لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَهُمۡۚ أُوْلَـٰٓئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِيمَٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٖ مِّنۡهُۖ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
You will not find a people believing in Allah and the Last Day endearing those who oppose Allah and His Apostle even though they were their own parents, or children, or brothers, or kinsfolk. [For] such, He has written faith into their hearts and strengthened them with a spirit from Him. He will admit them into gardens with streams running in them, to remain in them [forever], Allah is pleased with them, and they are pleased with Him. They are Allah’s confederates. Look! The confederates of Allah are indeed felicitous!
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 58:14-22
In reply to David, regarding qualifications of God’s army, God said, “They avoid looking at an unlawful woman, save their hands from injuring others, and hearts off from thoughts of non-Divine.”
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:20-22
حزب اللہ کامیاب ہے
گزشتہ آ یات میں گفتگو منافقین اوردشمنان ِ خدا کے بارے میں اوران کی کچھ صفات اورعلامتوں سے متعلق تھی ۔ اس بحث کو جاری رکھتے ہوئے اِن آیتوں میں جوسورئہ مجادلہ کی آخری آیات ہیں ان کی کچھ اورنشانیاں پیش کرتاہے اوران کی حتمی سرنوشت جوشکست وبربادی ہے اسے واضح کرتاہے پہلے فر ماتاہے: وہ لوگ جوخدااوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے دُشمنی کرتے ہیں وہ ذلیل ترین افراد کے زمرہ میںہیں(ِانَّ الَّذینَ یُحَادُّونَ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ أُولئِکَ فِی الْأَذَلِّین) (١) ۔ بعد والی آ یت حقیقت میں ان معانی کی دلیل ہے فرماتاہے: خدا نے اس طرح مقرر کیاتھاکہ میں اورمیرے پیغمبر ہی کامیاب ہوں گے (کَتَبَ اللَّہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلی) ایسا کیوں نہ ہوں اس لیے کہ خداقوی اورناقابلِ شکست ہے ( ِنَّ اللَّہَ قَوِیّ عَزیز)جس قدر خداصاحب ِقوّت ہے اتنے ہی اس کے دشمن کمزور اور ذلیل ہیں اوراگر ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ آ یت میں (اذلین)کی تعبیر آ ئی ہے تواس کی وجہ سے یہی تھی کتب (لکھتاہے)کی تعبیر اس کامیابی کے قطعی ہونے کی تاکید ہے اورلاغلبن کاجملہ لام تاکید اورنون ثقیلہ کے ساتھ اس کامیابی کے موکد ہونے کی دلیل ہے اس طرح کہ کسی شخص کے لیے کسی قسم کے شک اورتردّدکی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ اس چیزکے مشابہہ ہے جوسورئہ صافات کی آ یت ٧١ ١ تا ٣٧١میں آئی ہے (وَ لَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنا لِعِبادِنَا الْمُرْسَلینَ،ِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُورُون ،وَ ِنَّ جُنْدَنا لَہُمُ الْغالِبُون) ۔ ہمارا قطعی وعدہ ہمارے مُرسل بندوں کے بارے میں پہلے سے مُسلّم ہوچکاہے کہ ان کی مدد کی جائے گی اورہمارا لشکرتمام میدانوںمیں کامیاب ہے ۔ تاریخ کے طویل دُور میں خدا کے پیغمبروں اوراس کے بھیجے ہوئے افراد کی کامیابی مختلف صُورتوں میں نمایاں ہوئی ہے مختلف عذابوں کی صُورت میں مثلاً طوفانِ نوح علیہ السلام میں ،صاعقۂ عاد وثمود میں، قومِ لوط علیہ السلام کوتباہ وبرباد کرنے والے زلزلے کی صُورت میں اوراسی قسم کی چیزوں میں مختلف جنگوں میںمثلاًجنگ بدر وحنین ، فتح مکّہ اور پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے باقی غزوات میں ۔ ان سب سے زیادہ اہم شیطانی مکاتبِ فکر اورحق وعدالت کے دُشمنوں پران کی منطقی کامیابی تھی ۔یہاں ان لوگوں کے سوال کاجواب واضح ہوجاتاہے جویہ کہتے ہیں کہ اگریہ وعدہ قطعی تھاتو پھر کیوں بہت سے انبیا ومرسلین ،آئمہ معصومین علیہم السلام اور سچّے مومنین کوان کے دشمنوں نے شہید کیااوروہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئے ان اعتراض کرنے والوں نے حقیقت میں کامیابی کے معنی کوصحیح طرح نہیںسمجھا ۔ مثلاًممکن ہے ( تصوّر کریں)کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں شکست کھائی اس لیے کہ آپ علیہ السلام خود اورآپ علیہ السلام کے یاور وانصار تمام کے تمام شہید ہوگئے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ علیہ السلام اپنے اصلی مقصد تک پہنچ گئے ،آپ کامقصد یہ تھا کہ بنی اُمیّہ رسواہوں اورمکتب آزادی کی بُنیادرکھی جائے اورساری دنیاکے لوگوں کودرسِ آزادی دیاجائے آپ علیہ السلام نے یہ مقصد یقیناحاصل کیااور آپ آج بھی سرور شہیدانِ عالم اورجہانِ انسانیت کے رہبرِ کامل کی حیثیت سے انسانوں کے ایک عظیم طبقہ کے دِلوں پرکامیابی کے ساتھ حکومت کررہے ہیں (٢) اس چیز کی یاد آ وری بھی ضروری ہے کہ یہی حکم یعنی خدائی وعدہ کے مطابق کامیابی انبیاء واولیاء کے پیروکاروں کے بارے میںبھی ثابت ہے یعنی ان کی کامیابی کی بھی خُدا کی طرف سے ضمانت دی گئی ہے جیساکہ سورئہ مؤمن کی آیت ٥١ میں ہم پڑھتے ہیں (انا لننصررسلنا والّذین اٰمنو افی الحیٰوة الدنیا ویوم یقوم الاشھاد)ہم یقینا اپنے رسُولوں کی اورایمان لانے والوں کی زندگی دنیا میں اوراس دن جب گواہ قیام کریں گے (قیامت کے دن )مدد کریں گے یقیناخدا جس کی مدد کرے وہ کامیاب ہے ۔لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ خداکا یہ حتمی وعدہ قید اور شرط کے بغیر نہیں ہے ۔ اس کی شرط ایمان اورآثار ایمان ہیں اس کی شرط یہ ہے کہ بند سُستی وکمزوری کواپنے اندر پیدا نہ ہونے دے اور مشکلات سے نہ گھبرائے اورغمگین نہ ہو جیساکہ آل ِ عمران کی آیت ١٢٩ میں فر ماتاہے : (وَ لا تَہِنُوا وَ لا تَحْزَنُوا وَ أَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ ِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ)اس کی دوسری شرط یہ ہے کہ تغیّرات کواپنی ذات سے شروع کرے کیونکہ خداکسی قوم وملّت کی نعمتوںکومتغیّر نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود اپنے اندر تغیر پیدانہ کریں(ذلِکَ بِأَنَّ اللَّہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّراً نِعْمَةً أَنْعَمَہا عَلی قَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا ما بِأَنْفُسِہِمْ ) (انفال ٥٣)انہیں خدا کی رسّی کومضبُوطی سے پکڑے رہناچاہیئے ۔ انہیں چاہیئے کہ اپنی صفوںکومتحد رکھیں اوراپنی قوّتوں کو مجتمع کریں ، نیّتوںکوخالص رکھیں اورمطمئن رہیں کہ دشمن خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اوروہ خُود بظاہر کمزور ہوں اور تعداد میں کم ہوں لیکن آخر کار جہاد ، کوشش اورخداپر توکّل کی وجہ سے وہ کامیاب ہوں گے ، مفسرین کی ایک جماعت نے مندرجہ بالاآ یت کے لیے ایک شانِ نزول بیان کی ہے اوروُہ یہ کہ مسلمانوںکے ایک گروہ نے جس وقت حجاز کی بعض آبادیوںکی فتح کودیکھاتوانہوں نے کہاکہ خداعنقریب ہمیں روم و ایران کی فتح بھی نصیب کرے گا اس پر منافقین نے کہاکہ تم سمجھتے ہو کہ ایران وروم بھی ان بستیوں کی مانند ہیں جنہیں تم نے فتح کرلیاہے ۔ اس پر مندرجہ بالا آ یت نازل ہوئی اوراس کا میابی کاان سے وعدہ کیاآخری زیربحث آ یت جوسُورہ مجادلہ کی آخری اور آیات ِ قرآنی میں سب سے زیادہ سرکوبی کرنے والی آ یت ہے مؤ منین کوباخبر کرتی ہے کہ خداکی محبت اور دشمنانِ خداکی محبت کوایک ہی دل میں جمع کرناممکن نہیں ہے لہٰذا وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کومنتخب کریں ۔ اگر واقعی وہ مومن ہیں توانہیں دشمنانِ خدا کی دوستی سے پرہیز کرناچاہیئے ورنہ وہ مسلمان ہونے کادعویٰ نہ کریں ۔پر وردگار ِ عالم فرماتاہے: کسی ایسے گروہ کوجوخدااور روزِ قیامت پرایمان رکھتا ہوتونہیں پائے گا کہ وہ خدااوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے دشمنوں سے دوستی کریںچاہے وہ ان کے آباؤ اجداد ، اولاد یارشتہ دار ہوں(لا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ یُوادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ لَوْ کانُوا آباء َہُمْ أَوْ أَبْناء َہُمْ أَوْ ِخْوانَہُمْ أَوْ عَشیرَتَہُم) ۔جی ہاں!ایک دل میں دوومتضاد محبتیںجمع نہیں ہوسکتیں اورجو دومتضاد محبتوںکے حامل ہوں وہ یاتوضعیف الایمان ہوتے ہیں یاپھر منافق ہوتے ہیں اِسی لیے غزوات ِالہٰی میں ہم دیکھتے ہیں کہ مخالف صفوںمیںمسلمانوںکے عزیز واقارب کی ایک جماعت تھی لیکن چونکہ اُنہوں نے اپنا رشتہ خدا سے توڑ رکھا تھا اوروہ حق تعالیٰ کے دشمنوںکی صف سے وابستہ تھے ،لہٰذا مسلمانوں نے ان سے جنگ کی یہاں تک کہ ان میں سے بہت سوں کوموت کے گھاٹ اُتار دیا ۔ اباؤاجداد ، اولاد اوررشتہ داروں کی محبت بہت اچھی چیزہے اورانسان کے جذبہ کرم کے زندہ ہونے کی نشانی ہے لیکن جب اس محبت کامقابلہ خدا کی محبت سے ہو تو پھر یہ محبت اپنی قدروقیمت کھو بیٹھتی ہے ۔ البتہ انسان کے مرکزِمحبت صرف یہی چار گروہ نہیں ہوتے جن کاذکر مذکورہ آ یتمیں ہوا ۔یہ انسان کے نزدیک ترین افرادہیں اوران کی مثال کوپیش نظر رکھ کرباقی افراد کی کیفیت بھی واضح ہو جائے گی ۔ اسی لیے زیر بحث آ یت میں گفتگو بیوی ، شوہر ، مال ودولت ،تجارت اورگھروںکے متعلق، جو مرکزمحبت ہوسکتے ہیں، درمیان میں نہیں آ ئی ۔