عَسَىٰ رَبُّهُۥٓ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبۡدِلَهُۥٓ أَزۡوَٰجًا خَيۡرٗا مِّنكُنَّ مُسۡلِمَٰتٖ مُّؤۡمِنَٰتٖ قَٰنِتَٰتٖ تَـٰٓئِبَٰتٍ عَٰبِدَٰتٖ سَـٰٓئِحَٰتٖ ثَيِّبَٰتٖ وَأَبۡكَارٗا
It may be that if he divorces you his Lord will give him, in [your] stead, wives better than you: [such as are] muslim, faithful, obedient, penitent, devout and given to fasting, virgins and non-virgins.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 66:1-5
سوره تحریم/ آیه 1-5
بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ ١۔یا أَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّہُ لَکَ تَبْتَغی مَرْضاتَ أَزْواجِکَ وَ اللَّہُ غَفُور رَحیم ۔ ٢۔قَدْ فَرَضَ اللَّہُ لَکُمْ تَحِلَّةَ أَیْمانِکُمْ وَ اللَّہُ مَوْلاکُمْ وَ ہُوَ الْعَلیمُ الْحَکیمُ ۔ ٣۔ وَ ِذْ أَسَرَّ النَّبِیُّ ِلی بَعْضِ أَزْواجِہِ حَدیثاً فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِہِ وَ أَظْہَرَہُ اللَّہُ عَلَیْہِ عَرَّفَ بَعْضَہُ وَ أَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّأَہا بِہِ قالَتْ مَنْ أَنْبَأَکَ ہذا قالَ نَبَّأَنِیَ الْعَلیمُ الْخَبیرُ ۔ ٤۔ِنْ تَتُوبا ِلَی اللَّہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُما وَ ِنْ تَظاہَرا عَلَیْہِ فَِنَّ اللَّہَ ہُوَ مَوْلاہُ وَ جِبْریلُ وَ صالِحُ الْمُؤْمِنینَ وَ الْمَلائِکَةُ بَعْدَ ذلِکَ ظَہیر ۔ ٥۔ عَسی رَبُّہُ ِنْ طَلَّقَکُنَّ أَنْ یُبْدِلَہُ أَزْواجاً خَیْراً مِنْکُنَّ مُسْلِماتٍ مُؤْمِناتٍ قانِتاتٍ تائِباتٍ عابِداتٍ سائِحاتٍ ثَیِّباتٍ وَ أَبْکارا۔ ترجمہ رحمن وحیم خدا کے نام سے ١۔ اے پیغمبر(ص) ! جوچیز خدانے تیرے لیے حلال کی ہے اُسے اپنی بیویوں کوخوش رکھنے کے لیے اپنے اُوپر حرام کیوں کرتے ہو اور خدا غفور ورحیم ہے ۔ ٢۔ خدانے (ایسے موقعوں کے لیے )تمہاری قسموں کے کھولنے کی راہ کوواضح کردیا ہے اورخداہی تمہارا مولاہے اور وہ علیم وحکیم ہے ۔ ٣۔اوراس وقت کویاد کرو جب پیغمبر(ص)نے اپنا ایک راز اپنی بیویوں میں سے بعض کوبتلا یا، لیکن جب اس نے اس راز کوافشاء کردیا توخُدانے پیغمبر(ص)کواِس سے آگاہ کیا اور پیغمبر(ص) نے اس کا ایک حصّہ تواس سے بیان کیا اورایک حصّہ بیان نہ کیا . جب پیغمبر(ص) نے اپنی بیوی کواس کی خبردی تواس نے کہاکہ آپ کواس بات سے کِس نے آگاہ کیاہے ؟ توآپ نے فرمایا کہ علیم وخبیر خدانے مجھے اس بات سے آگاہ کیاہے ۔ ٤۔اگرتم دونوں اپنے فعل سے توبہ کر لو (تواس میں تمہارانفع ہے)کیونکہ تمہارے دل حق سے پھر گئے ہیں ، اوراگرتم دونوں اس کے برخلاف ایک دوسری کی مدد کرتی رہو گی ( تب بھی تم اس کاکچھ نہ بگاڑ سکوگی )کیونکہ خُدا اس کامددگار ہے .اوراسی طرح جبرئیل اورصالح مومنین اوران کے علاوہ تمام فرشتے اس کے پشتیبان ہیں ۔ ٥۔اگروہ تمہیں طلاق دے دے توقریب ہے کہ اس کاپروردگار تمہاری جگہ اس کے لیے تم سے اچھی بیو یاں قرار دے جومُسلمان ، متواضع ،توبہ کرنے والیاں ، عبادت گذار اور ہجرت کرنے والیاں ہوں گی اوربیوہ اور باکرہ ہوں گی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 66:1-5
٣پیغمبر کی اپنی بعض بیویوں سے ناراضی
