يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ تُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ تَوۡبَةٗ نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَيُدۡخِلَكُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ يَوۡمَ لَا يُخۡزِي ٱللَّهُ ٱلنَّبِيَّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥۖ نُورُهُمۡ يَسۡعَىٰ بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَبِأَيۡمَٰنِهِمۡ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَتۡمِمۡ لَنَا نُورَنَا وَٱغۡفِرۡ لَنَآۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
O you who have faith! Repent to Allah with sincere repentance! Maybe your Lord will absolve you of your misdeeds and admit you into gardens with streams running in them, on the day when Allah will not let down the Prophet and the faithful who are with him. Their light will move swiftly before them and on their right. They will say, ‘Our Lord! Perfect our light for us, and forgive us! Indeed You have power over all things.’
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 66:6-8
سوره تحریم/ آیه 6- 8
٦۔ یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَکُمْ وَ أَہْلیکُمْ ناراً وَقُودُہَا النَّاسُ وَ الْحِجارَةُ عَلَیْہا مَلائِکَة غِلاظ شِداد لا یَعْصُونَ اللَّہَ ما أَمَرَہُمْ وَ یَفْعَلُونَ ما یُؤْمَرُونَ ۔ ٧۔ یا أَیُّہَا الَّذینَ کَفَرُوا لا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ ِنَّما تُجْزَوْنَ ما کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۔ ٨۔ یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا ِلَی اللَّہِ تَوْبَةً نَصُوحاً عَسی رَبُّکُمْ أَنْ یُکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ وَ یُدْخِلَکُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ یَوْمَ لا یُخْزِی اللَّہُ النَّبِیَّ وَ الَّذینَ آمَنُوا مَعَہُ نُورُہُمْ یَسْعی بَیْنَ أَیْدیہِمْ وَ بِأَیْمانِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنا أَتْمِمْ لَنا نُورَنا وَ اغْفِرْ لَنا ِنَّکَ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیر ۔ ترجمہ ٦۔اے ایمان لانے والو!اپنے آپ کواوراپنے گھر والوں کواس آگ سے بچائوجس کا ایندھن انسان اورپتّھرہوں گے . وہ آگ جس پرایسے فرشتے مقرر ہیں جوبہت ہی سخت گیر اورتند وتیز ہیں . وہ کبھی بھی خداکی مخالفت نہیں کرتے اوراس کے احکام وفرامین کوپوری پوری تعمیل کرتے اے کافرو ! آ ج عذ رخواہی نہ کرو ،کیونکہ تمہیں توصرف تمہار ے اعمال کاہی بدلہ دیاجائے گا ۔ ۷۔اے کافروں! آج عذر خواہی نہ کرو، کیونکہ تمہیں توصرف تمہارے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا ۔ ۸۔اے ا یمان لانے والو ! توبہ کرو .اللہ کے حضور خالص توبہ . امید ہے کہ تمہارا پروردگار اس کی وجہ سے تمہارے گناہ بخش دے گا، اورتمہیں جنّت کے ان باغات میں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں داخل کرے گا ، خدا اس دن پیغمبر(ص) کو اوران کے ساتھ ایمان لانے والوں کوذلیل وخوار نہیں کرے گا. ان کانور ان کے آگے آگے اوران کے دائیں جانب چل رہاہوگا اوروہ کہہ رہے ہوں گے : پر وردگارا !ہمارے نور کوکامل کردے اورہمیں بخش دے بیشک توہر چیز پر قدرت رکھتاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 66:6-8