جبکہ کہ سور ہ توبہ کی آ یت ٢٤ میں یہ سب امور موردِتوجہ قرار پائے ہیں خدا فرماتاہے: (قُلْانْ کانَ آباؤُکُمْ وَ أَبْناؤُکُمْ وَ ِخْوانُکُمْ وَ أَزْواجُکُمْ وَ عَشیرَتُکُمْ وَ أَمْوال اقْتَرَفْتُمُوہا وَ تِجارَة تَخْشَوْنَ کَسادَہا وَ مَساکِنُ تَرْضَوْنَہا أَحَبَّ ِلَیْکُمْ مِنَ اللَّہِ وَ رَسُولِہِ وَ جِہادٍ فی سَبیلِہِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَأْتِیَ اللَّہُ بِأَمْرِہِ وَ اللَّہُ لا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفاسِقینَ ) کہہ دے اگرتمہارے باپ دادا، اولاد ،بھائی اورقبیلہ اوروہ مال جوتمہارے ہاتھ لگے ہیں ،اور وہ تجارت جس کے نقصان کاتمہیں خطرہ ہے اور وہ گھر جن سے تمہارادلی تعلق ہے خدااس کے پیغمبروں اوراس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں توپھر اس اس انتظار میںرہو کہ خدااپنا عذاب تم پرنازل کردے اورخدانافر مان لوگوں کوہدایت نہیں کرتا۔ دُوسرے امورکے زیربحث آ یت میں مذکور نہ ہونے کی دوسری دلیل ممکن ہے وہ شان ِہائے نزول ہوں جو آ یت کے لیے بیان ہوئی ہیں،منجملہ دوسری شان ہائے نزول کے ایک یہ ہے کہ حاطب ابن ابی بلتعہنے اہل مکّہ کوخط لکھا اور انہیں خبر دار کیاکہ ہوسکتاہے ،رسولخدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے لیے روانہ ہوں ، جب یہ بات کُھلی ،توحاطب نے عُذر پیش کیا کہ میرے عزیز واقارب مکّہ میں کفّار کے کے جنگل میں ہیںمیں نے چاہا کہ اہل مکّہ کی خدمت کروں تاکہ میرے عزیز وامان میں رہیں (٣) بعض نے یہ بھی کہاہے کہ یہ آ یت عبداللہ ابن ابی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کابیٹا صاحب ِایمان تھا ، اس نے ایک دن دیکھا کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ آلہ وسلم)پانی نوش فرمارہے ہیں تواس نے عرض کیا کہ تھوڑا ساپانی اس برتن میں رہنے دیجئے تاکہ میں وہ اپنے باپ کوپلاؤں ۔شاید خدااس کے دل کو پاک کردے ۔مختصر یہ کہ وہ جس وقت پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پئے ہوئے پانی میں سے بچاہواپانی اپنے باپ کے پاس لے کر پہنچا تواس نے وہ پانی ینے سے انکار کردیااور نہ صرف یہ بلکہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے متعلق ایک بہت ہی توہین آمیز جملہ کہا۔ اس کابیٹا پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں آ یا اوعراس نے اپنے باپ کے قتل کرنے کی اجازت طلب کی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اجازت نہ دی اور فرمایا اس کالحاظ کرو لیکن دل میں اس کے اعمال سے بیزاررہو ۔ اس کے بعد پر وردگار ِ عالم اس گروہ کے عظیم اَجرکوپیش کرتاہے جس کے دل مکمل طورپر عشق ِ خدا کے قبضہ میں ہیں ،اورپانچ موضوعات کوبیان کرتاہے جن میں سے بعض امداد اور توفیق کی شکل میں ہیں ، اور بعض نتیجے اورانجام ِکار کی صُورت میں پہلے اوردُوسرے حصّہ کے سلسلہ میںفرماتاہے: وہ ایسے لوگ ہیں کہ خدا نے ایمان کاخط ان کے دلوں کے صفحے پرکھینچ دیاہے اور اپنی طرف سے ایک رُوخ کے ذریعے ان کو تقویت پہنچائی ہے (ْ أُولئِکَ کَتَبَ فی قُلُوبِہِمُ الْیمانَ وَ أَیَّدَہُمْ بِرُوحٍ مِنْہ) ۔واضح رہے کہ یہ امداد اور لُطفِ الہٰی انسان کے ارادہ واختیار کی آزادی کی رُوح سے متصادم نہیں ہوتے کیونکہ پہلے قدم،یعنی دُشمنان ِکی محبت کوترک کرنا،خُود انہی کی طرف سے اُٹھائے گئے ہیں ۔ اس کے بعد خدا کی طرف سے امداداستقرارِایمان کی شکل میں ان کی جانب آ ئی ہے ۔ کیایہ رُوحِ الہٰی جس سے خدا مومنین کی تائید کرتاہے ایمان کی بنیاد دوں کی تقویت ہے یاعقلی دلائل ہیں یاقرآن ہے یاوہ خدا کاعظیم فرشتہ ہے جس کانام رُوح ہے ؟اس سلسلے میں مختلف تفسیریں اوراحتمالات بیان ہوئے ہیں اوران سب کااجتماع بھی ممکن ہے ۔خلاصۂ کلام یہ کہ یہ رُوح ایک طرح کی جدید حیات معنوی ہے جس کافیضان خدامؤ منین پرکرتاہے ۔تیسرے مرحلہ میں فرماتاہے: خدا انہیں جنّت کے باغات میں داخل کرے گا جن کے درختوںاورمحلّوںکے نیچے نہریں جاری ہیں اوروہ ہمیشہ اِن میں رہیں گے ۔ ( ُ وَ یُدْخِلُہُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ خالِدینَ فیہا )چوتھے مرحلے میں اضافہ کر تاہے : خدا اُن سے راضی اورخوش ہے اووہ خدا سے راضی وخوش ہیں(رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوا عَنْہ) ۔قیامت کے مادّی انعامات یعنی حُوروقصور کے مقابلے میںیہ عظیم ترین رُوحانی آجر ہے جومومنین کے اس گروہ کودیاجائے گا ۔ یہ گروہ احساس کرے گا کہ خداان سے راضی ہے ۔ ان کے معبُود کی یہ رضا مندی کہ اس نے انہیں قبول کرلیاہے اوراپنی عنایت سے انہیں نوازا ہے اوراپنی بساط قُرب پرانہیں بٹھایاہے بہترین لطف دینے والااحساس ہے جوانہیں حاصل ہوگا اور اس کا نتیجہ خداسے ان کی مکمل خوشنودی ہے ۔ جی ہاں!کوئی نعمت اس دوہری نعمت کے برابر نہیں ہے ۔ اور یہ دوسری نعمتوں کی کلید ہے اس لیے کہ جب خدا کسِی سے خوش ہوتو جووہ طلب کرے گا خدااسے دے گا ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ کریم بھی ہے اور قادر وتوانا بھی ہے ۔کیا یہی عُمدہ تعبیر ہے فرماتاہے: خدا بھی ان سے راضی ہے اوروُہ بھی خدا سے راضی ہیں ۔یعنی ان کامقام اس قدر اُونچا ہوگیاہے کہ ان کا نام خداکے نام کے ساتھ اوران کی رضامندی خدا کی رضا کے پہلو بہ پہلو قرار پائی ہے ۔ اخری مرحلہ میں ایک ایسے عمومی اعلان کی شکل میں ،جوایک اورنعمت کی ترجمانی کرتاہے ، فرماتاہے: وہ اللہ کی جماعت ہیں اورجان لوکہ اللہ کی جماعت ہی کامیاب ہے (ُ أُولئِکَ حِزْبُ اللَّہِ أَلا انَّ حِزْبَ اللَّہِ ہُمُ الْمُفْلِحُون)نہ صرف انہیں دوسرے جہان میںکامیاب اورقیامت میں انواع واقسام کی مادّی ومعنوی نعمتیں حاصل ہوں گی بلکہ جیساکہ گزشتہ آیات میں بھی آیاہے وہ اس دنیامیں بھی اللہ کی مہربانی سے دشمنوںکے مقابلہ میں کامیابی حاصل کریں گے اوراس دنیا کے اختتام پر بھی حق وعدالت کی حکومت ان کے قبضہ میں ہوگی ۔ ١۔"" یحادون"" "" محادہ""کے مادّہ سے مسلّح یاغیر مسلّح مبارزہ کے معنی میں ہے یاممانعت کے معنی میں ہے (ہم اس سورہ کی آیت ٥ کے ذیل میں وضاحت کرچکے ہیں) ۔ ٢۔ اس سلسلہ میںمزید وضاحت کے لیے اسی تفسیر کی جلد ١٠ سُورہ صافات کی آ یت ١٧١ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔ ٣۔ مجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٥٥۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:20-22
٢۔ حب فی اللہ اور بغض فی اللہ کااَجر
جیساکہ ہم مندرجہ بالا آ یات میں دیکھاہے کہ خدانے ان لوگوں کے لیے ،جواس کے عشق کوہرچیزپرمقدم سمجھتے ہیں اور ہر تعلق کواس سے لگاؤ کے ماتحت قرار دیتے ہیں ، اس کے دوستوں کودوست اوراس کے دشمنوں کودُشمن قرار دیتے ہیں ، پانچ عظیم اَجر مقرر کیے ہیں جن میں سے تین اَجر تواسی دُنیا میں عطا کرتاہے اوردو اَجر قیامت میں عطافر مائے گا۔ اس جہان کی پہلی نعمت ایمان کا ان کے دلوں میں قرار دینا اثبات ہے ،خداان کے دلوں میں ایمان کانقش اس طرح مرتسم کرتاہے کہ حوادث کے ہاتھ اور زندگی کے طوفان اسے محو نہیںکرسکتے اور، قطع نظراس سے ایک نئی رُوح سے ان کو تقویت دیتاہے اورتیسرے یہ کہ انہیں اپنے حزب میں شمار کرتاہے اور دُشمنوںکے مقابلہ میں کامیابی عطا کرتاہے ۔ اخرت میں بہشت ِ جاوداں اپنی تمام نعمتوں کے ہمراہ ان کے اختیار میں دے دیتاہے ۔ اس کے علاوہ اپنی مطلق خوشنودی ورضامندی کااعلان کرتاہے ۔ ایک حدیث میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے مروی ہے : (مامن مؤ من الّا ولقلبہ اذ نان فی جوفہ اذن ینفث فیھاالوسواس الخنّاس واذن ینفث فیھا الملک فیؤ ید اللہ المؤ من بالملک قولہ واید یھم بروح منہ) ۔ ہرمومن کے دل کے دوکان ہیں ۔ ایک وہ جس میں وسواس خنّاسپھونک مارتا ہے اور دوسرے کان میں ملک پھونک مارتاہے ،خدامومن کوفرشتے کے ذریعہ تقویت دیتاہے اور یہی وہ چیزہے جس کے متعلق فر ماتاہے :(واید یھم بروح منہ ) (٩) ۔ ایک اورحدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے کلام کی تفسیر کے سلسلہ میں منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:(اذازنی الرّجل فارقہ رُوح الایمان ) جب انسان زناکرتاہے تواس وقت رُوحِ ایمان اس سے جُدا ہوجاتی ہے ،یہ رُوح ایمان وہی ہے جس کے متعلق خدانے قرآن میں فر مایا ہے :(واید ھم بروح منہ) (١٠) ۔ مندرجہ بالااحدیث سے رُوحِ ایمان کی وسعت اوررُوحِ انسانی کے اعلیٰ مرتبہ اور شمول ِ فرشتہ کے بارے میںوضاحت ہوتی ہے ۔یہ آیات اس حقیقت کو بھی بتاتی ہیں کہ روِ ایمان کے اس مرتبہ کے ہوتے ہوئے انسان شراب خوری اوراس قسم کے دوسرے گناہوں کامرتکب نہیں ہوتا ۔ خداوندا! اگرتو ہمیں رُوحِ ایمان عطا کردے تواپنے کمزور اورضعیف بندوں پرتیرااحسان عظیم ہوگا۔ اس کے بعد انہیں کوئی غم نہیں ہوگا ۔ پروردگارا!ہمیں اپنے دوستوںکی دوستی اوراپنے دشمنوں کی دشمنی کی توفیق عطا فرما اوراپنے دشمنوں کی دوستی اوردوستوں کی دُشمنی سے محفوظ فرما۔ بارِ ا لہٰا !تُونے سچّے مؤ منین سے کامیابی کاوعدہ کیاہے اورانہیں حزب اللہ شمارکیاہے ۔ہمیںاس حزب میں داخل ہونے کی اجازت مرحمت فرما اور اپنی کامیابی ہمارے شامل ِ حال فرما۔ آمین یارب العالمین (سورہ مجادلہ کی تفسیر تمام) ٩۔کافی مطابق نقل تفسیر المیزان ،جلد ١٩ ،صفحہ ٢٨٨۔ ١٠۔کافی مطابق نقل تفسیر المیزان ،جلد ١٩ ،صفحہ ٢٨٨۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:20-22
