وَأُخۡرَىٰ لَمۡ تَقۡدِرُواْ عَلَيۡهَا قَدۡ أَحَاطَ ٱللَّهُ بِهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٗا
And other [spoils as well] which you have not yet captured: Allah has comprehended them, and Allah has power over all things.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 48:18-26
1. It should be carefully perused God has expressed His will towards the faithful only and not all those who by their haughty behaviour were excluded. (The inner secrets of their hearts being known to God.) 2. Secret of Bait-ur-Rizwan had been revealed by a clever decision in the truce affected in saving the lives of faithful men and women and who had concealed their faith for having tolive with the majority of infidels in Mecca. This is Divine Wisdom. The Prophet simply complied with Divine Commands. 3. Such acts are noticed when Ali, in the Battle of Siffin, prevented Malik-e-Ashtar to finish off the battle, and similarly Imam Hussain at Karbala held back the general onslaught of the enemy. This also explains postponement of the emergence of the 12th Divine Light until all the faithful are born. The Divine secrets are only made known to Divine Lights by Divine Messages. They act righteously throughout their life, unlike political pedagogue claiming to serve the nation, dedicating themselves and praying mob leading to ruin their ultimate cause (12-9-55). They rely on the wisdom of the mob.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:20-21
صلح حدیبیہ کی مزید برکات
ان برکات وفوائد کی ،جواس رہ گز رسے مسلمانوں کونصیب ہُوئے .تشریح کررہی ہیں ۔ پہلے فرماتاہے خدانے بہت سے غنائم کاتم سے وعدہ کیاہے ، جنہیں تم حاصل کروگے ، لیکن یہ ایک بہت جلدی تمہارے لیے فراہم کردی ہے (وَعَدَکُمُ اللَّہُ مَغانِمَ کَثیرَةً تَأْخُذُونَہا فَعَجَّلَ لَکُمْ ہذِہِ) ۔ آ یت کالب ولہجہ بتاتاہے کہ یہاں غنائم کثیرہ سے مراد وہ تمام غنائم ہیں جو خدانے مسلمانوں کوعطا کیے تھے ،چاہے تھوڑ ی مُدّت میں اور چاہے طویل مدت میں ،یہاں تک کہ مفسرین کی ایک جماعت کانظر یہ ، یہ ہے کہ وہ غنائم جودامن قیامت تک مسلمانوں کے ہاتھ آ تے رہیں گے وہ بھی اس عبارت میں داخل ہیں ۔ اور یہ جووہ کہتاہے ان میں سے یہ ایک بہت جلد ی تمہارے لیے فراہم کی ہے ، توغالباً اسے غنائم خیبر کی طرف اشارہ سمجھا ہے جومختصر سے فاصلہ میںفتح حدیبیہ کے بعد فراہم ہوئی ۔ لیکن بعض نے یہ احتمال دیاہے کہ ھذہ فتح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہے ،جوعظیم ترین معنوی فتح تھی ۔ اس کے بعد اس ماجرہ میں مسلمانوں کے لیے خداکے الطاف میں سے ایک دوسرے لُطف کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید فر ماتاہے : اورلوگوں کے دست تعدی کوتم سے روک دیا وَ کَفَّ أَیْدِیَ النَّاسِ عَنْکُم ۔ یہ ایک بڑالطف تھا کہ وہ افراد کی کمی اور کافی مقدار میںآ لاتِ جنگ کے نہ ہونے کے باوجود وہ بھی وطن سے دور دراز کے علاقہ میں اور دشمن عین گڑ ھ میں حملے سے بچے رہے ، اوردشمن کے دل میں اس طرح کارعب ڈالا کہ جس وجہ سے وہ ہر قسم کاحملہ کرنے سے رُکے رہے ۔ مفسرین کی ایک جماعت اس جملہ کوخیبر کے ماجر ے کی طرف اشارہ سمجھتی ہے کہ بنی اسد اور بنی غطفان کے قبائل ین یہ مصمم ارادہ کیاہوا تھا کہ مسلمانوں کے پیچھے مدینہ پر حملہ کردیں اور مسلمانوں کے اموال کولُوٹ کرے جائیں اوران کی خواتین کو قید کرلیں یاان دونوںقبیلوں کی ایک جماعت کے مصمم ارادہ کی طرف اشارہ سمجھاہے .