طولِ تاریخ میں ایسے بہُت سے بزرگ گزرے ہیں جن کی بیوباں ان کے شایانِ شان نہیں تھیں اوران میں ضروری اوصاف نہ ہو نے کی وجہ سے اُنھیں تکلیف اُٹھا ناپڑ تی تھی .ان میں سے کچھ نمونے بزرگ انبیاء کے بارے میں قرآنِ مجید میں بیان ہُوئے ہیں : اوپروالی آ یت اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حالت بھی اپنی بعض بیویوں کی طرف سے ایسی ہی تھی . ان رقابتوں کی وجہ سے جووہ ایک دوسری سے رکھتی تھیں ، بعض اوقات وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی روح پاک وکومجروح کرتی تھیں ، کبھی وہ آپ پراعتراض کرتی تھیں یا اپ کے راز کوفاش کردیاکرتی تھیں ، یہاں تک کہ خدانے انہیں سرزنش کی اوراپنے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع کرتے ہوئے اس سلسلے میں تاکید ی فر مان دیا اورانہیں طلاق تک کی تہدید بھی کی .جیساکہ ہم نے معلوم کرلیا ہے کہ اوپر والی آ یات میں مذ کور واقعہ کے بعد آپ تقریباً ایک ، ماہ تک اپنی بیویوں سے ناراض رہے کہ شاید وہ اپنی اصلاح کرلیں ۔ اصولی طورپر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تاریخ ِزندگی اِس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعض بیویاں نہ صرف مقامِ نبوّة کی ضر وری اورلازمی معرفت نہیں رکھتی تھیں،اوقات آپ پرایک عام آدمی کی طرح اعتراض کیاکرتی تھیں،یہی یہاں تک کہ خد نخواستہ آپ کی توہین بھی کرتی تھیں .اِس بناء پر اوپر والی آ یات کی صراحت کودیکھتے ہوئے بھی یہ اصرار کرنا کہ سب شائستہ اور کامل تھیں،بے دلیل نظر آتاہے ۔ تاریخِ اسلام نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بعد ان کی بیویوں کے بارے میں،خصوصاً داستانِ جنگ جمل نے،اِس بات کی نشاندہی کی ہے کہ یہ بات نہ صرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تھی کہ بلکہ آپ کے بعد آپ کے جانشینوں کے بارے میں بھی دُہرا ئی گئی ہے .لیکن یہاں ان تمام مسائل کی تفصیل بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ اصولی طورپر یہ اوپر والی آیات کی تعبیر جویہ کہتی ہے: اگرپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں طلاق دے دے توخدا اسے تم سے بہتر بیویاں دے گا جوآ یات میں مذ کورُ چھ صفات کی حامل ہوں گی،اس واقعیّت وحقیقت کوبیان کررہی ہے کہ کم از کم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعض بیویاں ان اوصاف کی حامل نہیں تھیں ۔ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کے بارے میں سورۂ احزاب کی آ یات کی طرف رجوع کرنے سے بھی اوپر والے نظر یہ کی تائید ہوتی ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 66:1-5
٤افشائے راز
راز داری نہ صرف حقیقی مومنین کے صفات میں سے ہے بلکہ ہربات ہر بار ہر باحیثیت انسان کوراز دار ہونا چاہیے ، پھر یہ بات قریبی دوستوں اور زوجہ و شوہر میں بہُت زیادہ اہمیّت رکھتی ہے .اوپر والی آ یات میں ہم نے دیکھ لیاہے ،کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعض بیویوں کی راز داری ترک کرنے کی بناء پر خدانے کیسی شدّت کے ساتھ ملامت اورسر زنش کی ہے ۔ امام علی علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں : جمع خیر الدنیا والٰا خرة فی کمتان السرو مصادقة الا خیار ، وجمع الشرفی الاذ اعة ومواخاة الاشرار : دنیا اورآخرت کی تمام خیر وخو بی ان دو چیزوں میں چھپی ہُوئی ہے : راز کو پو شیدہ رکھنا اورنیک افراد سے دوستی ، اورتمام شران دوچیزوں میں چھُپا ہُوا ہے : رازوں کا افشاء کرنا اوراشرار سے دوستی رکھنا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 66:1-5
٥حلال خدا کو اپنے اوپر حرام نہیں کرناچاہیے
وہ امور جوخدا کی طرف سے حلال یاحرام کردیئے گئے ہیں وہ سب مصلحتوں کی بناء پر ہوتے ہیں .اسی بناء پر اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ انسان کسِی حلال چیزکو اپنے اوپرحرام یاکسِی حرام چیز کو اپنے اوپر حلال کرے ، یہاں تک کہ اگراس سلسلے میں قسم بھی کھا لے ، جیساکہ اوپر والی آ یات میں آ یا ہے تواس قسم کوتوڑ سکتا ہے ۔ ہاں !اگر کوئی ایسا مباح فعل جس کے ترک کی قسم کھائی ہے ، کوئی مکروہ فعل ہو یاکسِی جہت سے اس کا ترک کرنا اولیٰ اوربہتر ہوتو اس صورت میں اُسے قسم کی پابندی کرنا چاہیے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 66:1-5
٢صالح المؤ منین سے کون مراد ہے ؟