١۔حِزبُ اللہ اورحِزب شیطان کی اصل نشانی
قرآن مجید کی دو آیتوںمیں حزب اللہ کی طرف اشارہ ہواہے (زیر بحث آ یت اور سُورہ مائدہ کی آ یت ٥٦ ) اورایک آیت میں حزب شیطان کی طرف اشارہ ہے ۔ دونوں مواقع جن پر حزب اللہ کے بارے میں گفتگو کرتاہے (حُب فی اللہ اوربُغض فی اللہ )اور اولیائے حق کی ولایت کے مسئلہ پرانحصار کرتاہے ۔سُورہ مائدہ میں مسئلہ ولایت اورخدا ورسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی اطاعت کے وجوب کی بات کر تاہے جس میںمذکورہے کہ (علی علیہ السلام )نے حالت ِ رکوع میں زکوٰة دی ہے (وَ مَنْ یَتَوَلَّ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ الَّذینَ آمَنُوا فَِنَّ حِزْبَ اللَّہِ ہُمُ الْغالِبُونَ)زیربحث آ یت میں بھی دُشمنان ِخدا کی دوستی سے قطع روابط پرتکیہ کرتاہے ۔ اس پرحزب اللہ کاخط وہی خطِ ولایت ہے اور خدا ،پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اوراس کے اوصیاء کے دُشمنوںسے قطع تعلق کاخط ہے ۔ اس کے مقابلے میںحزب ِ شیطان کے تعارف کے وقت جس کی طرف اس سورہ کی گزشتہ آ یات میں اشارہ ہواہے اس کی جوواضح ترین نشانیاں بتاتاہے وہ نفاق ،حق سے دُشمنی ،یادِ خدا کی فراموشی ،جُھوٹ اور فریب ہیں ۔ قابلِ تو جہ یہ ہے کہ ایک موقع پر کہتاہے : (فَانَّ حِزْبَ اللَّہِ ہُمُ الْغالِبُون)اوردُوسری جگہ فر ماتاہے:()اس طرف توجہ کرنے سے کہ فلاح بھی دشمن کے مقابلہ میںکامیابی اور ان پر غلبہ کے ہمراہ ہے یہ پتہ چل جاتاہے کہ دونوں آیتوں کامفہوم ایک مربوط صورت میں اس امر کے ساتھ ظاہر ہے کہ فلاح ورستگاری غلبہ وکامیابی کی نسبت زیادہ گہرا مفہوم رکھتی ہے ،اس لیے کہ وہ مقصد تک پہنچنے کوبھی مشخّص کرتی ہے ۔ اس کے برعکس حزبِ شیطان کاتذکرہ اس کی شکست، اس کے نقصان اورمقاصد میں نا کامی کے حوالے سے کرتاہے ۔ مسئلہ ولایت خاص معانی میں اور حبّ فی اللہ اور بغض فی اللہ عام معانی میں، ایک ایسامسئلہ ہے کہ روایاتِ اِسلامی میں اس کی بات بہت تاکید ملتی ہے ۔ یہاں تک کہ حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ )امیر المومنین علیہ السلام سے عرض کرتے ہیں کہ جب بھی میں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں گیاتوانہوں نے میرے شانے پرہاتھ رکھ کر آپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: کہ اے سلمان !یہ شخص اوراس کاگروہ کامیاب ہے (یا اباالحسن ما اطلعت علی رسول اللہ الاضرب بین کتفی وقال یاسلمان ھٰذاوحز بہ ھم المفلحون) (٤) دوسرے مورد میں یعنی ولایت عامہ کے سلسلہ میں ایک حدیث پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ہمیں ملتی ہے ۔ (و د المؤ من اللمؤ من فی اللہ من اعظم شعب الایمان) ایک مومن کی دُوسرے مومن سے برائے خدا خوشنودی اہم ترین شعبۂ ایمان ہے (٥) ۔ ۔ ایک اورحدیث میںآ یاہے کہ خدانے حضرت موسیٰ علیہ السلام پروحی کی کہ کیا کوئی عمل میرے لیے بھی انجام دیاہے ۔عرض کیا : جی ہاںمیں نے تیرے لیے نماز پڑھی ہے ، روزہ رکھاہے انفاق کیاہے اور تجھے یاد کرتارہاہوں فرمایا: نماز تیرے لیے حق کی نشانی تھی ، روزہ جہنم کی آگ کے مقابلہ میں سپر تھا ،انفاق محشر کے لیے سایہ ہے اور ذکر نور ہے اے موسیٰ میرے لیے تم نے کونساعمل کیاہے ؟ عرض کیاخداوندا!خُود تواِس سلسلہ میں میری رہنمائی فرما۔ فرمایا: (ھل والیت لی ولیا وھل عادیت لی عدوا قط فعلم موسیٰ ان افضل الا عمال الحبّ فی اللہ والبغض فی اللہ ) ۔ کبھی میرے لیے کسی سے محبت کی ہے اورمیرے خاطر کسی سے دشمنی کی ہے ؟ یہ وہ مقام تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سمجھ گئے کہ افضل ترین عمل حب فی اللہ اور بغض فی اللہ ہے ،(اللہ کے لیے دوستی اوراللہ کے لیے دشمنی (٦) ۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: (لا یمحض رجل الا یمان باللہ حتّی یکون اللہ احب الیہ من نفسہ وابیہ وامہ وولدہ واھلہ ومالہ ومن النّاس کلھم) کسی شخص کااللہ پر ایمان ِ کامل نہیں ہوتاتاو قتیکہ خد ااس کواس کی جان، اس کے ماں باپ ،اولاد،اہل خانہ اوراس کے مال سے زمادہ محبوب نہ ہو(٧) ۔ اس عنوان کے ماتحت اثبات کی سمت بھی ، یعنی دوستان ِ خداسے دوستی اورنفی کی سمت میں بھی دوستان ِ خُداسے دُشمنی سے روایات بہت زیادہ ہیں، بہتر ہے کہ ہم اس گفتگو کوامام محمد باقر علیہ السلام کی ایک پُرمعنی حدیث پرختم کردیں ۔ اپ علیہ السلام نے فرمایا ہے : (اذااردت تعلم ان فیک خیر افانظرالی قلبک فان کان یحب اھل طاعة اللہ عزّو جل ویبغض اھل معصیة ففیک خیر واللہ یحبک واناکان یبغض اھل طاعة اللہ و یحب اھل معصیة ،لیس فیک خیرواللہ یبغضک ، والمرء مع من احب ) ۔ اگریہ جانناچاہو کہ تم ایک اچھے انسان ہوتواپنے دل میں جھانک کردیکھو اگروہ اللہ کی اطاعت کرنے والوں کودوست اوراس کے نافر مانوں کودشمن رکھتاہے توجان لوکہ تم اچھے انسان ہواور خدا بھی تمہیں دوست رکھتاہے اوراگر تمہارادل خداکی اطاعت کرنے والوں کودشمن اوراس کی معصیّت کرنے والوں کودوست رکھتاہے توپھرتم میں کوئی خُوبی نہیں اور خدا تم سے دشمنی رکھتاہے اورانسان ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتاہے جسے وہ دوست رکھتاہے ( ٨) ۔ ٤۔ یہ حدیث تفسیربرہان میں اہل سنت کی کتب سے نقل ہوئی ہے (برہان ،جلد ٤، صفحہ ٣٢١) ۔ ٥۔ اصول کافی ، جلد ٢ باب حب فی اللہ حدیث ٣۔ ٦۔سفینة البحار ، جلد ١،صفحہ ٢٠١۔ ٧۔سفینة البحار ، جلد ١،صفحہ ٢٠١۔ ٨۔۔سفینة البحار ، جلد ١،صفحہ ٢٠١۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:20-22
سوره مجادله/ آیه 20- 22
٢٠۔ِانَّ الَّذینَ یُحَادُّونَ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ أُولئِکَ فِی الْأَذَلِّینَ ۔ ٢١۔کَتَبَ اللَّہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلی ِنَّ اللَّہَ قَوِیّ عَزیز ۔ ٢٢۔ لا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ یُوادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ لَوْ کانُوا آباء َہُمْ أَوْ أَبْناء َہُمْ أَوْ ِخْوانَہُمْ أَوْ عَشیرَتَہُمْ أُولئِکَ کَتَبَ فی قُلُوبِہِمُ الْیمانَ وَ أَیَّدَہُمْ بِرُوحٍ مِنْہُ وَ یُدْخِلُہُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ خالِدینَ فیہا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوا عَنْہُ أُولئِکَ حِزْبُ اللَّہِ أَلا ِنَّ حِزْبَ اللَّہِ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ ۔ ترجمہ ٢٠۔وُہ لوگ جوخدااوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے دُشمنی کرتے ہیں وہ ذلیل ترین افراد کے زُمرہ میں ہیں ۔ ٢١۔خُدانے اس طرح مقرر کررکھّا تھاکہ میں اورمیرے رسُول کامیاب ہوں گے کیونکہ خدا قوی اور ناقابلِ شکست ہے ۔ ٢٢۔کسِی ایسی قوم کوتو نہیں پائے گا جوخدااورروزِ قیامت پر ایمان رکھتی ہو اوروہ خُدا اوراس کے رسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے دشمنوں کے ساتھ ددستی کرے خواہ وہ ان کے آباؤ اجداد ، اولاد، بھائی اور رشتہ دار کیوں نہ ہوں وہ ایسے لوگ ہیں جن کے صفحۂ دل پرایمان لِکھ دیاہے اوراپنی طرف سے ایک رُوح کے ذریعے ان کی تقویت فرمائی ہے ۔ انہیں جنّت کے باغوں میں داخل کرے گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ،وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ۔خدا ان سے خوش ہے اور وہ خداسے خوش ہیں ۔وہ اللہ کاحزب ہیں ۔ جان لوکہ اللہ کاحزب ہی کامیاب ہے ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 58:22
[Pooya/Ali Commentary 58:22] The merits and excellences of the thoroughly purified Ahl ul Bayt (Ahzab: 33) mentioned in the commentary of several verses so far studied on the authority of well-known Muslim scholars must inevitably convince you that the highest degree of faith referred to in this verse was demonstrated by them only. (i) "Allah is well pleased with them and they are well pleased with Him" should make you think of the declaration of the Holy Prophet on the day of Khaybar: "Tomorrow I shall give the standard of Islam to him who loves Allah and His prophet and Allah and His prophet love him." (Tabari, Rawdatul Ahbab, Sirat al Muhammadia, Tadkh ul Khulafa). See commentary of Ma-idah: 54 and Fat-h: 20. In "the party of Allah" only those who possess highest degree of purity of body and soul are included as the entire Muslim ummah knows beyond all doubts that verse 61 of Ali Imran, verse 33 of Ahzab and verse 23 of Shura refer to the Ahl ul Bayt exclusively. (ii) The quality of faith in Allah referred to here could not be had by those who deserted the Holy Prophet in the battlefields (Bara-at: 25 to 27), or watched the battles from a safe distance (Baqarah: 214, 251; Ahzab: 1 to 3 and 9 to 27), or always had doubts about the religion of Allah and the prophethood of the Holy Prophet (Fat-h: 1), or refused to obey the commands of the Holy Prophet (Nisa: 65). Such people show lack of faith and courage in the hour of trial because they