جن کاارادہ یہ تھا کہ یہود یوں کی مدد کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں ،لیکن خدانے ان کے دلوں میں رعب اوروحشت ڈال دی اور وہ اپنے ارادہ سے باز آگئے ۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ نظر آ تی ہے ، چونکہ بعد کی چند آ یات میں ہم اسی تعبیر کومشاہد ہ کرتے ہیںجواہل مکّہ کے بارے میںگفتگو کررہی ہے ، اورایک تفصیل و تشریح کے مانند ہے ، اِس مطلب کے لیے جوزیر بحث آ یت میں آ یاہے ۔ اورقرآن کی روش کے ساتھ جواجمال وتفصیل کی روش دہے سازگار ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ مشہور روا یات کے مطابق ساری سورۂ فتح ماجرا ئے حد یبیہ کے بعد اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم) کی مکّہ سے مدینہ کی طرف بازگشت کی راہ میں نازل ہوئی ۔ اس کے بعد اس آ یت کو جاری رکھتے ہُوئے خداکی نعمتوںمیں سے دودوسری عظیم نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرماتاہے ، مقصد یہ تھا کہ یہ واقعات مومنین کے لیے ( تیری دعوت کی حقانیت پر )نشانی بنیں ،اور خدا تمہیں صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت کرے (عَنْکُمْ وَ لِتَکُونَ آیَةً لِلْمُؤْمِنینَ وَ یَہْدِیَکُمْ صِراطاً مُسْتَقیماً ) ۔ اگرچہ بعض مفسرین تمکون کی ضمیر کو غنائم موعود کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور بعض دوسرے مسلمانوں کودشمنوں کے حملے سے محفوظ رکھنے کی طرف ، لیکن مناسب یہ ہے کہ یہ ضمیر حدیبیہ کے تمام حوادث اوراس کے بعد کے واقعات کی طرف لوٹے ، کیونکہ ان میں سے ہر ایک خداکی آ یتوں میں سے ایک آ یت ، اور پیغمبر کی صداقت پرایک دلیل، اور لوگوں کے لیے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت کاایک وسیلہ تھا ، اوران کاایک حِصّہ توپیشین گوئی اور خبر غیبی کاپہلو رکھتاتھا اوران میں سے بعض عام ، قسم کے حالات واسباب کے ساتھ سازگار نہ تھے ، اورمجموعی طور سے یہ سب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے معجزات میں سے واضح معجزہ شمار ہوتے تھے ۔ بعد والی آ یت میں مسلمانوں کو مزید بشارت دہتے ہُوئے کہتاہے : خدانے تمہیں اوردوسری فتو حات اورغنیمتوں کا وعدہ دیا، جن پرتمہیں نہ پہلے قدرت تھی نہ اب ہے ،لیکن خداکی قدرت ان سب پراحاطہ کیے ہُوئے ہے ،اورخدا ہر چیز پرقادر ہے :(وَ أُخْری لَمْ تَقْدِرُوا عَلَیْہا قَدْ أَحاطَ اللَّہُ بِہا وَ کانَ اللَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیراً ) ۔ اس بارے میں کہ یہ وعدہ کونسی غنیمت اورکونسی کامیابی کی طرف اشارہ ہے ،مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض تو اسے فتح مکّہ اور حنین اور غنیمتوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور بعض ان فتو حات اور غنیمتوں کی طرف ، جو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بعد اُمّت اسلامی کی نصیب ہوئیں ( مثل فتح ایران وروم ومصر) ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ان تمام ہی کی طرف اشارہ ہو( ١) ۔ لَمْ تَقْدِرُوا عَلَیْہا کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمان اس سے پہلے ہرگز اس قسم کے فتوحات وغنائم خیال تک نہ دیتے تھے ،لیکن اسلام کی بر کت اور خدائی امدا دوں کی بناء پر ان میں یہ قدرت پیدا ہوگئی ۔ بعض نے اس جُملہ سے یہ مطلب نکالا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان پہلے سے ان فتوحات کے بارے میں بحث چلی ہوئی تھی ،لیکن وہ ان کوانجام دینے کے لیے خود کونا تواں اورکمز ور سمجھتے تھے ، خصوصاً وہ حدیث جوجنگ ِ احزاب کے واقعہ میںمنقول ہے اس میں یہ بیان ہواہے کہ : اس دن جب کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مسلمانوں کوا یران و روم ویمن کی فتح کی بشارت دی تو منافقین نے اس کامذاق اڑایا ۔ قَدْ أَحاطَ اللَّہُ بِہا (خدانے ان کا احاطہ فرمایا )کاجملہ ان غنائم یافتو حات پر ، پر وردگار کی قدرت کے احاطہ کی طرف اشارہ ہے ،لیکن بعض نے اسے اس کے احاطہ عملی کی طرف اشارہ سمجھاہے ،لیکن پہلامعنی آ یت کے دوسرے جُملو ں کے ساتھ زیادہ ساز گار ہے ، البتہ دونوں معانی کوجمع کرنے میں بھی کوئی امر مانع نہیںہے ۔ اور آخر میں آ یت کاآخری جُملہ یعنی وَ کانَ اللَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیرا درحقیقت پہلے جُملہ کے لیے علّت کے بیان کے طورپر ہے .جواس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کی ہرچیز پر قدرت کی بناء پر اس قسم کی فتوحات مسلمانوں کے لیے عجیب نہیں ہیں ۔ بہرحال یہ آ یت اخبار غینی ، اورقرآن مجید کی آ ئندہ کے بارے میں پیشن گو ئیوں میں سے ہے ، یہ کامیابیاں تھوڑ ی سی مدّت میں وقوع پذیر ہوئیں ،اوران آ یات کی عظمت کوواضح کیا۔ ١۔ "" اخرٰی "" "" مفانم ""کی صفت ہے جومحذوف ہے،اورتقد یر میں "" مغانم اخرٰی "" ہے اورمنصوب ہے "" مغانم کثیر ة "" پر عطف کی بناء پر
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:20-21
جنگ ِ خیبر کا ماجرا
جب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)حدیبیہ سے واپس لوٹے توتمامماہ ذی الحجہ اورہجرت کے ساتویںسال کے محرم کاکچھ حِصّہ مدینہ میں تو قف کیا، اس کے بعدا پنے اصحاب میں سے اُسے ایک ہزار چار سوا افراد کوجنہونے حدیبیہ میں شرکت کی تھی ساتھ لے کرخیبر کی طرف روانہ ہُوئے ،(جہاں اسلام کے خلاف تحریکوں کا مر کزتھا ، اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کسی مناسب فرصت کے لیے گن گن کردن گزاررہے تھے کہ اس مرکز فساد کوختم کریں) ۔ غطفان کے قبیلہ نے شروع میں توخیبر کے یہودیوں کی حمایت کرنے کاارادہ کیاتھا ، لیکن بعد میں ڈ رگئے اوراس سے رُک گئے ۔ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جس وقت خیبر کے قلعوں کے نزدیک پہنچے توآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کورُ کنے کاحکم دیا، اس کے بعد آسمان کی طرف سربلند کیااور یہ دُعا پڑھی ۔ اللّٰھم رب السما وات وما الظلن،ورب الا رضین وما اقللن... نسأ لک خیر ھذہ القر یة ، وخیرا ھلھا، ونعوذ بک من شرّ ھا وشرّ ھلھا، وشرّ مافیھا ۔ خدا وندا ! اسے آسمانوں کے پروردگار اورجن پرانہوں نے سایہ ڈالا ہے ، اور اے زمینوں کے پروردگار اورجن چیزوں کوانہوںنے اُٹھا رکھتا ہے ، میں تجھ سے اس آباد ی اوراس کے اہل میں جوخیر ہے اس کاطلب گار ہوں ، اور تجھ سے اس شر اوراس میں رہنے والوں کے شر اورجوکچھ اس میں ہے اس کے شر سے پناہ نگتاہوں ۔ اس کے بعد فرمایا: بسم اللہ آ گے بڑھو!اوراس طرح سے رات کے وقت خیبر کے پاس جاپہنچے ، اور صبح کے وقت جب اہل خیبراس ماجر ے سے باخبر ہُوئے توخودکولشکرِ اسلام کے محاصرہ میں دیکھا ، اس کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے یکے .بعد دیگر ے ان قلعوں کوفتح کیا، یہاں تک کہ آخر ی قلعہ تک ، جوسب سے زیادہ مضبوط اور طاقتورتھا ، اور مشہور یہودی کما نڈ ر مرحب اس میں رہتاتھا ،پہنچ گئے ۔ اُنہیں دنوں میں ایک سخت قسم کادردسر ، جوکبھی کبھی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عارضی ہوا کرتاتھا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ،آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوعارضی ہوگیا ،اس طرح سے کہ ایک دودن آپ اپنے خیمہ سے باہر نہ آسکے تواس موقع پر(مشہور اسلام تواریخ کے مطابق )حضرت ابوبکر ، نے علم سنبھالا اور مسلمانوں کوساتھ لے کر یہودیوں کے لشکر پرحملہ آور ہُوئے ،لیکن نتیجہ حاصل کیے بغیر واپس پلٹ آ ئے دوسری دفعہ حضرت عمر نے علم اُٹھا یا، اور مسلمان پہلے دن کی نسبت زیادہ شدت سے لڑ ے ،لیکن بغیر کسی نتیجہ کے واپس پلٹ آئے ۔ یہ خبر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے کانوں تک پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اما واللہ لا عطینھا عندً رجلاً یحب اللہ ورسولہ،ویحبہ اللہ و رسولہ ، یاخذ ھا عنوة : خدا کی قسم کل یہ علم ایسے مرد کو دوں گاجو خدااور کے رسول کودوست رکھتاہے ، اور خدا اورپیغمبراس کودوست رکھتے ہیں،اور وہ اس قلعہ کوطاقت کے زور سے فتح کرے گا ۔ ہرطرف سے گردنیں اٹھنے لگیں کہ اس سے مراد کون شخص ہے ؟ کچھ لوگوں کااندازہ تھا کہ پیغمبر کی مراد علی علیہ السلام ہیں ، لیکن علی علیہ السلام ابھی وہاں موجود نہیں تھے ، کیونکہ شدید آشوب چشم انہیں لشکر میں حاضر ہونے سے مانع تھا ،لیکن صبح کے وقت علی علیہ السلام اونٹ پرسوار ہوکر وار د ہُوئے ،اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے خیمہ کے پاس اُتر ے درحالانکہ آپ علیہ السلام کی آنکھیں شدّت کے ساتھ درد کررہی تھی ۔ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا :میرے نزدیک آ ئو ! آپ قریب توآپ نے اپنے دہن مبارک کالعاب علی علیہ السلام کی آنکھوں پر ملا اور اس معجزہ کی برکت سے آپ کی آ نکھیں ٹھیک ہوگئیں اس کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے علم ان کے ہاتھ میں دیا۔ علی علیہ السلام لشکر ِ اسلام کوساتھ لے کر خیبر کے سب سے بڑے قلعہ کی طرف بڑھے تو یہودیوںمیں سے ایک شخص نے قلعہ کے اُوپر سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟آپ علیہ السلام نے فرمایا:میں علی بن ابی طالب ہوں اس یہودی نے پکار کرکہا۔ اے یہود یو!اب تمہاری شکست کاوقت آن پہنچا ہے !اس وقت اس قلعہ کاکمان نڈر مرحب یہودی ، علی علیہ السلام سے مقابلہ کے لیے نکلا، اورکچھ دیر نہ گزرہی تھی کہ ایک ہی کار ی ضرب سے زمیں پرگرپڑا ۔ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان شدید جنگ شروع ہوگئی ، علی علیہ السلام قلعہ کے دروازے کے قریب آ ئے ،اورایک قوی اوربُر قدرت حرکت کے ساتھ دروازے کواکھاڑ ا اورایک طرف پھینک دیا، اوراس طرح سے قلعہ کُھل گیا اورمسلمان اسی میں داخل ہوگئے اوراُسے فتح کرلیا۔ یہودیوں نے اطاعت قبول کرلی، اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ اس اطاعت کے عوض ان کی جان بخشی کی جائے ،پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان کی درخواست کوقبول کرلیا، منقول غنائم اسلامی لشکر کے ہاتھ آ ئے اوروہاں کی زمینیں اور باغات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے یہودیوں کواس شرط کے ساتھ سپرد کردیئے کہ اس کی آمد نی کادھا حِصّہ وہ مسلمانوں کودیا کریں گے ( ۱) ۔ ۱۔کامل ابن اثیر ( اہل سنت کے مشہور مورخ ) جلد٢،صفحہ ٢١٦ ،٢٢١ (کچھ تلخیص کے ساتھ)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:20-21
سوره فتح/ آیه 20- 21
٢٠۔وَعَدَکُمُ اللَّہُ مَغانِمَ کَثیرَةً تَأْخُذُونَہا فَعَجَّلَ لَکُمْ ہذِہِ وَ کَفَّ أَیْدِیَ النَّاسِ عَنْکُمْ وَ لِتَکُونَ آیَةً لِلْمُؤْمِنینَ وَ یَہْدِیَکُمْ صِراطاً مُسْتَقیماً ۔ ٢١۔وَ أُخْری لَمْ تَقْدِرُوا عَلَیْہا قَدْ أَحاطَ اللَّہُ بِہا وَ کانَ اللَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیراً۔ ترجمہ ٢٠۔خدانے بہت سے غنائم کاتمہیں وعدہ دیاہے ،جوتم حاصل کرو گے ، لیکن ان میں سے یہ ایک تمہارے لیے زیادہ جلدی فراہم کردی ہے اور لوگوں (دشمنوں ) کے دست ظلم کوتم سے روک دیا تاکہ یہ مومنین کے لیے ، ایک نشانی ہو اور تمہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرے ۔ ٢١۔علاوہ ازیں دوسرے غنائم وفتوحات جن پرتمہیں قدرت نہیں ہے ، لیکن خدا کی قدرت ان پراحاطہ رکھتی ہے ، تمہیں عطا کرے گا ، اورخداہرچیز پرقدرت رکھتاہے ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 48:21
[Pooya/Ali Commentary 48:21] "Other gains" refers to the prevalence of Islam as a moral and spiritual influence in the human society till the end of this world, in all ages. If it is restricted to immediate future then the battles of Hunayn, Tabuk and other advantages the Muslims obtained by steadily reducing the sphere of influence of the disbelievers under the leadership of the Holy Prophet should be construed.