وَإِذۡ قَالَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ يَٰبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُم مُّصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَمُبَشِّرَۢا بِرَسُولٖ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِي ٱسۡمُهُۥٓ أَحۡمَدُۖ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ قَالُواْ هَٰذَا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
And when Jesus son of Mary said, ‘O Children of Israel! Indeed I am the apostle of Allah to you, to confirm what is before me of the Torah, and to give the good news of an apostle who will come after me, whose name is Ahmad.’ But when he brought them manifest proofs, they said, ‘This is plain magic.’
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 61:1-14
Bodily notes suffice. This help (14) was due to faculty of faith granted to the faithful. Similarly, “faculty extra to Divine Lights enables then not to forget anything.” Faith is affection the Ahl al-Bayt displayed in recalling the “Tragedy of Karbala” advising tyrants and bemoaning Divine Lights with wet eyes, visiting their shrines, nay – maing your home so as to be directly transferred to paradise being forgiven of sins.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:5-6
٢۔ عہدین کی بشارتیں اور"" فار قلیطا "" کی تعبیر
ِاِس میں شک نہیں کہ موجودہ زمانہ میں یہود و نصاریٰ کے پاس جوکچھ تورات وانجیل کے نام سے موجُود ہے ،وہ خُدا کے عظیم پیغمبروں یعنی موسیٰ علیہ السلام اورعیسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتابیں نہیں ہیں ، بلکہ یہ اُن کتابوں کاایک ایسا مجموُعہ ہے جو اُن کے اصحاب یاان کے بعد آ نے والوں کے ذ ریعہ تالیف ہُواہے .ان کتابون کاایک اجمالی مطالعہ اس بات کازندہ گواہ ہے اور خود عیسائیوں اور یُہود یوں کا بھی اِس کے سوا اور کوئی دعویٰ نہیں ہے ۔ لیکن اس کے باوجود اس میں بھی شک نہیں ہے کہ مُوسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اور کتبِ آسمانی کے مضامین و مطالب کاکچھ حصّہان کے پیر و کاروں کے کلام کے ضمن میں منتقل ہوگیاہے ،اِسی بناء پر جوکچھ عہدو قدیم (تو رات اوراس سے وابستہ کتابوں)اور عہد و جدیدِ( انجیل اوراس سے وابستہ کتابوں)میں آ یاہے،نہ تو اس سارے کے سارے کوقبول ہی کیاجاسکتاہے اور نہ ہی وہ سب کاسب قابلِانکار ہے ،بلکہ یہ دونوں کتابیں ان دو عظیم پیغمبروں کی تعلیمات اوردوسر ے لوگوں کے افکار وتصوّر ات سے وجُودمیں آ ئی ہیں ۔ بہرحال موجودہ کتب میں بہت سی ایسی تعبیریں نظر آ تی ہیں جوایک عظیم ظہُور کی بشارت دیتی ہیں کہ جس کی نشانیاں سوائے اسلام اوراس کے لانے والے کے اور کسِی پر منطبق نہیں ہوتیں ۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ وہ پیشگو ئیاں جوان کتابوں میں نظر آ تی اور پیغمبر اسلام کی ذات پرصادق آ تی ہیں ،ان کے علاوہ انجیل یوحنّاکے تین موا ر د میں لفظ فارقلیط آ یاہے (1)اس کافارسی نسخوں میں تسلّی دینے والا کے ساتھ ترجمہ ہُوا ہے ،اب آپ انجیل یوحنّا کی طرف رجوع کریں : میں باپ سے درخواست کروں گا تووہ تمہیں دوسرا تسلّی دینے والا دے گا جو ابد تک تمہار ے ساتھ رہے گا ( 2) ۔ بعد والے باب میں آیا ہے : اورجب وہ تسلّی دینے والا آئے گا جسے میں باپ کی طرف سے تمہار ی طرف بھیجو ں گا ، یعنی سچائی کی رُوح جوباپ کی طرف سے آ ئے گی ،وہ میر ے بارے میں شہادت دے گی ( 3) ۔ پھر اس کے بعد والے باب میں آ یاہے : لیکن میں تم سے سچ کہتاہوں کہ میراجانا تمہارے لیے مُفید ہے ،کیونکہ اگرمیں نہ جائوں گا تووی تسلّی دینے والا تمہارے پاس نہیں آ ئے گا ،لیکن اگر میں چلا جائوں تواُسے تمہارے پاس بھیج دوں گا ( 4) ۔ اہم بات یہ ہے کہ سریانی اناجیل کے متن میں جواصل یونانی سے لی گئی ہیں تسلّی دینے والے کے بجائے پار قلیطا آ یاہے اور یونا نی متن میں پیر کلتوس آ یا ہے کہ جو یُو نانی لغت کے لحاظ سے لائق تعریف شخصکے معنی میں ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)و احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کامعاد ہے ۔ لیکن جب ارباب ِ کلیسا( عیسائی پاور یوں )نے یہ دیکھا کہ اس قسم کے ترجمہ کی نشر واشاعت اُن کے گھڑے ہُوئے نظر یات پر ضربِ شد یدلگائی گی تو پیر کلتوس کی بجائے پار اکلتوس لکھ دیا کہ جوتسلّی دینے والے کے معنی میں ہے .اس واضح تحریف کے ذ ریعے انہوں نے اس زندہ سند کی بدل رکھ دیا ،اگرچہ اس تحریف کے باوجود بھی مستقبل کے عظیم ظہور کی ایک واضح بشارت موجُود ہے ( 5) ۔ ایک مشہور عیسائی پادری جوبعد میں مُسلمان ہوگیاتھا ( فخر الا سلام مُولّف کتاب معروف انیس الا علام )کی ناطق گواہی فا رقلیطا کی تفسیر میں اُس کے عظیم اُستاد کے حوالے سے ہم تفسیر نمونہ کی جلداوّل میں نقل کرچکے ہیں .وہ اِس بات کوواضح کرتی ہے کہ یہ بشارتیں احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نامی شخص کے بارے میں تھیں ( 6) ۔ یہاں ہم آپ کواس لفظ کے اس ترجمہ کی طرف متوجہ کرتے ہیں جواس سلسلہ میں دائرة المعارف کے بزرگ نے فرانسہ میں کیاہے ۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)موسِس دین ِ اسلام ،خدا بھیجا ہوااورخاتم انبیاء ہے لفظ محمد بہت زیادہ تعریف کیے گئے کے معنی میں ہے اورمادّہ حمد سے مشتق ہواہے جوتجلیل کے معنی میں ہے .عجب اتفاق کے زیر اثر ایک اورنام ذکرہوا کہ اس کامادہ بھی حمد ہی ہے . اورلفظ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا مترادف اورہم معنی ہے ، یعنی احمد یہاں احتمال قوی یہ ہے کہ عرب کے عیسائی اس لفظ کو فار قلیط کے بجائے استعمال کرتے تھے ،احمد یعنی زیادہ تعریف کیاہُوا اورلفظ پیرکلتوس کابہت عمدہ ترجمہ ہے کہ جس کی بجائے غلطی سے لفظ پارہ کلتوس رکھ دیاگیاہے،مسلمان مذہبی مولفین نے یہ بار ہا گوشزد کیاہے کہ اس لفظ سے مراد پیغمبر اسلام کے ظہور کی بشارت ہے اورقُر آن مجید بھی سورة صفّ کی حیرت انگیز آ یت میںاِس موضوع کی طرف واضح طورپر اشارہ کرتاہے ( 7) ۔ 1۔یہ تفسیر عربی انجیل چاپ لندن مطبع ولیم وٹس سال ١٨٥٧ ء میں آ ئی ہے ۔ 2۔انجیل یوحنّاباب ١٥ ،جملہ ٢٦۔ 3۔انجیل یُو حنّا ، باب ١٦ جُملہ ٧۔ 4۔انجیل یوحنّا ،١٦ جملہ ٧ ۔ 5۔"" الفرقان فی تفسیر القرآن "" جلد٢٧ صفحہ ٣٠٦ ،زیربحث آیت کے ذیل میں وہاں اوپروالے جملوں کے متن کے ساتھ واضح طورپر سرمانی متن بھی آ یاہے ۔ 6۔تفسرنمُونہ جلداوّل سورۂ بقرہ آ یت ٤١ کے ذیل میں ۔ 7۔دائرة المعارف بزرگ فرانسہ جلد ٢٣ ،صفحہ ٤١٧٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:5-6
3۔ کیا پیغمبرِ اسلام کانام احمد(ص) ہے ؟