اپنے گھروالوں کوجہنم کی آگ سے بچائو
خداپیغمبر کی بعض بیویوں کوخبر دار کرنے اور انہیں سرزنش کرنے کے بعد زیربحث آ یات میں رُوئے سُخن تمام مومنین کی طرف کرتے ہُوئے بیوی ، اولاد اور گھر والوں کی تعلیم وتربیّت کے بارے میں کچھ احکام دیتا ہے . پہلے فرماتا ہے : اے ایمان لانے والو!اپنے آپ کواور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچائو کہ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَکُمْ وَ أَہْلیکُمْ ناراً وَقُودُہَا النَّاسُ وَ الْحِجارَةُ) ۔ خود کوبچا ناتوگنا ہوں کوترک کرنے اور سرکش خواہشات کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کرنے کے ساتھ ہے ، اورگھروالوں کوبچانا تعلیم وتربیّت اورامر مالمعروف ونہی از منکر کرنا نیز گھر اور گھر انے کی فضا میں ایک پاک اورہرقسم کی آلود گی سے مبّراماحول فراہم کرناہے ۔ یہ وہ طریقہ ٔ کار ہے جوگھر انے کے سنگِ بنیاد ،یعنی ازدواج ِ کے مقدّمات سے اوراس کے بعد بچّے کی پیدائش کے پہلے لمحہ سے شرُوع ہوناچاہیے .ان تمام مراحل میں صحیح لائحہ عمل ترتیب دے کر پُورے انہماک سے اس پر عمل کرنا چاہیے ۔ دُوسرے لفظوں میں بیوی اوراولاد کاحق صرف ان کی ضرور یاتِ زندگی ، مکان اورکھانے پینے کی چیزوں کے فراہم کرنے سے پورا نہیں ہوجاتا.ان سے زیادہ اہم ان کی رُوح اورجان کی غذ اکامُہیّا کرنا اورصحیح اصولِ تعلیم وتربیّت کو عمل میں لا ناہے ۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ قوا ( بچائو )کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگرتم انہیں خود ان کی اپنی حالت پرچھوڑ دو گے تووہ خواہ نخواہ جہنّم کی آگ کی طرف بڑھیں گے ،صرف تمہیں ان کوجہنّم کی آگ میں گر نے سے بچا سکتے ہو ۔ وقود (بروزن کبود)جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں،آتشگیر یعنی ایسے مادہ کے معنی میں ہے ، جو آگ پکڑ نے کے قابل ہو.مثلا ایندھن (آگ لگانے والے مثلاً دیا سلائی کے معنی میں نہیں ہے ) کیونکہ عرب اُسے زناد (چقماق ) کہتے ہیں ۔ اِس لحاظ سے جہنّم کی آگ ونیاوی آگ کی مانند نہیں ہے .اس کے شعلے خود انسان کے وجُود کے ذریعے سے ہی بلند ہوتے ہیں ، (اورپتھر وں کے اندر سے بھی ) نہ صرف گندھگ کے پتّھر سے جس کی طرف بعض مفسرین نے اشارہ کیاہے ، بلکہ ہرقسم کے پتھر سے ، کیونکہ آ یت کالفظ مطلق ہے . موجود ہ زمانے میں ہم جانتے ہیں کہ پتھر کا ہرٹکڑا ایٹم کے اربوں ذرّات سے مُرکّب ہے اوراگران کے اندر موجود ذخیرہ آزاد ہوجائے توایسی آگ پیداکر دے کہ انسان دنگ رہ جائے ۔ بعض مفسّرین نے یہاں حجارة کی تفسیر بتوں کے ساتھ کی ہے جوپتھر سے بنائے جائے تھے اورمشرکین انہیں پوجاکرتے تھے ۔ اس کے بعد مزیدکہتاہے :اِ س آگ پرایسے فرشتے مقرر کیے گئے ہیں جو بہُت ہی سخت اورتند وتیز ہیں . وہ ہر گزخُدا کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے . وہ انہیں جوبھی حکم دیتاہے ، اس کی بے چوں وچرا تعمیل کرتے ہیں (عَلَیْہا مَلائِکَة غِلاظ شِداد لا یَعْصُونَ اللَّہَ ما أَمَرَہُمْ وَ یَفْعَلُونَ ما یُؤْمَرُون) ۔ اِس طرح نہ تو بھاگنے کی ہی کوئی راہ ہے اور نہ ہی گریہ وزاری ، التماس والتجا اور جزع وفزع ہی موثر ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ ہرمامور جس بھی کا م پر مقرّر ہوتاوہ اس کے لحاظ سے مُناسب جذ بات رکھتا ہے .لہٰذا عذاب ، پرمامورافراد کوطبعی پرسخت اورتند وتیز ہوناچاہیے .کیونکہ جہنّم رحمت کامرکز نہیں ہے بلکہ خدا کے غیظ وعضب کامرکز ہے لیکن اس کے باوجود وہ مامورین ہرگز عدالت کی سرحد سے خارج نہیں ہوں گے اورحکمِ خداکو بے کم وکاست جاری کر یں گے ۔ یہاں مفسّرین کی ایک جماعت نے ایک سوال پیش کیاہے کہ اوپر والی آ یت میں عدم عصیاں کی تعبیر قیامت میں عدم وجود تکلیف کے مسئلہ کے ساتھ کسِ طرح سازگار ہے ؟ لیکن اس بات پرتوجّہ رکھنی چاہیے کہ فرشتوں کی اطاعت اور ترکِ عصیاں ایک قسم کی تکوینی اطاعت ہے نہ کہ تشریعی اوراطاعتِ تکوینی موجود رہتی ہے .دُوسرے لفظوں میں وہ اس طرح بنائے گئے ہیں کہ خدائی فرامین کا انتہائی میل ورغبت اورخاص لگائو کے ساتھ عین اختیار کے اجراء کرتے ہیں ۔ بعد و الی آ یت میں کُفّار کومخاطب کرکے اس دن کی وضع وکیفیت بیان کرتے ہُوئے فرماتاہے : اے کافرو ں آج عُذر ومعذ رت نہ کرو ،کیونکہ تمہیں توصرف تمہارے اعمال ہی کی جزادی جائے گی (یا أَیُّہَا الَّذینَ کَفَرُوا لا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ ِنَّما تُجْزَوْنَ ما کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ) ۔ اِس آیت کاگزشتہ آیت کے بعد قرار پانا کہ جس میں مخاطب مومنین تھے ، اس واقعیّت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر تم اپنی بیوی اولاد اور گھر والوں کی حالت کاخیال نہ کھوگے تو ممکن ہے تمہارا مُعاملہ حد تک پہنچ جائے کہ قیامت کے دن اس خطاب سے مُخاطب کیے جائو ۔ ِنَّما تُجْزَوْنَ ما کُنْتُمْ تَعْمَلُون کی تعبیر دوبارہ کی تائید کرتی ہے کہ قیامت میں گنہگاروں کی جزاء خودانہیں کے اعمال ہیں جوان کے سامنے ظاہر ہوں گے اوران کے ساتھ ہوں گے .گزشتہ آیت کی تعبیر کہ جہنم کی آگ خود انسان کے اند رسے شعلہ زن ہوگی وہ اسی معنی کی تائید کرتی ہے ۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجّہ ہے کہ وہاں عذر ومعذرت کاقبول نہ ہونا اس بناء پر ہے کہ عذر خواہی ایک قسم کی توبہ ہے اور توبہ صرف اس جہان میںہی امکان پذ یر ہے ، نہ کہ دوسرے جہاں میں اور نہ ہی جہنّم میں ورُود کے بعد توبہ کی کوئی گنجائش ہے ۔ بعد والی آ یت حقیقت میں جہنّم کی آگ سے نجات کاراستہ بتاتی ہے ، ارشاد ہوتاہے : اے ایمان لانے والو ! اللہ کی طرف لوٹ آ ئو اور توبہ کرلو ،خالص توبہ (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا ِلَی اللَّہِ تَوْبَةً نَصُوحاً) ۔ ہاں ! نجات کے لیے پہلا قدم گناہ سے توبہ ہے ، ایسی توبہ جوہرلحاظ سے خالص ہو، ایسی توبہ جس کا مُحرّ ک حکم خدا اور خوفِ گناہ ہو ، نہ کہ گناہ کے اجتماعی اور دنیاوی آثار سے وحشت ! ایسی توبہ جوانسان کوہمیشہ کے لیے معصیّت اورنافرمانی سے دور کردے اور پھر اس میںگناہ کی طرف بازگشت رونمانہ ہو ۔ ہم جانتے ہیں کہ توبہ کی حقیقت وہی گناہ ہے ندامت وپشیمانی ہے .اس کالازمہ یہ ہے کہ وہ آئندہ کے لیے گناہ نہ کرنے کاپختہ ارادہ کرلے ، اگروہ کوئی ایسا کام تھا جس کی تلافی ہوسکتی ہے تواس کی تلافی کی کوشش کرے . استغفار کرنابھی اسی معنی کوظاہر کرتاہے .اوراس طرح سے توبہ کے ارکان کاپانچ باتوں میں خلاصہ کیاجاسکتاہے : ١: ترکِ گناہ ٢:ندامت ٣: آئند ہ گناہ نہ کرنے کاپختہ ارادہ ٤: گزشتہ گناہوں کی تلافی ٥: استغفار نصوح نصح ( بروزن صلح ) کے مادّہ سے اصل میں خالص خیر خواہی کے معنی میں ہے .اسی لیے خالص شہد کو ناصح کہاجاتاہے .چونکہ حقیقی وواقعی خیر خواہی کومضبوطی کے ساتھ توأم ہوناچاہیئے ،لہذا نصح کالفظ بعض اوقات اس معنی کے لیے بھی آتاہے ۔ اسی بناء پر محکم عمارت کو نصاح (بروزن کتاب) اور دوزی کوناصح کہاجاتاہے .اِس طرح یہ دونوں معنی یعنی خالص ہونا، اورمحکم ہونا، توبہ نصوح میں جمع ہونے چاہئیں( ١) ۔ اس بارے میں کہ توبۂ نصُوح کیا ہوتی ہے ، مفسّرین نے ہبت زیادہ تفاسیر بیان کی ہیں ، یہاں تک کہ بعض نے ان تفاسیر کی تعداد ٢٣ بتائی ہے (٢) لیکن وہ سب تفاسیر ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹتی ہیں یاوہ توبہ کی مختلف قسمیں اور مختلف اوصاف وصفات ہیں ۔ منجملہ ان کے یہ ہے توبۂ نصوح وہ ہوتی ہے جس میں چار اوصاف وشرائط ہوں ۔ ١: قلبی پشیمانی ٢: زبانی استغفار ٣: ترک ِ گناہ ٤: آئندہ کے لیے ترک گناہ کا پختہ ارادہ بعض نے کہاہے کہ توبۂ نصُوح وہ ہوتی ہے جس میں تین اوصاف وشرائط ہوں : ١: اس بات کا خوف کہ شاید قبول نہ ہو ۔ ٢: اس بات کی اُمید کہ قبول ہوجائے گی ۔ ٣: خداکی اطاعت پر قائم رہنا ۔ یاتوبۂ نصُوح یہ ہے کہ اپنے گناہ کوہمیشہ اپنی نظر کے سامنے رکھے اوراِس سے شرمندہ ہوتارہے ۔ یاتوبۂ نصُوح یہ ہے کہ جوچیزیں ظلم کے ساتھ لی ہیں وہ ان کے مالکوں کوواپس کردے ، مظلوموں سے حلیت طلب کرے اورخدا کی اطاعت کاپابند رہے ۔ یاتوبۂ نصوح وہ ہوتی ہے جس میں یہ تین شرطیں ہوں : ١: کم بولنا ۔ ٢: کم کھان ۔ ٣: کم سونا۔ یا توبۂ نصوح وہ ہوتی ہے جو رونے والی آنکھ اور گناہ سے بیزار دل سے توائم ہو ... اور دیگراسی قسم کے امُور جوسب ایک ہی واقعیّت کے شاخ وبرگ ہیں اور یہ خاص وکامل توبہ ہے ۔ ایک حدیث میں پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آ یاہے کہ جب معاذبن جبل نے توبۂ نصُوح کے بارے میں سوال کیاتوآپ نے جواب میں فر مایا: ان یتوب التائب ثم لایرجع فی ذنب کمالا یعود اللبن الی الضرع۔ توبہ ی نصُوح یہ ہے کہ توبہ کرنے والا شخص پھرکسِی طرح بھی گناہ کی طرف نہ لوٹے ، جیساکہ دُو دھ کبھی پستان کی طرف نہیں لوٹتا ( ٣) ۔ یہ لطفِ تعبیر اس واقعیت کوبیان کرتی ہے کہ توبہ ٔ نصُوح کے اعلیٰ ترین درجہ کوبیان کرتاہے ، اور نہ نچلے مراحل میں تویہ ممکن ہے کہ گناہ کی طرف بازگشت ہوجائے اور توبہ کی تکرار کے بعدانجام کاردائمی ترک پر جا منتہی ہو ۔ اس کے بعد توبہ نصوح کے آثار کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتاہے : امید ہے کہ اس کام کی وجہ سے تمہارا پروردگار تمہارے گناہوں کوبخش دے اوران کی پر دہ پوشی کرے (عَسی رَبُّکُمْ أَنْ یُکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُم) ۔ اور تمہیں اس جنّت کے باغات میں داخل کرے جِن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں (وَ یُدْخِلَکُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ) ۔ یہ کام اس دن ہوگا جس دن خدا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اوران لوگوں کوجواس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ذلیل وخوار نہیں کرے گا (یَوْمَ لا یُخْزِی اللَّہُ النَّبِیَّ وَ الَّذینَ آمَنُوا مَعَہُ) ۔ یہ اس حال میں ہوگاکہ ان کا(ایمان اورعمل صالح ) نوران کے آگے آگے اوران کی دائیں جانب چل رہا ہوگا، و ہ عرصۂ محشر کوروشن کردے گا اور بہشت کی طرف ان کی راہ کھول دے گا (نُورُہُمْ یَسْعی بَیْنَ أَیْدیہِمْ وَ بِأَیْمانِہِمْ) ۔ یہ وہ منزل ہے کہ جہاں وہ خدا کی بارگاہ کی طرف رُخ کرکے کہیں گے : پروردگارا! ہمارے نور کومکمل کردے اور ہمیں بخش دے کیونکہ توہرکام پرقدرت رکھتاہے (یَقُولُونَ رَبَّنا أَتْمِمْ لَنا نُورَنا وَ اغْفِرْ لَنا ِنَّکَ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیر ) ۔ حقیقت میں اس توبۂ نصُوح کے پانچ عظیم ثمر ہیں ۔ پہلا: سیئات اور گناہوں کی بخشش۔ دوسرا : خداکی نعمتوں والی جنت میں داخلہ ۔ تیسرا : اس دن رُسوائی اورذلّت کانہ ہونا جس دن سب پردے ہٹ جائیں گے اور جھوٹے تباہ ورُسوا اور ذلیل ہوجائیں گے .ہاں !اس دن پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین آبُرو مند ہوںگے کیونکہ جوکچھ اُنہوں نے کہاتھا، وہ حقیقت بن جائے گا ۔ چھوتھا:اُن کے ایمان او ر عمل کانور ان کے آگے آگے اوران کی دائیں جانب چلے گا اور جنّت کی طرف ان کی راہ کوروشن کردے گا( بعض مفسّرین نے اس نور کوجوان کے آگے آگے پہلے چلے گا عمل کانُور سمجھاہے .اس سلسلہ میں ہم ایک دوسری تفسیر بھی تفسیر نمُونہ کی جلد ٢٢ میں سورہ حدید کی آ یت ١٢ کے ذیل میں پیش کرچکے ہیں ) ۔ پانچواں : ان کی توجّہ خداکی طرف زیادہ ہوجائے گی .لہٰذاوہ بارگاہِ خدا کی طرف رُخ کرکے اس سے نور کی تکمیل اوراپنے گناہوں کی مکّمل بخشش کاتقاضا کریں گے ۔ ١۔ بعض کاخیال یہ ہے کہ ""نصوح "" ایک خاص شخص کانام ہے اوراس سلسلہ میں انہوں نے ایک مفصّل داستان تو بہ ٔ نصوح کے عنوان سے نقل کی ہے لیکن اس بات کی طرف توجّہ رکھنی چاہیئے کہ نصُوح کسِی کانام نہیں ہے بلکہ ایک وضعی معنی ہے ، اگرچہ ممکن ہے کہ یہ مشہور واقعہ صحیح ہو۔ ٢۔ تفسیر قرطبی ، جلد ١٠،صفحہ ٦٧٦٦۔ ٣۔ مجمع البیان، جلد ١٠ ،صفحہ ٣١٨۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 66:6-8
١اھل خانہ کی تعلیم و تربیت
امر بالمعروف ونہی عن المنکر کاحُکم ایک عام حکم ہے جوتمام مُسلمان ایک دُوسرے کے لیے لیے رکھتے ہیںلیکن اوپروالی آیات اوران روایات سے جواسلامی مصادر میں اولاد وغیرہ کے حقوق کے بارے میں وارد ہُو ئی ہیں ، اچھی طرح معلوم ہوجاتاہے کہ انسان اپنی بیوی اوراولاد کے لیے بہت ہی بھاری ذمّہ دار ی رکھتاہے .اس کی ذمّہ داری یہ ہے کہ جہاں تک اس سے ہوسکے ان کی تعلیم وتربیّت میں کوشش کرے ، انہیں گناہ سے با ز رکھے اور نیکیوں کی طرف دعوت دے ، نہ یہ کہ صرف ان کے جسم کے لیے غذا وغیرہ مہیّا کرنے پر قناعت کرے ۔ حقیقت میں ایک عظیم مُعاشرہ چھوٹی چھوٹی اکائیوں سے مل کر بنتا ہے ،جس کا نام خاندان (گھرنا )ہے . جب ان چھوٹی چھوٹی اکائیوں کی اصلاح ہوجائے ، جن کی دیکھ بھال آسان ہے ، تو پھر سارے معاشرے کی اصلاح ہوجاتی ہے اور یہ ذمہ داری پہلے درجہ میں ماں باپ کے کاندھوں پر ہے ۔ خصوصاً ہمارے زمانہ میں جب کہ فساد کی تباہ کرنے والی موجیں گھروں کے باہر بہت ہی قوی اور خطرناکہ ہیں ، انہیں بے اثر کرنے کے لیے گھر ا نے کی تعلیم وتربیّت کازیادہ بنیادی اور زیادہ دقیق لائحہ ٔ عمل مُرتّب کیاجانا چاہیے ۔ نہ صرف قیامت کی آگ بلکہ دنیا کی آگ کاسرچشمہ بھی انسانوں کے وجُود کے اندر سے پید ا ہوتاہے .پس ہرشخص کی ذمّہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر انے کواس آگ سے محفوظ رکھے ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب یہ آ یت نازل ہُوئی تواصحاب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں سے ایک نے آپ سے سوال کیا: ہم اپنے گھروالوں کودوزخ کی آگ سے کسِی طرح محفوظرکھیں ؟آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: تأ مرھم بما امراللہ ، وتنھاھم عما نھاھم اللہ ان اطاعوک کنت قد وقیتھم، وان عصوک کنت قد قضیت ما علیک ۔ انہیں امر بالمعروف اور نہی از منکر کر ، اگر تجھ سے انہوں نے قبول کر لیا تو پھر تونے انہیں جہنّم کی آگ سے بچا لیا، اگرانہوں نے قبول نہ کیا تو تُونے اپنا وظیفہ اور ذمّہ داری پوری کردی (۱) ۔ ایک اور جامع اورعمد ہ حدیث میں رسُول ِ خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے آیاہے : الا کلکم راع ، وکلکم مسئول عن ر عیتہ ، فالا میرعلی الناس راع ، وھو مسئول عن رعیتہ ، والرجل راع علی اھل بیتہ وھو مسئول عنھم فالمر ئة راعیة علی اھل بیت بعلھا وولدہ وھی مسئولة عنھُم ، الا فکلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ ۔ یاد رکھو کہ تم سب کے سب نگہبان ہو، اور تم سب ہی جوابد ِ ہ ہو ان لوگوں کے لیے جن کی نگہبانی پرتم مومار ہو .حکومت اسلامی کارئیس وامیر تمام لوگوں کانگہبان ہے . لہٰذاوہ ان سب کے لیے جوابد ِہ ہے اورعورت بھی اپنے شوہر کے گھرانے اور اولاد کی نگہبان ہے اوران کے بارے میں جوابد ِ ہ، ان لوگوں کے لیے جن کی نگہبانی پر تم مامور ہو( ۲) ۔ ہم اس وسیع بحث کوامیر المؤ منین علی علیہ السلام کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں ، امام علیہ السلام نے اوپر والی آ یت کی تفسیر میں فرمایا: علموا انفسکم واھلیکم الخیرواد بوھم ۔ اس سے مُراد یہ ہے کہ تم خود کواوراپنے گھروالوں کونیکی کی تعلیم دو ، اور انہیں آداب سکھائو ( ۳) ۔ ۱۔نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ٣٧٢۔ ۲۔"" مجموعہ ورام "" جلداول ،صفحہ ٦۔ ۳۔دارلمنثور ،جلد ٦،صفحہ ٢٤٤۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 66:6-8
٢توبہ رحمتِ خدا کا ایک دروازہ ہے