do not believe in the life of hereafter or "the last day". Those who firmly believe in the life of hereafter do not usurp temporal power by hook or crook, nor undeservedly occupy the seat of leadership. Imam Ali said: "O yellow gold, O white silver, do not waste your glamour on me. Beguile others. I have divorced you thrice. Now there is no link between us." (iii) When "Allah has inscribed faith in their hearts", there remains no chance whatsoever that they may have doubts about the religion of Allah and the prophethood of the Holy Prophet. He who had doubted (Fat-h: 1) obviously has not been favoured with the divine blessing of "faith inscribed in his heart". (iv) He who is "strengthened with a spirit" from Allah, rises to the heights of courage, bravery and glory seen by the whole world in the battles of Badr, Uhad, Khandaq, Hunayn and Khaybar, or on the night of hijrat. See commentary of Ali Imran : 13 and Anfal: 5; Ali Imran: 121 to 168 and Anfal: 16; Baqarah: 214, 251 and Ahzab: 1 to 3, 9 to 27; Bara-at: 25 to 27; Fat-h: 20; and Baqarah: 207 and Anfal: 30. A few exclusive merits of Ali ibn abi Talib, written by Jalal al Din al Suyuti in Tarikh al Khulafa, are given below: (i) Ahmad bin Hanbal says: "There had not come down to us regarding the merits of any one of the companions of the Holy Prophet what has been transmitted concerning Ali." (Al Hakim). (ii) Ibn Asakir from Ibn Abbas says: "There has not been revealed in the book of Allah regarding any one what has been revealed concerning Ali and that 300 verses have been revealed concerning Ali." (iii) Al Tabarani and Ibn Abi Hatim record from Ibn Abbas that he said: "The Lord never revealed the words: "O true believers" but, Ali was understood to be the Lord and the chief of them, and verily the Lord has reproved the companions of the Holy Prophet in various places but has never mentioned Ali save with approval." (iv) Al Tirmizi, Al Nisai and Ibn Maja from Habshi bin Junada say that the Holy Prophet said: "All is a part of me and I of Ali." (v) Al Tabarani records in the Awsat from Jabir bin Abdullah that the Holy Prophet said: "The people are of various stocks but I and Ali are of one stock." (vi) Al Tabarani records in the Aswat and Saghir from Ummi Salima that she narrates: "I heard the Holy Prophet say: "Ali with the Quran and the Quran with Ali shall not be separated until they arrive at the fountain of Kawthar in paradise." (vii) Ibn Sad records on the authority of Ali that he said: "By Allah a verse of the Quran was never revealed but I know regarding what it was revealed and where it was revealed, for my Lord has given unto me a wise heart and an eloquent tongue." (viii) Ibn Sad and others on the authority of Abu Tufayl record that Ali said: "Ask me regarding the book of Allah, for verily there is not a verse but I know whether it was revealed by night or by day, in the plains or on the mountains." (ix) Al Tirmizi and Al Hakim record from Ali that the Holy Prophet said: "I am the city of knowledge and Ali is its gate." (x) Ibn Masud says that the Holy Prophet said: "To look at Ali is devotion." (xi) Muslim records on the authority of Ali that he said: "By Him who had cleft the seed and created the soul, verily the Holy Prophet stated to me that none but a true believer would love me, and none but a hypocrite would hate me." (xii) Al Tirmizi from Abu Sa-id al-Khudri says that he said: "We used to distinguish the hypocrites by their hatred of Ali." (xiii) Ibn Asakir on the authority of Abu Bakr records that the Holy Prophet said: "Looking at Ali is worship." (xiv) Al Tabarani from Ummi Salima says that the Holy Prophet said: "He who has loved Ali has verily loved me, and he who has hated Ali has verily hated me, and he who has hated me, verily hated the Lord." (xv) Abu Yula and Al-Bazzaz from Sad bin Abi Waqqas say that the