یہاں ایک اہم سوال سامنے آ تاہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کامشہور نام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے ،جبکہ زیربحث آ یت میں احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے عنوان سے سے ذکر ہوا ہے . یہ دونوں باتیں ایک دُوسر ے سے کِس طرح ساز گار ہیں ۔ اس سوال کے جواب میں ضروری ہے کہ ذیل کے نکات کی طرف توجّہ کی جائے: الف: تواریخ میں آ یاہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)بچپن سے ہی دونا م رکھتے تھے ،یہاں تک کہ لوگ بھی آپ کودونوں ہی نامون سے خطاب کیاکرتے تھے ،آپ کاایک نام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور دوسرا احمد تھا ، پہلا نام آپ کے جدّ امجد، عبدالمطّلب نے اوردوسرانام آپ کی والدہ محترمہ آمنہ نے اِنتخاب کیاتھا ۔ یہ مضمون سیرة حلبیہ میں تفصیل کے ساتھ ذکر ہواہے: ب:جن لوگوں نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو با ر ہا اس نام کے ساتھ یاد کیاہے ان میں سے ایک آپ کے چچا ابوطالب تھے آج بھی وہ کتاب جودیوانِ ابوطالب کے نام سے ہمارے ہاتھوں میں موجُود ہے اس میں بہت سے ایسے اشعار نظرآ تے ہیں کہ جن میں گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کواحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے نام سے یاد کیاگیاہے: مثلاً : اراد وا قتل احمد (ص) طالموھم ولیس یقتلھم فیھم زعیم ان کے اوپر ظلم کر نے والے احمد (ص) کے قتل کاارادہ رکھتے تھے ۔ لیکن اس کام کے لیے کوئی رہبر انہیں نہیں مل سکا ۔ وان کان احمد قد جائھم بحق ولم یأ تھم بالکذب احمد (ص) قطعی طورپر ایک دین ِ حق لے کر ان کے پاس آ یاہے اور، وہ ہرگز جھوٹا دین لے کر نہیں آ یا (1) ۔ دیوانِ ابوطالب کے علاوہ بھی جناب ابوطالب کے کچھ اشعار اس سلسلے میں نقل ہُوئے ہیں : لقد اکرم اللہ النبی محمداً فاکرم خلق اللہ فی الناس احمد خُدا نے اپنے پیغمبر محمد (ص) کومکّرم ومحترم قرار دیاہے ، اسی لیے لوگوں کے نزدیک مخلوق خدامیں سب سے زیادہ گرامی احمد (ص) ہے ( 2) ۔ ج:پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمصر مشہور شاعر حسّان بن ثابت کے اشعار میں بھی یہ تعبیر نظر آ تی ہے : مفجعة قد شفھا فقد احمد فظلت لالاء الرسول تعدد وہ مصیبت زدہ جسے احمد (ص) کے فقدان نے کمز ور کردیاتھا ، وہ ہمیشہ رسول خدا کے عطایا ومو اہب کوشمار کیاکرتا تھا ( 3) ۔ ابو طالب یاان کے علاوہ دوسرے افراد کے وہ اشعار جن میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بجائے )احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کانام آ یاہے اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کویہاں نقل کرنے کی گنجائش نہیں ہے ،ہم اس بحث کودو اور عمدہ اشعار دکے ساتھ ختم خرتے ہیں جوابوطالب کے فر زند علی علیہ السلام نے کہے ہیں : اتأ مرنی بالصبرفی نصر احمد وواللہ ما قلت الذ ی قلت جاز عاً ساسعی لوجہ اللہ فی نصر احمد نبی الھدی المحمود طفلا و یافعاً کیا تومُجھ سے یہ کہتاہے کہ میں احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی مدد اورنصرت میں صبر سے کام لوں ۔ خداکی قسم ! میں نے جوکچھ کہا ہے وہ جزع و فزع اور بے صبری کی بناء پر نہیں کہا ۔ میں توخدا کے لیے احمد (ص)کی نصرت میں کوشش کرتاہُوں ۔ وہی پیغمبر ہدایت جوبچپن اورجوانی میں ہمیشہ محمُود اورقابلِ تعریف تھا ( 4) ۔ د: جوروایات مسئلہ معراج کے سلسلہ میں وار ہُو ئیں ہیں ان میں یہ کثرت سے آ یاہے کہ خدانے پیغمبر اسلام کوشبِ معراج با ر ہا احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے نام سے خطاب کیا شاہد اسی وجہ سے یہ مشہور ہوگیاہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کانام آسمانوں میں احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اورزمین میں محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے ۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے بھی آ یاہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دس نام تھے ،ان میں سے پانچ نام قرآن میں آ ئے ہیں محمد و احمد و عبداللہ و یٰس و ن ( 5) ۔ ھ: جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے ( سورۂ صفّ )کی اوپر والی آ یات کومدینہ اور مکّہ کے لوگوں کے سامنے پڑھا تویقینی طورپر یہ اہل کتاب کے کانوں تک بھی پہنچیں ،مگر مُشرکین اوراہل کتاب میں سے کسِی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ انجیل تواحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے آ نے کی بشارت دیتی ہے ،اور تمہارانام ، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے یہ سکوت خوداس ماحول میں اِس نام کی شہرت کی دلیل ہے ، اگر کوئی اعتراض ہواہوتا تووہ ہمار ے لیے بھی نقل ہوتا، کیونکہ دشمنوں کے اعتراضات تاریخ میں ثبت ہیں یہاں تک کہ ایسے مو ارد میں بھی جوبہت چھبنے والے ہیں ۔ اس تمام بحث سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے مشہور ناموں میں سے تھا (٦) ۔ 1۔دیوان ابواطالب ،صفحہ ٢٥، ٢٩۔ ٢۔تاریخ ابن عساکر جلد ١،صفحہ ٢٧٥۔ ٣۔ دیوان حسّان بن ثابت ،صفحہ ٥٩ تحقیق محمد عزّت نصراللہ ۔ 4۔ "" الغد یر "" ،جلد٧،صفحہ ٣٥٨۔ ٥۔نورالثقلین جلد٥،صفحہ ٣١٣ تفسیردر المنثور جلد ٦،صفحہ ١٤ میں بھی اس سلسلے میں کئی ، روایات آ ئی ہیں جن کے نقل کرنے سے طول ہوجانے گا ۔ ٦۔اِس بحث اور گزشتہ بحث میں کتاب "" احمد موعود ِ انجیل "" اور"" تفسیرفر قان "" سے بھی استفادہ کیاگیاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:5-6
سوره صف/ آیه 5- 6
٥۔وَ ِذْ قالَ مُوسی لِقَوْمِہِ یا قَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنی وَ قَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّی رَسُولُ اللَّہِ ِلَیْکُمْ فَلَمَّا زاغُوا أَزاغَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ وَ اللَّہُ لا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفاسِقینَ ۔ ٦۔ وَ ِذْ قالَ عیسَی ابْنُ مَرْیَمَ یا بَنی ِسْرائیلَ ِنِّی رَسُولُ اللَّہِ ِلَیْکُمْ مُصَدِّقاً لِما بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْراةِ وَ مُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جاء َہُمْ بِالْبَیِّناتِ قالُوا ہذا سِحْر مُبین ۔ ترجمہ ٥۔اس وقت کویاد کرو جب مُوسٰی نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم تم مجھے تکلیف کیوں دیتے ہو ،حالانکہ تم جانتے ہوکہ میں تمہاری طرف خُدا کابھیجا ہوارسُول ہُوں ۔ جب وہ حق سے مُنحرف ہوگئے تو خُدانے ان کے دلوں کوٹیڑ ھاکردیا ۔اورخدا فاسقوں کو ہدایت نہیں کرتا ۔ ٦۔اوراس وقت کو یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم (ع) نے کہا:اے ابنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف خدا کا بھیجا ہوا رسُول ہُوں ،میں اس کتاب کی جومُجھ سے پہلے بھیجی گئی ، یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا ہُوں ،اورایک رسُول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آ ئے گااوراس کانام احمد (ص) ہے لیکن جب وہ احمد(ص)معجزات اورواضح دلائل دکے ساتھ اُن کی طرف آیاتو انہوں نے کہاکہ یہ توایک کُھلا جادُو ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:5-6
تفسیر