اس میں شک نہیں کہ صالح المومنین ایک وسیع معنی رکھتاہے جوتمام صالح باتقوٰی اورکامل الایمان مومنین کوشامل ہے .اگرچہ صالح یہاں مُفرد ہے جمع نہیں ہے ،لیکن چونکہ جنس کامعنی رکھتاہے ، اس لیے اس سے عمومیّت کے معنی کا استفادہ ہوتاہے ( ۱) ۔ لیکن اس بارے میں کہ یہاں اس کا اتم مصداق کون ہے ؟ متعدّد روایات سے معلوم ہوتاہے کہ اس سے مراد امیر المومنین علی علیہ السلام ہیں ۔ ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے آ یاہے : لقدعرف رسو ل اللہ (ص) علیاً (ع) اصحابہ مرتین : امامرة فحیث قال : من کنت مولاہ فعلی مولاہ واما الثا نیة فحیث نزلت ھذہ الاٰ یة : فان اللہ ھومولاہ وجبریل وصالح المؤ منین ... اخذ رسول اللہ (ص) بید علی (ع) فقال : ایھا الناس ھٰذاصالح المؤ منین ! حضرت رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امام علی علیہ السلام کا اپنے اصحاب سے دو مرتبہ (صراحت کے ساتھ ) تعارُف کرایا. ایک مرتبہ تواس وقت جبکہ آپ نے (غدیرخم میں ) فرمایا : من کنت مولاہ فعلی مولاہ جس جس کا میں مولاہوں اُس کاعلی علیہ السلام مولاہے ،دوسری مرتبہ اس وقت جبکہ آ یت ان اللہ ھومولاہ ... نازل ہُوئی ، تب حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم) نے امام علی علیہ السلام کاہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے لوگوں ! یہ صالح المومنین ہے ( ۲) ۔ اس معنی کوبہُت سے علماء اہل سنّت نے بھی اپنی کتابوں میں نقل کیاہے ، ان میں علّامہ ثعلبی علّامہ گنجی ، ابو حیان اندسی اور سبط ابن جوزی وغیرہ شامل ہیں ( ۳) ۔ بہُت سے مفسّرین اور منجملہ ان کے سیوطی نے درالمنثور میں ، قرطبی نے اپنی مشہور تفسیر میں اوراسی طرح ، آلوسی ، نے روح المعانی میں اسی آ یت کی تفسیر میں اس روایت کونقل کیاہے ۔ روح البیان کامو لّف اس روایت کو مجا ہد سے نقل کرنے کے بعد کہتا ہے : اس حدیث کی تا ئید مشہُور حدیث منزلت سے ہوتی ہے کہ جس میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امام علی علیہ السلام سے فرمایا :انت من بمنزلتہ ھارون من موسیٰ : کیونکہ قرآن میں صالح کاعنوان انبیاء کے لیے آ یاہے . منجملہ ان کے سُورہ ٔ انبیاء کی آ یت ٧٢ میں وکلّا جعلنا صالحین اورسورہ ٔ یُوسف کی آ یت ١٠١ میں الحقنی بالصّا لحین ہے . پہلی آ یت میں صالح کاعنوان انبیاء کی ایک جماعت کے لیے اور دوسری میں حضرت یوسف کے لیے آ یاہے ، اور جب علی علیہ السلام بمنزلۂ ہارون علیہ السلام ہوں توآپ بھی صالح مصداق ہوں گے (غور کیجیے ) ۔ خلاصہ یہ کہ اِس سلسلے میں بہت زیادہ احادیث ہیں، مفسّر معروف محدّت بحرانی ،تفسیر برہان میں اس سلسلہ کی ایک روایت ذکر نے کے بعد محمد بن عباس (۴) سے نقل کرتاہے کہ اس نے اس بارے میں ٥٢ احادیث شیعہ اوراہل سُنّت کے طرق سے جمع کی ہیں . اس کے بعد وہ خود ان میں سے چند ایک احادیث نقل کرتاہے ( ۵) ۔ ۱۔ بعض نے صالح کویہاں جمع سمجھا ہے کہ اس بات کی طرف توجّہ کرتے ہُوئے کہ ""صالحوا "" کی وائو اضافت کے وقت حذف ہو جاتی ہے ، لہٰذا قرآن کے رسم الحظ میں بھی نہیں ا ئی .لیکن یہ معنی بعید نظر آ تاہے ۔ ۲۔ تفسیر مجمع البیان ، جلد١٠ ، صفحہ ٣١٦۔ ۳۔ مزید وضاحت کے لیے "" احقاق الحق"" جلد٣،صفحہ ٣١١ کی طرف رجوع کریں ۔ ۴۔ ایسامعلوم ہوتاہے کہ محمدبن عباس وہی عبداللہ ہے جوابن الحجام کے نام سے مشہور ہے اورکتاب مانزل من ، وان من اہل بیت علیہما السلام کامُؤ لّف ہے .اس کتاب کے متعلّق علماء کی ایک جماعت کاکہناہے کہ اس کامثل کوئی کتاب ابھی تک تالیف نہیں ہوئی ( جامع الر واة جلد ٢،صفحہ ١٣٤) ۔ ۵۔ تفسیر برہان ،جلد ٤،صفحہ ٣٥٣ حدیث ٢ کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 66:1-5
شانِ نزول