اکثر ایساہوتاہے کہ انسان سے ، خصوصاً تربیّت اورسیر وسلوک الی اللہ کی ابتداء میں ، بہت سی لغزشیں ہوجاتی ہیں ، اب اگراس کے سامنے توبہ اور بازگشت کے دروازے بندکردیئے جائیں تووہ مایوس ہوجائے گا اورہمیشہ کے لیے سیدھے راستے سے بھٹک جائے گا اس لیے اسلام کے مکتب ِ تر بیّتی میں توبہ کو ایک تر بیّتی اصل کے عنوان کے طورپر حد سے زیادہ اہمیّت کے ساتھ پیش کیاگیاہے اوروہ تمام گنہگا روں کودعوت دیتاہے کہ اپنی اصلاح اور گزشتہ کوتا ہیوں کی تلافی کے لیے اس در وازے سے وارد ہوں ۔ امام علی علیہ السلام بن الحسین بارگاہِ خدا وندای میں تا ئبین کی مناجات میں اِس طرح سے عرض کرتے ہیں : الھٰیانت الذی فتحت لعبادک باباً الیٰ عفوک سمیتہ التوبة ، فقلت توبو الی اللہ توبة نصوحاً ،فما عذر من اغفل دخول الباب بعد فتحہ ۔ اے میرے اللہ توہی توہے کہ جس نے اپنی عفوو بخشش کی طرف اپنے بندوں کے سامنے ایک دروازہ کھولاہے کہ جس کانام تونے توبہ رکھاہے .تونے فرمایاہے کہ خداکی طرف لوٹو ، اور توبہ کرلو ، خالص توبہ ، اب ان لوگوں کاعذر کیاہے جوان دروازہ کے کُھلنے کے بعداس دروازے سے داخل ہونے سے غافل ہوجائیں (۱) ۔ ایک حدیث میں امام باقرعلیہ السلام سے آ یاہے : ان اللہ تعالیٰ اشد فرحاً بتوبة عبدہ من رجل اضل راحلتہ وز ادہ فی لیلة ظلماء ، فوجدھا۔ خدا وندتعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتاہے جتنا کہ وہ شخص خوش ہوتاہے جس نے ایک رات میں اپنی سواری اور زادِگُم کردیاہو ، اورپھر اسے پا لیاہو ( ۲) ۔ عظمت اوربزر گوار ی رکھنے والی یہ سب تعبیریں زندگی کے اس اہم امر کی حیاتی تشویق کے لیے ہیں ۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ رکھنا چاہیئے کہ توبہ صرف لقلقہ ٔ لسّانی اور زبان سے استغفراللہ کہنے کانا م نہیں ہے بلکہ اس کی کچھ شرائط اور ارکان ہیں کہ جن کی طرف اوپروالی آ یات میں توبۂ نصُوح کی تفسیر میں اشارہ ہُو ا ہے .جب توبہ ان شرائط کے ساتھ انجام پاتی ہے توہو اس طرح اثر کرتی ہے .کہ وہ انسان کی رُوح اورجان سے گناہ اور آثاراِگناہ کو کلّی طورپر محو کردیتی ہے ، اسی لیے ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے آ یاہے : التائب من الذنب کمن لاذنب لہ، والمقیم علی الذنب وھو مستغر منہ کا لمستھز ء ا ۔ جوشخص گناہ سے توبہ کرلے وہ اس شخص کی مانند ہے جِس نے بالکل کوئی گناہ نہیں کیا، جو شخص اپنے گناہ پر بر قرار رہے اوراستغفار بھی کرتا رہے ، تووہ اس شخص کی مانند ہے جومذاق اُٹاتا اورتمسخر کرتاہو (3) ۔ ہم توبہ کے بارے میں دُوسرے تفصیلی مباحث ( تیسری جلدمیں)سورة نساء کی آ یت ١٧ کے ذیل میں اور (جلد ١٩ میں ) سورة زمر کی آ یت ٥٣ کے ذیل میں پیش کرچکے ہیں ۔ ۱۔پندرہ مناجاتوں میں سے پہلی مناجات ، بحارالانوار ،جلد٩٤ ،صفحہ ١٤٢۔ ۲۔اُصول کافی ، جلد ٢ باب التوبہ ،حدیث ٨۔ 3۔اُصول کافی ، جلد ٢ باب التوبہ ،حدیث ١٠۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 66:8
