وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ لَّهُمۡ فِيهَآ أَزۡوَٰجٞ مُّطَهَّرَةٞۖ وَنُدۡخِلُهُمۡ ظِلّٗا ظَلِيلًا
As for those who have faith and do righteous deeds, We shall admit them into gardens with streams running in them, to remain in them forever. In it, there will be chaste mates for them, and We shall admit them into a deep shade.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:51-59
Bodily and foot remarks, if honestly studied should suffice.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:56-57
ایک سوال اور اس کا جواب
ممکن ہے کہ کچھ لوگ یہ اعتراض کریں کہ آیاتِ مندرجہ بالا کہتی ہیں کہ جس وقت بد کاروں کی جلد جلے گی تو ہم اس کی جگہ دوسری جلد دے دیں گے تاکہ وہ سزائے الہٰی میں گرفتار ہیں ۔ گناہگار جلد کی بجائے بے گناہ نئی جلد کو سزا دینا عدالت خدا وندی کے مطابق نہیں ہے ۔ مشہور و معروف مادہ پرست ابن ابی العوجاء نے جو حضرت امام جعفر صادق (ع) کا ہم عصر تھا بالکل یہی سوال آپ(ع) سے کیا تھا اورآیت مندرجہ بالا پڑھ کر کہتا تھا: ماذنب الغیر نئی جلد اور کھال کا کیا قصور ہے ۔ حضرت امام صادق (ع) نے اسے مختصر لیکن پر معانی جواب دیا فرمایا : ھی ھی وھی غیرھا یعنی نئی جلد وہی پرانی جلد ہے باوجود اس کے کہ اس کی بجائے ہے ۔ ابن ابی العوجاء جانتا تھا کہ اس مختصر سی عبارت میں کوئی راز پوشیدہ ہے ۔ اس لئے کہنے لگا ۔ مثلی فی ذٰلک شیئاً من امر الدنیا اس سلسلے میں میرے لئے کوئی مثال دیجئے امام (ع) نے فرمایا : ارء یت لو ان رجلاً اخذ لبنة فکسر ھا ثم ردوھا فی ملبنا فھی ھی وھی غیرھا یہ اس طرح ہے کہ ایک شخص اینٹ کو توڑ تا ہے اور ریزہ ریزہ کرکے دوبارہ سانچے میں ڈال دیتا ہے اور نئی اینٹ بناتا ہے ۔ تو یہ دوسری اینٹ وہی پہلی اینٹ ہے باوجودی اس کے کہ نئی اینٹ بھی ہے ( اس کا اصلی مادہ محفوظ ہے صرف اس کی شکل بدل گئی ہے )۔( مجالس ِ شیخ و احتجاج طبرسی ) اس روایت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نئی جلد اسی پرانی جلد سے تیار ہو گی ۔ ضمناً یادرکھئیے کہ حقیقت میں سزا و جزا انسان کی روح اور قوت ِ ادراک سے تعلق رکھتی ہے ۔ جسم تو صرف سزا و جزا کو روح کی طرف منتقل کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ ۵۸۔إِنَّ اللَّہَ یَاٴْمُرُکُمْ اٴَنْ تُؤَدُّوا الْاٴَماناتِ إِلی اٴَہْلِہا وَ إِذا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اٴَنْ تَحْکُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہِ إِنَّ اللَّہَ کانَ سَمیعاً بَصیراً۔ ترجمہ ۵۸۔ خدا وند عالم تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو پہنچا دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگو تو عدل کے مطابق فیصلہ کرو۔ خدا تمہیں اچھی نصیحت اور وعظ کرتا ہے ۔ خدا سننے والا اور جاننے والاہے ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:57
[Pooya/Ali Commentary 4:57] See the commentary of al-Baqarah: 25. "Coolest of shades" means the blissful shadow of the divine attributes and the holy names referred to in verses 31, 32, 33, 37 of al-Baqarah. In view of verse 61 of Ali Imran, verse 33 of al-Ahzab and verse 23 of Al Shura, a believer must love and cherish the Ahl ul Bayt to deserve the rewards mentioned in this verse. Without love and attachment with the Ahl ul Bayt one cannot truly follow the right path, moreover, a person who does not pay the wages of prophethood (Shura: 23) is not a believer at all.