اوپر والی آ یات کے شانِ نزول کے بارے میں شیعہ اوراہل سُنّت کی تفسیر ، حدیث اور تاریخ کتابوں میں بہت سی روایات نقل ہُوئی ہیں . اُن میں سے جو ز یادہ مشہور اور زیادہ مُناسب نظر آتی ہیں وہ ہم یہاں پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہیں : پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض اوقات (اپنی ایک بیوی ) زینب بنت حجش کے پاس جا تے توزینت آپ کوبیٹھا لیتیں اور جو شہد اُن کے پاس موجود ہوتاوہ آ پ کی خدمت میں پیش کرتیں . یہ بات بی بی عائشہ کے کانوں تک پہنچی تواُن پر بہت گراں گز ری ، وہ کہتی ہیں : میں نے حفصہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دوسری بیوی ) کے ساتھ یہ طے کیاکہ جب بھی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے قریب آ ئیں توہم فوراً یہ کہیں کیا آپ نے مغافیر کھائی ( مغافیر ایک گوند تھی جو حجاز کے ایک درخت عُرفط ( بر وزن ہرمز ) سے نکلتی تھی اوراس کی بُو خوشگو ار نہیں تھی) پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کے پابند تھے کہ آپ کے دہن مُبارک یالباس سے ہرگز کوئی نامُناسب بونہ آ ئے بلکہ اس کے برعکس آپ پابند ی کے ساتھ خوشبولگا تے اور مُعطّر رہتے تھے ۔ اِس طرح ایک دن پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حفصہ کے پاس آ ئے تواس نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے یہی بات کہی . آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے مغافیر نہیں کھائی بلکہ زینب بنت حجش کے یہاں سے شہد نوش کیاہے اور میں قسم کھاتاہوں کہ اب اس کے بعد وہ شہد پیوں گا.( ممکن ہے کہ شہد کی مکھّی کسِی نامناسب نبات یاشاید مغافیر پرہی بیٹھی ہو) لیکن تم یہ بات کسِی سے نہ کہنا (کہیں ایسانہ ہوکہ یہ بات لوگوں کے کانوں تک پُہنچے تووہ کہیں کہ پیغمبر( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حلال غذا کواپنے اوپر حرام کیوں کرلیاہے ؟ یاوہ اس سلسلے میںیا اس سے مشابہ امور کے بارے میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے اس عمل دکی پیروی کرنے لگیں ،یایہ بات زینب کے کان تک پہنچ جائے وہ شکستہ دل ہو ) ۔ لیکن انجامِ کار یہ راز اس نے فاش کردیا اور بعد میں معلوم ہوگیاکہ اصل میں یہ معاملہ توایک سازش تھی .اس پر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوبہت رنج ہو اتو اوپروالی آ یات نازل ہُو ئیں اوراس ماجر ے کواس طرح سے ختم کیاگیا کہ پھر پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں اس قسم کے امُور کاتکرار نہ ہُوا (۱) ۔ بعض روایات میں یہ بھی آ یاہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) اس ماجر ے کے بعد ایک مادہ تک اپنی ازواج سے الگ رہے . یہاں تک کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ان کوطلاق دینے کے ارادہ کی خبر منتشر ہوگئی ، اس طرح ازواج سخت پریشان اوروحشت زدہ ہوگئیں اوراپنے فعلِ پر پشیمان ہُوئیں ۔ ١۔ اس اصل حدیث کوبخاری نے اپنی صحیح کی جلد ٦،صفحہ ١٩٦ میں نقل کیاہے اور جو وضاحتیں ہم نے قو سین میںلکھی ہیں وہ دوسری کتب سے معلوم ہُوئی ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 66:1-5
پیغمبر(ص) کی بعض ازواج کی شدید سرزنش
اِس میں شک نہیں کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسے عظیم انسان صرف اپنی ذات سے ہی تعلّق نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کا تعلّق پوراے اسلامی مُعاشرے اور عالمِ انسانیّت سے تھا ، اس بناء پر اگران کے گھر کے اندران کے خلاف سازشیں ہوں ، چاہے وہ کِتنی ہی چھوٹی اور معمولی کیوں نہ ہوں ، تواُن کے قریب سے آسانی کے ساتھ نہیں گزرجا نا چاہیئے . یعنی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حیثیت ، مقام اورمرتبہ کو نعوذباللہ کسِی کے بھی ہاتھ میں کھلو نا نہیں بننا چاہیئے .اگراس قسم کا کوئی معاملہ پیش آ ئے تو قا طعیّت کے ساتھ اس کا سامنا کرناچاہیے ۔ اوپر والی آ یت حقیقت میں خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے اس قسم کے واقعہ کے مقابلے اوراپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیثیت و مقام کی حفاظت کے لیے ایک قطعی اور دوٹوک فیصلہ ہے ۔ سب سے پہلے خود پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف رُوئے سخں کرتے ہُوئے کہتاہے : اے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! جوچیز خُدا نے تیرے لیے حلال کی ہے اُسے اپنی بیویوں کوخوش رکھنے کے لیے اپنے اوپر حرام کیوں کرتے ہو ؟ (یا أَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّہُ لَکَ تَبْتَغی مَرْضاتَ أَزْواجِکَ ) ۔ معلوم ہے کہ یہ شرعی تحریم نہیں تھی بلکہ جیسا کہ بعد والی آ یت سے معلوم ہوتاہے ، پیغمبر کی طرف سے قسم کھائی گئی تھی،اورہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بعض مباح چیزوں کے ترک کرنے کی قسم کھانا کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اس بناء پر لم تحرم (اپنے اوپرحرام کیوں کرتے ہو ) کاجملہ عتاب اورسرزنش کے عنوان سے نہیں بلکہ ایک قسم کی ہمد ردی اور شفقت کا اظہار ہے ۔ ٹھیک اس طرح کہ جیسے ایک شخص جواپنی معاش حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ زحمت اٹھاتاہے لیکن خُود اس سے کچھ زیادہ فائدہ نہیں لیتا، ہم اس سے کہتے ہیں کہ تم اپنے آپ کواتنی زحمت کیوں دیتے ہو، اور اس زحمت کے ثمر ے سے فائدہ کیوں نہیں اُٹھا تے ۔ بعد آیت کے آخر میں مزید کہتاہے : خدا غفور ورحیم ہے (وَاللَّہُ غَفُور رَحیم ) ۔ یہ عفو ورحمت کی بات ان بیویوں کے بارے میں ہے ، جنہوں نے اس واقعہ کے اسباب مُہیّا کیے ہیں . یعنی اگرواقعی وہ توبہ کرلیں تووہ اس کی مشمُول ہوں گی . یایہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بہترتھا پیغمبراس کی قسم نہ کھا تے ،کیونکہ یہ ایک ایساکام تھا جواحتمالا آنحضرت کی بعض بیویوں کی جُرأت اورجسارت کاسبب بن جاتا۔ بعد والی آ یت میں اجافہ کرتاہے : خدانے (ایسے معو قعوں کے لیے ) تمہاری قسمیں کے کھولنے کی راہ کوواضح کردیاہے (قَدْ فَرَضَ اللَّہُ لَکُمْ تَحِلَّةَ أَیْمانِکُمْ )(۱) ۔ اس کے بعد مزیدکہتاہے: خداتمہارامولا اورتمہارا محافظ ومددگار ہے ، اور وہ علیم و حکیم ہے (وَ اللَّہُ مَوْلاکُمْ وَ ہُوَ الْعَلیمُ الْحَکیمُ ) ۔ البتّہ اگرقسم کسِی ایسے امر کیے لیے ہوجس میں کسِی کام کاترک کرنابرتری رکھتا ہو تو پھر قسم پر عمل کرناچاہیے اِس کاتوڑنا گناہ ہے اوراس کاکفّار ہ ہے . لیکن اگروہ قسم کسِی ایسی چیز کے لیے ہو جس کاترک کرنامناسب نہ ہو ( زیرِ بحث آ یت کی مانند ) توپھر اس صورت میں اس کوتوڑ ناجائز ہے ، لیکن اِس قسم کے احترام کی حفاظت کے لیے بہتر ہے کہ کفّار ہ بھی دیاجائے ( ۲) ۔ اِسی لیے اس نے اس قسم کی قسموں سے نجات کی راہ تمہارے لیے ہموار کردی ہے اوراپنے علم و حکمت کے مطابق تمہارے لیے مشکل کشائی کی ہے ۔ روایات سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اِس آ یت کے نزول کے بعدا یک غلام آزادکیا ، اورجو کچھ اپنے اوپر قسم کی وجہ سے حرام کیا ہواتھا، اُسے حلال کرلیا۔ بعد والی آ یت میں اس واقعہ کے سلسلے میں مزید تشریح کرتے ہُوئے فر ماتاہے : اس وقت کو یاد کرو جب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ایک راز اپنی بیویوں میں سے بعض کوبتلایا ،لیکن اس نے راز داری نہ کی اوردوسری کو خبر دے دی ، خدانے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کواس افشائے راز سے آگاہ کیاتوپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ایک حصّہ تواس سے بیان کیا اورایک حصّہ بیان نہ کیا (وَ ِذْ أَسَرَّ النَّبِیُّ ِلی بَعْضِ أَزْواجِہِ حَدیثاً فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِہِ وَ أَظْہَرَہُ اللَّہُ عَلَیْہِ عَرَّفَ بَعْضَہُ وَ أَعْرَضَ عَنْ بَعْض) ۔ یہ راز کیاتھا جوپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں میں سے بعض کوبتلایاتھا اوراس نے راز داری نہ کی .مذکورہ شانِ نزول کے مُطابق یہ راز دومطالب پرمشتمِل تھا، ایک اپنی بیوی زینب بنت ِ حجش کے پاس شہد کا پینا اور دوسرا آئندہ کے لیے اس کے پینے کواپنے اوپرحرام کرلینا ، اِس آ یت میں بیوی سے مراد بی بی حفصہ تھی جو راز داری نہ کرسکی اوراس نے یہ بات سن کربی بی عائشہ سے بیان کردی ۔ پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آ وسلم) چونکہ وحی کے ذریعے اس افشائے راز سے آگاہ ہوچکے تھے ،لہٰذا ا پ نے اس کا ایک حصّہ بی بی حفصہ سے بیان کیا اوراِس بناء پر کہ وہ زیادہ شرمندہ ہو دوسرا حصّہ بیان نہ کیا.( ممکن ہے پہلا حصّہ اصل شہد کاپینا ہو ، اور دوسراحصّہ اسے اپنے اوپر حرام کرنا ہو) ۔ بہرحال جب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بی بی حفصہ کواس افشائے راز کی خبر دی تواس نے کہا: آپ کواس بات سے کِس نے آگاہ کیا (فَلَمَّا نَبَّأَہا بِہِ قالَتْ مَنْ أَنْبَأَکَ ہذا ) ۔ آپ نے فرمایا: علیم وخبیر خُدا نے مجھے اِس بات سے آگاہ کیاہے (قالَ نَبَّأَنِیَ الْعَلیمُ الْخَبیرُ ) ۔ اِس تمام آیت سے مجموعی طورپر معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی بیویوں میں سے بعض ، نہ صرف انہیں اپنی باتوں سے دُکھ پہنچاتی تھیں ، بلکہ راز داری کا مسئلہ جوایک باوفا بیوی کی اہم ترین خوبیوں میں ہے ، وہ بھی ان میں نہیں تھا ، ان تمام باتوں کے باوجود ، ان کے ساتھ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کاسلوک ایسا فراخد لانا تھاکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس تمام راز کوجواس نے فاش کیاتھا، اس کے سنہ پرکہنے کے لیے تیّار نہ ہُوئے اورصرف اس کے ایک حصّے کی طرف اشارہ کیا .اِسی لیے ایک حدیث میں امیرالمومنین علیہ السلام سے آیاہے : ما استقصی کریم قط ، لان اللہ یقول عرف بعضہ واعرض عن بعض ۔ شرف اور بڑے آدمی اپنے احقاقِ حق کے لیے آخر ی مرحلے تک آ گے نہیں جاتے کیونکہ خدا اس مقام پر پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے متعلق کہتاہے ، انہوں نے ایک حصّے کی خبردی اورایک حصّہ بیان نہ کیا (۳) ۔ اس کے بعد ان دوبیویوں کی طرف ،جواوپروالی سازش میں شریک تھیں ، رُوئے سُخن کرتے ہُوئے کہتاہے : اگرتم اپنے فعل سے توبہ کرلو اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کودُکھ دینے اورآزار پہُنچانے سے دستبر دار ہوجائو تویہ بات تمہار ے فائدہ میں ہے ، کیونکہ تمہارے دل اس عمل کی بناء پر حق سے مُنحرف اور گناہ سے آلودہ ہوچکے ہیں (انْ تَتُوبا ِلَی اللَّہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُما) ۔ ان د و بیویوں سے مراد بالا تفاق مفسّر ین شیعہ واہل سنّت بی بی حفصہ اور بی بی عائشہ ہین جو بالتّرتیب عمربن خطاب اور ابو بکر بن قحافہ کی بیٹیاں تھیں ۔ صفت (صفو)کے مادّہ سے (عفو کے وزن پر )کسِی چیز کی طرف متمائل ہونے کے معنی میں ہے .اسی لیے کہتے ہیں : صغت النجوم یعنی ستارے مغرب کی طرف متمائل ہُوئے اوراسی لیے اصفاء کسِی دوسرے کی بات کان دھر کے سننے کے معنی میں آ یاہے ۔ زیرِ بحث آ یت میں صغت قلوبکما سے مراد ان کے دلوں کاحق سے گناہ کی طرف انحراف تھا ( ۴) ۔ اِس کے بعد مزید کہتاہے : اگرتم دونوں نے اس ( پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے برخلاف اتّفاق کرلیاتو بھی تم کچھ نہ کرسکو گی .کیونکہ خدا اس کامولا و یاور و مدد گار ہے ، اسی طرح جبرئیل ، صالح مومنین اوران کے علاوہ تمام فرشتے اس کے پشتیبان ہیں (وَ اِنْ تَظاہَرا عَلَیْہِ فَِنَّ اللَّہَ ہُوَ مَوْلاہُ وَ جِبْریلُ وَ صالِحُ الْمُؤْمِنینَ وَ الْمَلائِکَةُ بَعْدَ ذلِکَ ظَہیر ) ۔ یہ تعبیر اس بات کی نشانہدکرتی ہے کہ اس ماجر ے نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پاک دِل اور عظیم رُوح میں کسِ حد تک منفی اثر چھوڑا تھا ، یہاں تک کہ خود خدا کوان کادفاع کرناپڑا ، باوُجود اس کے کہ اس قدرت ہر لحاظ سے کافی ہے . جبرئیل ،صالح المومنین اور دُوسرے فرشتوں کی حمایت کابھی اعلان کررہاہے ۔ قابل توجّہ بات یہ ہے کہ صحیح بخاری ، میں ابن عباس سے نقل ہُوا ہے کہ اُنہوں نے فرمایا:میں نے عمربن خطاب سے پوچھا: پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ بیویاں کون تھیں جنہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے خلاف کرلیاتھا ؟ انہون نے جواب دیا وہ حفصہ اورعائشہ تھیں .اس کے بعد مزید کہا: خدا کی قسم !ہم جاہلیّت کے زمانے میں عورتوں کے کسِی چیز کے قائل نہیں تھے . یہاں تک کہ خُدانے ان کے بارے میں آ یات نازل کردیں اوران کے لیے کچھ حقوق مقرر کردیئے (اوروہ جسور ہوگئیں ) (۵) ۔ تفسیر دُر لمنثور میں بھی اِن عباس سے ایک مفصّل حدیث میں ہے کہ عمربن خطّاب کہتے ہیں : اس ماجرے کے بعد مجھے معلُوم ہُوا کہ پیغمبر نے سب بیویوں سے کنارہ کشی کرلی ہے اورمُشربۂ ام ِ ابراہیم نامی مقام پر ٹھہر ے ہُوئے ہیں .میں آپ کی خدمت میںحاضر ہُوا اورعرض کیا: یارسول اللہ ! کیا اپ نے اپنی بیویوں کوطلاق دے دی ہے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں ! میں نے عرض کیا : اللہ کا اکبر! ہم جمعیت قریش ہمیشہ اپنی بیویوں پرمُسلّط رہتے تھے ،لیکن جب سے ہم مدینہ میں آ ئے ہیں توہم نے کچھ لوگوں کودیکھا کہ ان کی عورتیں ان پر مُسلّط ہیں اورہماری عورتوں نے بھی اُن سے یہ چیز سیکھ لی ہے .ایک دن میں نے دیکھاکہ میری بیوی مُجھ سے جھگڑرہی ہے تومیں نے اس عمل کوعجیب اور بُرا سمجھا.اس نے کہا کہ تجھے تعجّب کیوں ہو رہاہے ؟ خدا کی قسم ! پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی بیویاں بھی اُن کے ساتھ ایسا ہی کرتی ہیں .یہاں تک بعض اوقات ان سے زیاد تی کرتی ہیں .تب میں نے اپنی بیٹی حفصہ کونصیحت کی کہ وہ ایسانہ کرے اور میں نے اس سے کہاکہ اگر تیری ہمسائی ( مراد بی بی عائشہ ہے ) ایساکرے ،تو بھی تُو ایسانہ کرنا ، کیونکہ اس کے حالات تجھ سے مختلف ہیں (۶) ۔ صالح المومنین کے بارے میں بھی ایک بحث ہے جوانشاء اللہ نکات کے بیان میں آ ئے گی ۔ آخری زیر بحث آیت میں خدا تمام ازواجِ پیغمبر کی طرف روئے سخن کرتے ہُوئے تہدید آمیز لب ولہجہ میں فر ماتاہے : اگروہ تمہیں طلاق دے دے تواُمید ہے کہ پروردگار تمہاری جگہ اس کے لیے تم سے اچھی بیویاں قرار دے ، ایسی بیویاں جومُسلمان ،مومن ،متواضع ، توبہ کرنے والیاں ، عبادت گزار ، خداکی اطاعت شعار ، غیر باکرہ اور باکرہ عورتیں ہوں گی (عَسی رَبُّہُ ِنْ طَلَّقَکُنَّ أَنْ یُبْدِلَہُ أَزْواجاً خَیْراً مِنْکُنَّ مُسْلِماتٍ مُؤْمِناتٍ قانِتاتٍ تائِباتٍ عابِداتٍ سائِحاتٍ ثَیِّباتٍ وَ أَبْکاراً ) ۔ اِس طر ح انہیں خبردار کرتاہے کہ تم یہ خیال نہ کرنا کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)تمہیں ہرگز طلاق نہیں دے گا، اوریہ بھی تصوّر نہ کرنا کہ اگروہ تمہیں طلاق دے دے توتمہاری جگہ آنے والی بیویاں تم سے بہتر نہیں ہوں گی ، لہٰذا تم سازش جھگڑے اور آزاد وازیّت سے باز آ جائو ورنہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجیت کے اعزاز وافتخار سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجائو گی اور تم سے بہتر اور بافضیلت عورتیں تمہاری جگہ لے لیں گی ۔ ۱۔ راغب "" مفردات "" میں کہتا ہے : "" جہاں کہیں "" فرض "" علیٰ کے ساتھ ہووہاں "" وجوب"" کے معنی دیتاہے اورجہاں لام کے ساتھ ہو ، وہاں عدم ممنُوعیّت کے معنی میں ہے .