[Pooya/Ali Commentary 66:8] The oft-forgiving Lord invites man to turn to Him with sincere repentance so that He may bestow His grace on him and forgive his sins. Sincere repentance implies giving up and discontinuing of evil in thought and action with a firm determination not to repeat it ever again. If it is done then Allah will wipe off his past sins and admit him to the eternal land of bliss and happiness. The Holy Prophet said: "A sincere repentant never sins again as the milk drawn from the breast never can go back to its source." Imam Ali said: "A sincere repentant (i) is ashamed of his past sins, (ii) takes up the duties overlooked and fulfils them, (iii) makes good the wilfully ignored conditions of a trust managed by him, (iv) forgives those who provoke him, (v) does not demand repayment of loans from those who are in financial distress, (vi) makes firm determination not to sin ever again, (vii) surrenders his self to the adoration, devotion and service of Allah when it had swelled to the point of exploding due to inordinate consumption of worldly pleasures, transgression and disobedience." For "those who believe with him" refer to the commentary of Fat-h: 29. In the light of Ahzab: 33, the Ahl ul Bayt alone are like the Holy Prophet in purity, wisdom and character because of which he took them with him in mubahilah (Ali Imran: 61), and because of which their love has been made obligatory on all Muslims in verse 23 of Shura, and they have been included in salawat or durud in verse 56 of Ahazab. Refer to the commentary of Baqarah: 2 to 5 (page 51) for what the Holy Prophet said about Fatimah Zahra. The Holy Prophet said: "Ali and I are from one and the same light." "The children of Fatimah and Ali are my children." "Husayn is from me and I am from Husayn." Not only Imam Hasan and Imam Husayn but all the Imams of the Ahl ul Bayt are referred to as "ibn rasulallah" (son of the messenger of Allah) by all the Muslim historians and scholars, no matter which school of thought they belong to. Refer to Sahih Bukhari, Kitab al Maghazi, vol. 3, page 41 for the saying of the Holy Prophet: "O Ali, you are from me and I am from you." Also refer to the commentary of Baqarah: 124. As stated in Sad: 75 the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt belong to the class of alin (the most exalted). The righteous companions of the Holy Prophet or those believers who lived after him and shall come in this world till the day of resurrection are classified into different categories according to the degree of their submission to the will of Allah. There were people whose behaviour has been described in the commentary of several verses pertaining to battles of Uhad, Khandaq and Hunayn, and at the time of the treaty of Hudaybiya and at the time of the departure of the Holy Prophet (hadith al qirtas), can at most reach the level of pardoned sinners. For "their light will run before them" refer to the commentary of Hadid: 12; Nur: 33 to 37.