میں احمد(ص) کے ظہور کی بشارت لے کر آ یاہوں : ان دو احکام کے بعد جو گزشتہ آ یات میں گفتار و کردار کی ہم آہنگی اور وحدتِ صفوف کے بارے میں آ ئے تھے ، اِس میں ان معنی کی تکمیل کے لیے دو پیغمبروں مُوسٰی علیہ السلام اور عیسٰی علیہ السلام کی زندگی کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتاہے کہ افسوس ہے گفتار وعمل کی جُدائی اور صفوف کے عدم نظم کے کئی واضح نمُونے ،ایسی منحوس سرنوشت کے ساتھ جوان امُور کے بعد ان میں پیدا ہُوئی ، ان دونوں کے پیر و کاروں کی زندگی میں نظر آ تے ہیں ۔ پہلے فر ماتاہے:اس وقت کو یاد جب مُوسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم ! تم مُجھے کیوں تکلیف پہنچا تے ہو ، حا لانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہار ی طرف خدا کا بھیجا ہُوا رسُول ہوں (وَ اِذْ قالَ مُوسی لِقَوْمِہِ یا قَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنی وَ قَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّی رَسُولُ اللَّہِ ِلَیْکُمْ) ۔ یہ آزاد واذیّت ممکِن ہے ان تمام مخا لفتوں اور بہانہ جوئیوں کی طرف اشارہ ہو جو بنی اسرائیل نے مُوسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں اِس عظیم پیغمبر کے ساتھ کی تھیں ،یابیت المقدس کی مانند کسِی ماجرے کی طرف اشارہ ہو کہ جس میں انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا :ہم اس شہر میں داخل ہونے کے لیے تیّار نہیں اور نہ ہی ہم عمالقہ کے ساتھ جنگ پر تیّار ہیں جوایک طاقتور اورجبّار گروہ ہے ۔ تم اورتمہارا پر وردگار جا کر اس کوفتح کرو توپھر ہم اس میں داخل ہوں گے ( ما ئدہ ، ٢٤) ۔ اسی سبب سے وہ سالہاسال تک وادی ِ تیہ میں گھومتے رہے اور جہاد کے حکم میں فضُول ، بیہودہ اورکمزور بہانے بنانے کاتلخ مزہ چکھتے رہے ۔ لیکن اس چیز کی طرف توجّہ کرتے ہُوئے جوسُورہ ٔ احزاب کی آ یت ٦٩ میں وارد ہوئی ہے ایسا معلوم ہوتاہے کہ یہ اذیّت و آزار ان نار وا نسبتوں کی طرف اشارہ ہے جوانہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف دیں اورخُدا نے موسیٰ علیہ السلام کوان سے مبّرا قرار دیاتھا ، اس آ یت میں آ یاہے : یاایھا الذین اٰمنوا لا تکونوا کالذ ین اٰذو اموسیٰ فبرأ ہ اللہ مما قالوا وکان عنداللہ وجیھاً ۔ اے ایمان لانے والو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائو جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کواذیّت پُہنچائی اورخُدانے انہیں ( بنی اسرائیل کی نا رو ا باتوں سے ) بری قرار دیا ۔ یہ نسبتیں بہُت سی تھیں ، کبھی تووہ انہیں اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کوقتل کرنے کے ساتھ مُتّہم کرتے ، کبھی ( نعوذ باللہ )ایک بد کار عورت کے ساتھ غیر شرعی روابط کی تہمت لگاتے ( وہ سازش جوحیلہ باز قارُون نے تیّار کی تا کہ وہ زکات سے مستٰثنی رہے )کبھی ان پر جا دو اور جُنون کااتّہام لگاتے تھے ،یاانہیں چند ایک جسمانی عیوب کے ساتھ متّہم کرتے تھے کہ جن کی تفصیل سورہ احزاب کی مذکورہ آ یت میں آچکی ہے ( ١) ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص کسِی پیغمبر پر ایمان لانے کادعوے دار ہو اورپھر وہ اس کوایسی نارو انسبتیں دے ؟ کیا یہ گفتار کے کر دار سے جُدا ہونے کاواضح ترین نمونہ نہیں ہے ؟اسی لیے توموسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں : باوجود یکہ تم اِس بات کایقین رکھتے ہو کہ میں خداکا رسول ہوں ، پھر یہ ناروا باتیں کیوں کرتے ہو ۔ لیکن یہ عمل سزا کے بغیر نہ رہاجیساکہ زیرِ بحث آ یت کے آخر میں آ یاہے : جب وہ حق سے مُنحرف ہوگئے توخُدا نے بھی اُن کے دلوں کومنحرف کردیااورخدا فاسقوں کوہدایت نہیں کرتا (فَلَمَّا زاغُوا أَزاغَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ وَ اللَّہُ لا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفاسِقین) ۔ اِس سے بڑی مصیبت اورکیاہوگی کہ انسان خدائی ہدایت سے محروم اوراس کادل حق سے منحرف ہوجائے ؟ ( ٢) ۔ اِس تعبیر سے معلوم ہوتاہے کہ ہدایت وضلالت اگرچہ خداکی طرف سے ہے ، لیکن اس کے اسباب اورعوامل خُوداِنسان کی طرف سے ہوتے ہیں ،کیونکہ ایک طرف توفرماتاہے : جس وقت وہ حق سے منحرف ہوگئے توخدانے بھی ان کے دلوں کومنحرف کردیا یعنی پہلا انہوں نے اُٹھا یاہے، دوسر ی طرف یہ کہتاہے : خدا فاسق قوم کوہدایت نہیں کرتا ۔ پہلے فسق وگناہ سرزد ہوتاہے ، کہ جس سے انسان تو فیق وہدایت الہٰی کے سلب ہوجانے کا مستحق ہوتاہے اور اس کے بعد اس عظیم محرُومیّت میں گرفتار ہوجاتاہے .اِس سلسلہ میں تفصیلی بحث سورۂ زمّر کی آ یت ٣٦ کے ذیل میں آچُکی ہے ۔ ( تفسیر نمونہ جلد ١٩ کی طرف رجُوع کریں ) ۔ بعد والی آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت اوراس کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی کار شکنی اور تکذیب کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتاہے : اس وقت کو یاد کرو جب عیسیٰ ابن مریم علیہماالسلام نے کہا: اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف خُدا کابھیجا ہوا رسُول ہوں ، جبکہ میں اس کتاب کی جومُجھ سے پہلے بھیجی گئی ( یعنی تورات )کی تصدیق کرنے والا ہوں (وَ ِذْ قالَ عیسَی ابْنُ مَرْیَمَ یا بَنی ِسْرائیلَ ِنِّی رَسُولُ اللَّہِ ِلَیْکُمْ مُصَدِّقاً لِما بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْراة) ۔ اورمیں اس رسول کی بشارت دینے والا بھی ہُوں جومیرے بعد آ ئے گا ۔ اس کانام احمد (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) ہے (مُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ ) ۔ اِس بناء پر میں وہ حلقہ ٔ اتّصار ہوں جو اُمّتِ موسٰی علیہ السلام اوران کی کتاب کوآ نے والے پیغمبر ( پیغمبر اسلام )کی اُمت اوراُن کی کتاب سے ملانے والا ہوں ۔ اِس طرح حضر عیسٰی علیہ السلام کارسالت ِخدا وندی کے سوااورکوئی دعویٰ نہیں تھا ،اوروہ بھی ایک خاص زمانہ کے لیے تھا ۔ بعد میں ان کی طرف الو ہیّت یاخدا کا بیٹا ہونے کے بارے میں جو افتراء باندھاگیا وہ سب جُھوٹ اور بُہتان ہے ۔ اگرچہ بنی اسرائیل کاایک گروہ اس موعود نبی پرایمان لے آیا،لیکن ان کی ایک بہت دبڑی جمعیت نہا یت سختی کے ساتھ اس کے مقابلہ میں کھڑ ی ہوگئی . یہاں تک کہ انہوں نے اس کے واضح معجزات کابھی انکار کردیا. اِس لیے آ یت کے آخر میں مزید کہتاہے : جب وہ (احمد ) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ان کے پاس معجزات اورواضح دلائل کے ساتھ آیاتو انہوں نے کہا: یہ توکُھلا ہواجادو ہے (فَلَمَّا جاء َہُمْ بِالْبَیِّناتِ قالُوا ہذا سِحْر مُبین) ۔ تعجّب کی بات یہ ہے کہ گروہِ یہود ،مشرکین عرب پہلے سے اس پیغمبر کوپہچانے ہُوئے تھا،یہاں تک کہ انہوں نے اس کے شوق ِدیدار کے لیے ترکِ وطن کیااوران کے کئی قبائل سرزمین ِ مدینہ میں آکر آ باد ہوگئے ۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجودبُہت سے بت پرستوں نے تو اس پیغمبر موعود کوپہچان لیا اوراس پر ایمان لے آ ئے،لیکن اکثر یہودی ہٹ دھرمی ، عناد اور انکار پر ڈٹے رہے ۔ مفسّرین کے ایک گروہ نے فلما جاء ھمکی ضمیر کو ،جیساکہ ہم نے اوپر نقل کیاہے،پیغمبر اسلام ( احمد) (صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف لوٹایا ہے،لیکن بعض نے یہ نظر یہ پیش کیا ہے کہ یہ ضمیر حضرت عیسٰی کی طرف لوٹتی ہے ،یعنی عیسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کے لیے واضح مُعجزات لے کر آ ئے توانہوں نے اس کا انکار کیااورجادو قرار دیا ۔ لیکن بعد والی آیات بتلاتی ہیں کہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے ، کیونکہ ان آیات میں اسلام اورپیغمبر اسلام کا تذ کرہ ہُوا ہے ۔ ۔تفسیر نمونہ ،جلد١٧ ، سُورة احزاب آ یت ٦٩ کے ذیل میں دیکھیں ۔ ٢۔"" ذاغو ا مادہ "" "" زیغ "" سے ،صراط مستقیم سے انحراف کے معنی میں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 61:5-6
١۔ بشارت اورتکمیل دین کاربط
ظہو راسلام کے بارے میں عیسیٰ علیہ السلام کے خبردینے میں بشارت کی تعبیر گزشتہ اد یان کی نسبت اس دین کی تکمیل کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے ، آ یات ِ قر آنی کا مُطالعہ اوراِسلامی عقائد ، احکام قوانین اور مسائل ِ اخلاقی واجتماعی کے سلسلے میں قرآن کے معارف وتعلیمات کا اس کے ساتھ موازنہ کہ جوکتب عہدین ( توریت وانجیل )میں آیا ہے ،اس برتری کی واضح طورپر نشان دہی کرتاہے ۔ اگرچہ اوپر والی آ یت میں اس کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کہ یہ بشارت مسیح علیہ السلام کی آ سمانی کتاب کے متن میں بھی ہے یانہیں ؟لیکن قرآن کی دوسری آ یات ، خود انجیل میں اس کے ذکر کی گواہ ہیں ، سورة اعراف آیة ٥٦ میں آ یا ہے ...وہ لوگ جوخُدا کے بھیجے ہُوئے پیغمبر امّی کی پیر وی کرتے ہیں ، وہی پیغمبر جس کی صفات کووہ اپنے پاس تو رات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ... اوربعض دوسری آ یات ( 1) ۔ 1۔"" المیزان "" جلد ١٩،صفحہ ٢٩٠۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 61:6
[Pooya/Ali Commentary 61:6] The mission of Isa was to his people, the Jews. He command his disciples to address their appeal only to "the lost sheep of the house of Israil." Refer to the commentary of Baqarah: 40. The teaching of Isa was singularly restricted to the children of Israil and therefore necessitated the advent of another teacher which is admitted by the Christians themselves. It is written in Hastings' Encyclopaedia of Religion and Ethics: "His ethical teaching was so suggestive but so paradoxical, so figurative, and incomplete. It was designed not to save us from the trouble of thinking but to turn our thoughts to the comforter whom he promised to send" (Vol. xii p.621). "Ahmad" was employed as a translation of "the periclytos" in old Arabic versions of the New Testament. Muir and Sale say that Ahmad or Muhammad, the praised one, is almost a translation of the Greek word periclytos. In the present gospel of John 14: 16; 15: 26 and 16: 7, the word "comforter" blithe English version is for the Greek word "Paracletos", which means "advocate", "one called to the help of another, a kind friend", rather than "comforter". Paracletos is a corrupt reading for Periclytos, and in the original saying of Isa there was