Holy Prophet said: "He who annoys Ali, has annoyed me." (xvi) Ahmed bin Hanbal records and Al-Hakim, on the authority of Umme Salima verifies that she narrates: "I heard the Holy Prophet say: "He who has reviled Ali verily he has reviled me." (xvii) Sad bin Al-Musyib says that Umar bin Khattab used to pray to Allah to preserve him from a perplexing case which the father of Hasan (Ali), was not present to decide and that Umar said: "None of the companions used to say 'Ask me' except Ali." (xviii) Al Tabarani says in the Awsat from Ibn Abbas that he said: "Ali possessed eighteen eminent qualities which belonged to no other of the people." (xix) Al Bazzaz records on the authoritv of Sad that the Holy Prophet said to Ali: "It is not lawful for anyone to be in the Masjid while under the obligation of performing a total ablution, except for me and for you." (xx) Abu Yula says that Umar bin Khattab said: "Verily Ali had been endowed with three qualities of which had I but one it would be more precious to me than were I given high bred camels." It was asked of him what they were, he replied: "His remaining in the masjid while that is permitted to him which is not lawful for me, his carrying the standard on the day of Khaybar and his wedding the Holy Prophet's daughter." (xxi) The two Shaykhs (Bukhari and Muslim) record on the authority of Sad ibne Al-Waqqas that the Holy Prophet left Ali ibn Abi Talib behind as his vicegerent during the expedition to Tabuk, and Ali said: "O Messenger of Allah, do you leave me behind among the women and children?" He replied: "Are you not content to be to me in the relation of Harun to Musa save that there shall be no prophet after me?" (xxii) And from Sahl ibn Sad said that the Holy Prophet said on the day of Khaybar: "I will surely give the standard tomorrow to one at whose hands the Lord will give victory, one who loves Allah and His Prophet and whom Allah and His Prophet love." The people passed the night in perplexity as to whom it would be given. When they entered upon the dawn, they went early to the Holy Prophet, each one of them hoping that it would be given to him, but he said: "Where is Ali the son of Abu Talib?" They said to him: "He complains of pain in his eyes." He said: "Then send for him." They brought him and the Holy Prophet applied his saliva in his eyes and prayed for him, and he was healed so that it was as if he had no pain, and he gave him the standard. (xxiii) Muslim records on the authority of Sad ibn Abi Waqqas that when verse 61 of Ali Imran was reveled, the Holy Prophet summoned Ali, Fatima, Hasan and Husayn and said: "O Allah, these are my Ahl ul Bayt." (xxiv) Al Tabarani records in the Awsat and Abu Nu-aym in the Dala-il, on the authority of Zadan, that Ali was relating a tradition when a man accused him of speaking falsely, and Ali said to him: "Shall I curse-"and Ali cursed him, and he did not quit the place till his sight left him. (xxv) Abul Qasim-al-Zajajaji narrates in his dictations that Ali composed a work on the principles of the Arabic language, and the grammar of the Arabic language. As has been stated at several places that praiseworthy qualities are described in the Quran in general terms but they were manifested in full perfection by the Ahl ul Bayt, as recorded in authentic books of history and commentary written by well known Muslim scholars. These qualities are, no doubt, also found in other true believers according to their degree of submission to the will of Allah. Aqa Mahdi Puya says: This verse lays down the basis by which a true believer is distinguished from a hypocrite. The prophets and the imams are always helped by a spiritual power from Allah which may be described as ruhul qudus (holy spirit), and the true believing followers are helped by the spirit of faith (ruhul iman). Also see commentary of Ha Mim: 30.