٴَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قالَ إِنِّی تُبْتُ الْآنَ وَ لاَ الَّذینَ یَمُوتُونَ وَ ہُمْ کُفَّارٌ اٴُولئِکَ اٴَعْتَدْنا لَہُمْ عَذاباً اٴَلیماً ۔ ترجمہ ۱۷ ۔ توبہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو جہالت کی وجہ سے برے کام کرتے ہیں اور اس کے بعد جلدی سے توبہ کر لیتے ہیں ۔خدا ایسے لوگوں کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے اور وہ دانا و حکیم ہے ۔ ۱۸ ۔اور برے کام کرنے والے لوگوں میں سے جب کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں ۔ یہ توبہ نہیں ہے اور نہ ان کے لئے جو حالت کفر میں دنیا سے اٹھ جا تے ہیں ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:15-22
Notes are enough.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:16
[Pooya/Ali Commentary 4:16] The crime, mentioned here, is adultery. Adhuhuma-hurt or punish both of them. If they sincerely repent and reform, Allah accepts repentance because He is merciful. Repentance has for its elements:- (i) no premeditation but ignorance, (ii) immediate realisation of the offence, (iii) enlightenment of the heart, (iv) detestation of the sin, (v) a resolve to avoid it in the future, (vi) an earnest craving for Allah's forgiveness. It is stated that a faithful commits a sin, inspite of the knowledge of the law, under the satanic influence, in a fit of passion or in a moment of forgetfulness. Allah does not accept the repentance of those who continue indulging in sin until death draws near, nor of those who die disbelieving.