a prophecy of the Holy Prophet Ahmad by name. Even if it is read Paraclete, it would apply to the Holy Prophet. See "The Injil" on page 375. The present version of the Injil known as the New Testament is neither complete nor reliable. Isa said: "I was sent to the lost sheep of the house of Israel." (Matthew 15: 24). "Do not take the road to gentile lands, and do not enter any Samaritan town; but go rather to the lost sheep of the house of Israel." (Matthew 10: 5 and 6). The mission of Isa was for the lost sheep of Israel. The following verses of the Bible contain the prophecy of the advent of the Holy Prophet, who came with an universal message as a mercy for all creatures, in all times, till the end of the world. Isa said: "I will ask the Father, and He will give you another to be your advocate, who will be with you for ever-the spirit of truth." (John: 14: 16). "However, when he comes who is the spirit of truth, he will guide into all the truth, he will not speak on his own authority, but will tell only what he hears; and he will make known to you the things that are coming." (John 16: 13). Verse 81 of Bani Israil and 49 of Saba say that when "the perfect" comes all "the imperfect" vanish and are lost to oblivion. What has been mentioned in Deuteronomy 18: 15, 18 and 19 has been referred to in verses 3 and 4 of Najm. John the Baptist (Yahya) says in John 1: 19 to 21 that he was neither the Messiah (Isa), nor Elijah (Ilyas) nor the "awaited" prophet. It clearly shows that the prophet referred to in Deuteronomy 18: 18 was neither Isa nor John the Baptist (Yahya). "Then the Lord said to me (Musa): 'I will raise up for them a prophet like you, one of their own race, and I will put my words into his mouth. He shall convey all my commands to them.'" (Deuteronomy 18: 18) The Prophet referred to in Deuteronomy 18: 15, 18 and 19 is like Musa. Isa was not like Musa. Isa was born without a father, a miracle, unlike Musa who had a father and a mother; and Musa was a law-giver whereas Isa was sent to follow and fulfil the law of Musa. Isa said: "Do not suppose that I have come to abolish the law and the prophets; I did not come to abolish, but to complete." The comforter or the spirit of truth (Ahmad or Muhammad) would praise him (Isa), according to John 16: 14, and make known the truth about Isa and Maryam, teach mankind all the truth about all things; and his teachings would remain in force for all times, whereas Isa's mission (Matthew 15: 24 and 10: 5 to 6) was restricted to the children of Israel only. According to Araf: 158; Anbiya: 107 and Saba: 28 the Holy Prophet was sent to guide the whole mankind. As stated in John 14: 26: "Your comforter, the Holy Ghost (or spirit), whom the father will send in my name, will teach you everything", the Holy Prophet was not an ordinary human being but holy, thoroughly purified by Allah as per Ahzab: 33, which refers to him and his Ahl ul Bayt.