اس بناء پر زیر بحث آ یت میں "" فرض "" وجوب کے معنی میں نہیں بلکہ اجازت کے معنی میں ہے . اس بناء پر زیر بحث آ یت میں "" فرض "" وجوب کے معنی میں نہیں بلکہ اجازت کے معنی میں ہے "" تحلة "" ( باب تفعیل کا مصدر ہے ) حلال کرنے کے معنی میں ہے یادوسرے لفظوں میں ایسا کام جوقسم کی گرہ کو کھول دے یعنی کفّارہ ۔ ۲۔ جیساکہ تفسیر نمُونہ جلد ٥،سورہ مائدہ کی آ یت ٨٩ کی تفسیر سے معلوم ہوتاہے . قسم کاکفّارہ دس مسکینوں کوکھانا کھلانا . یادس افراد کو لباس پہنا نا یا ایک غلام کوآزاد کرناہے .جوان میں سے کوئی کام نہ کرسکتا ہو وہ تین روزے رکھّے ۔ ۳۔المیزان ،جلد١٩ ،صفحہ ٣٩٢۔ ۴۔اس تفسیر کے مُطابق جوہم نے اوپر بیان کی اورجسے بہُت سے مفسّرین نے اختیارکیاہے ، اس آ یت میں کچھ محوزوف ہے،اورتقدیرمیں اس طرح تھی : ان تتو با الی اللہ کانت خیرلکما ( یا اسی معنی کے مشابہ کوئی اوردوسری تقدیر )لیکن بعض نے یہ احتمال دیاہے . کہ شاید آیت میں کوئی محذوف نہ ہو اورصغت قلوبکما کاجملہ شر ط کی جز اء ہوں (اس قید کے ساتھ کامفہوم حق کی طرف تمائل ہوناکہ باطل کی طرف )کاذکر جمع کے صیغہ کے ساتھ نہ تثنیہ کے صیغہ کے ساتھ اس بناء پر ہُوا ہے کہ دوتثنیوں کا ایک ساتھ ہونافصاحت کے لحاظ سے نامناسبت اور نا پسند یدہ ہے .اِس لیے جمع کی صورت میں ذکرہُوا اوراس کامعنی تثنیہ ہے ۔ ۵۔صحیح بخاری جلد ٢ ،صفحہ ١٩٥ (سورہ تحریم کے ذیل میں ) ۔ ۶۔ درّالمنثور ،جلد ٦،صفحہ ٢٤٣(تلخیص کے ساتھ ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 66:1-5
١اچھی بیوی کے اوصاف
یہاں قرآن نے ایک اچھّی بیوی کے لیے چھو صفات بیان کی ہیں تاکہ وہ سب مسلمانوں کے لیے بیوی کا انتخاب کرتے وقت نمُونہ بن سکیں ۔ پہلی صفت اسلام ہے اوراس کے بعد ایمان ہے . یعنی ایسا اعتقاد جوانسان کے دل کی گہر ائیوں میں نفوذ کر جائے .اس کے بعد قنوت یعنی تواضع ، انکساری اور شوہر کی اطاعت ہے .اس کے بعد توبہ یعنی اگراس سے کوئی غلط کام سرزد ہوجائے تووہ عُذ رخواہی کرے اوراپنی غلطی پراصرار نہ کرے .اس کے بعد خدا کی عبادت اورایسی عبادت جواس کے روح وجان کو سنوار دے ، اوراسے پاک وپاکیزہ بنادے ، اس کے بعد فر مانِ خداکی اطاعت اور ہرقسم کے گناہ سے پرہیزکا ذکر ہُوا ہے ۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ بہُت سے مفسّرین نے سائحات ،جمع ، سائح ، کی تفسیر صائم ( روزہ دار ) کے معنٰی میں کی ہے لیکن جیساکہ راغب نے مفرادت میں کہا ، روزہ دوقسم کاہوتاہے حقیقی روزہ جوکھانے پینے اور تعلّق جنسی کوترک کرنے کے معنی میں ہے .دوسرا حکمی روزہ ُُ جس کامعنی بدن کے اعضاء وجوارح کوگناہوں سے بچانا ہے یہاں اس کادوسرا معنی مُراد ہے ۔ (راغب کایہ قول مقام کی منا سبت کی طرف توجّہ کرتے ہُوئے بہُت ہی عمدہ معلوم ہوتاہے لیکن جاننا چاہیے کہ مفسّرین نے سائح کی تفسیر اس شخص کے لیے بھی کی ہے جوخدا کی اطاعت کی راہ میں سیرکرتاہے ) ( ۱) ۔ یہ بات بھی قابلِ توجّہ ہے کہ قرآن نے عورت کے باکرہ اورغیر باکرہ ہونے پر تکیہ نہیں کیا اوراس کوکوئی اہمیّت نہیں دی ہے . کیونکہ مذکورہ معنوی اوصاف کے مُقابلہ میں اس مسئلہ کی کچھ زیادہ اہمیّت نہیں ہے ) ۔ ۱۔ "" سائع"" سیاحت کے مادہ سے اصل میں ان جہانگر وسیاحوں کوکہتے ہیں جوبغیر توشہ وزادِ راہ کے چل پڑتے اور لوگوں کی مدد سے زندگی بسر کرتے تھے . چونکہ روزہ دار اپنے آپ کوکھانے سے روکتاہے یہاں تک کہ افطار کاوقت آ جائے ، اس لحاظ سے یہ بات سیاحت کرنے والوں کے مشابہ ہے لہٰذا ااس لفظ کا اطلاق ضائم ،یعنی روزہ دار پر ہوا ہے ۔
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 66:1-7
Truth spoken before time may be not only hurtful but even unlawful, except under Divien Text.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 66:5
[Pooya/Ali Commentary 66:5] (see commentary for verse 1)